ڈاکٹر نگہت نسیم کی کورونا ڈائری ۔۔ قسط نمبر 3‎

0
971

 جنوری 2020.8!

خدایا خیر ۔۔!

 

صد شکر !

 

اللہ پاک نے
ہم سب کی دعاؤں کو اذن باریابی عطا کیا
ستمبر 2019 سے 8 جنوری 2020 تک
آسٹریلیا میں
مسسل دہکتی آگ پر بارش کا جادو چل گیا
لوگ کہتے ہیں
اس آگ سے
ایمیزون کے جنگلات کی آگ سے 6 گنا زیادہ نقصان ہوا
معیشت کو 4 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر کا خسارہ ہوا
ہو ا ہو گا ۔۔۔۔
میں نے
تشکر سے
کھڑکھی سے باہر دیکھا
بارش اب بھی برس رہی ہے
بنجر زمین نئی امیدوں کے نئے خواب اگا رہی ہے
اور ۔۔۔ دوسری طرف
ووہان میں
ناول کورونا وائرس ایک نئی کروٹ لے رہا ہے
خدایا خیر ۔۔
میں نہیں جانتی کیا ہونے والا ہے۔۔؟؟

——————————

جنوری 2020.9! 

پہلی موت !

دل بہت اداس ہے
چین نے ابھی ابھی
ناول کورونا وائرس سے ہونے والی
پہلی موت کا اعلان کیا ہے
ایک 61 سالہ شخص ہے
گیلے بازار سے
سمندری غذایئں خریدی تھیں
کھانا کھاتے ہی شدید بیمار ہوگیا
علاج ہوا ۔۔۔ پر بہتر نہ ہوا
اور 9 جنوری کی شام کو دل بند ہو گیا
اور وہ ۔۔۔۔۔ ووہانی رخصت ہو گیا
وبا کے دنوں کی
پہلی موت
سوچوں کے نئے در کھول گئی !

# # # # # #

جنوری 2020.10 !

گیلے بازار

پرنٹ میڈیا اور برقی میڈیا پر
ایک ہی خبر کی بازگشت ہے

آخر یہ وبا آئی کہاں سے
پھیلی کیسے ؟
اب ہو گا کیا ؟
کئی تھیوریز ( نظریات) سامنے آچکے ہیں
چین کے کسی علاقے میں
ہوا میں اڑتی ایک چمگادڑ نے
اپنی لید میں کورونا وائرس چھوڑا
یہ وائرس جنگل کی زمین پر گرا
اور پینگولین کے فضلے سے جا ملا
پھر یہ وائرس پینگولین سے دوسرے جانوروں میں پھیلا
لیکن ۔۔
وہ متاثرہ جانور کونسا تھا جو انسانوں کے ہاتھ لگا ؟؟
معدومیت کا شکار پینگولین
چیونٹیوں اور کیڑے مکوڑوں کو کھانے والا
دنیا میں سب سے زیادہ سمگل ہونے والا
چین کی روایتی ادویات میں استعمال ہونے والا
کیا پینگولین وائرس پھیلنے کی وجہ ہے
ابھی تک اس کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی
ریسرچ کرنے والے کہہ رہے ہیں

گیلے بازاروں میں
پینگولین ۔۔۔ کئی طرح کی چمگادڑیں
زندہ اور ذبح شدہ جانور فروخت ہوتے ہیں
ووہان کے
گیلے بازار
یکم جنوری سے بند پڑے ہیں !
ماہرین کے مطابق
جو وائرسز جنگلی حیات سے
انسانوں میں منتقل ہوئے
آج اس کا نام ” ناول کورونا وائرس” ہے
کل یہی وائرسز ایبولا اور سارس تھے
او مائی گوڈ ۔۔۔ !
گویا ! خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے
صبح سے شام
مریضوں کی دیکھ بھال میں ہو گئی
اس وقت رات کے بارہ بجنے والے ہیں
اور نیند کا دور دور تک پتہ نہیں ہے
ہر کروٹ پر بے چینی لکھی ہوئی ہے
سوچ رہی ہوں
انسان جوں جوں
جنگلات پر قبضہ کرتا جا رہا ہے
جس طرح
جانوروں کو ۔۔۔۔ حشرات کو
ان کے ملکوں ، علاقوں اور ماحول سے جدا کر رہا ہے
اسی طرح
انسانی آبادی نئے نئے وائرس کی زد میں آ رہی ہے
کاش ۔۔
چین ، ویتنام اور جنوب مشرقی ایشا میں
گیلے بازار
ہمیشہ کے لئے بند ہو جایئں
کاش ۔۔
آج کا انسان
جانوروں اور حشرات کو
ان کے جنگل آج ہی انہیں واپس کر دے
تاکہ ۔۔
ہم ‘ اگلے طوفان ‘ کو آنے سے روک سکیں
اے کاش ۔۔۔

نوٹ :
استفادہ
گیلے بازارایسے بازار جہاں زندہ جانوروں کو پانی میں رکھا جاتا ہے
زولوجیکل سوسائٹی آف لندن کے پروفیسر اینڈریو کنگھم کی رپورٹ
ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی کی پروفیسر ڈیانا بیل کی رپورٹ
یونیورسٹی کالج آف لندن کی پروفیسر کیٹ جونز کی رپورٹ

# # #

 جنوری 10 2020 کی رات!

ووہان شرمندہ ہے !

میرے سامنے
ڈبلیو ایچ او کی تازہ رپورٹ پڑی ہے
ناول کورونا وائرس
ووہان کی سرحدوں کے پار
سولہ ملکوں کو برباد کرنے پہنچ گیا ہے
نو ہزار لوگوں میں 5974 کو موت کے قریب لے آیا ہے
ووہان شرمندہ ہے
دشمن اسے مات دے رہا ہے ۔۔اور وہ کف افسوس مل رہا ہے
ہتھیاروں اور ایٹم کی جنگ ہوتی تو بات کچھ اور تھی
یہ جنگ تو خوف اور اندیشوں کی جنگ ہے
جو نفسیات کے میدان پر کھیلی جا رہی ہے
اف کیا ہونے والا ہے ۔۔؟
سانس کا شدید انفیکشن اور تا حال علاج موجود نہیں
دنیا کے چھوٹے بڑے سارے ڈاکٹرز
ایک اعصاب شکن جنگ کے لئے خود کو تیار کر رہے ہیں
کیا ۔۔۔۔۔۔ خدا نے
ہم انسانوں کی لگامیں کھینچنے کا ارادا کر لیا ہے؟

ووہان میں ڈاکٹر نگہت نسیم

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY