میرا خیال تھا کہ شادی ایک مکمل ذمہ داری اور سنجیدہ لوگوں کا کام ھے ۔لہذا بتیس سال کی عمر تک میں سنجیدگی سے اس ذمہ داری سے بھاگتا رہا ۔
ماں، زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی مگر میری نفسیات سمجھتی تھی اسے پتہ تھا کہ دل میں سوراخ لئے کہاں تک بھاگے گا ۔۔
دوپٹے کے کونے کو مروڑ کر اس نے میرے دکھ سنبھال رکھے تھے ریزگاری کی طرح گنا کرتی تھی
سات ستمبر 1997
دو برسوں کی مسافت اور ہزاروں میل کی تھکن لئے لوٹا تو رات ماں نے دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
میٹھی میٹھی چاندنی میں لپٹی ٹھنڈک تھی ۔
وہ جانتی تھی کہ دیواریں مجھ سے اس کی باتیں کرتی ہیں ۔میں اور کمرہ جاگتے ہوں گے ۔
ہم دونوں باھر چھت پہ پڑی اکلوتی چارپائی پہ بیٹھ گئے ۔
“پھر کوئی نہیں ملی “؟
“ملی تھی، مگر میں بھاگ نکلا “میں نے ہنس کر اپنا سر ان کی گود میں رکھ دیا۔وہ اداس ہوگئی ۔
“سنو پتر ۔اگرتمہارے لئے محبت اس ایک کڑی کا نام ہے تو پھر یقین کرلو ہر زنانی ہی محبت ھے اور اگر تم محبت ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سامنے کون ھے،
تو کس سے بھاگا تھا “؟
“اپنے آپ سے “میں نے اس کا دوپٹہ اپنے منہ پہ لے لیا
“پتر سلیم، تاخیر نکاح سے انسان جتنے گناہ کرتا ھے ۔اس کے ماں باپ کے کھاتے میں جاتے ہیں”ماں کا اپنا ہی فلسفہ تھا
“یہ کس نے کہا ھے “؟میں نے حیرانی سے پوچھا
“کسی نے نہ بھی کہا ہو، پر پتر میں ایسا ہی سوچتی ہوں ”
ماں سچ مچ سنجیدہ ہوگئی
“تیرے جیسے آوارہ، آنکھ کھلتی نہیں اور عاشقیاں کرنے چل پڑتے ہو ۔بدنامی ماں باپ کو بھگتنا پڑتی ھے ۔ دیکھ کتنے سال ہو گئے تیری ناکامی کا رنڈی رونا نہیں مک رہا ،تو دکھ جتاتا ہے تجھے دکھ ہے نہیں ،مجھے تیرا دکھ ہے مگر میں جتا نہیں سکتی ۔”ماں سسک پڑی
گود میں لیٹے ہوئے میں نے چاند کی لو میں پلکوں پہ ستارہ چمکتے دیکھا ۔
“آپ جو چاہو گی، میں ویسا کروں گا “میں نے ہمیشہ کی طرح کہا
“کہتے تو ہو، پر کرتے نہیں ہو، مجھے پتہ ھے اگر میں نے تیری شادی نہ کی تو میرے بعد یہ کبھی نہیں ہوگی ”
ماں نے شائد اور بھی بہت کچھ کہا وہ سادہ بات کرتی تھی اس نے ڈھیر ساری سادگی سے سمجھایا
محبت ایک مسئلہ ہے اسے سلجھایا نہیں جاسکتا ھے ۔ختم نہیں کیا جاسکتا۔مگر اس کو کسی اور رنگ میں کارآمد بنایا جاسکتا ھے۔
کسی کی ڈھیر ساری محبت کو تھوڑا تھوڑا بانٹ دو ۔بوجھ کم ہو جائے گا ۔۔۔
میں نے ماں کی بات مان لی ۔اورچھ دسمبر 1998میری شادی ہوگئی
شادی کے بعد پتہ ہی نہیں چلا کہ محبت بانٹتے بانٹتے میں کتنے حصوں میں بٹ گیا؟
ماں مجھ سے بہت خوش تھی۔
شاید کرشن چندر نے کہا تھا محبت صرف ایک بار ہوتی ھے ۔دوسری تیسری محبت نری طوائفیت ھے۔
میں نے بھی پھر محبت نہیں کی ،جو پہلی تھی اسے بھی بانٹ دیا ،شادی کے بعد میں پہلی محبت کو یاد کرکے کبھی رویا نہیں ہوں، جب بھی وہ یاد آئی کھلکھلا کر ہنس دیتا ہوں، اس کے ساتھ بیتے لمحوں کے سارے رنگ اس سے وابستہ سارے خواب میں نے اپنی بیوی کو دیدئے ہیں،
میں جان گیا ہوں کہ عورت سے وابستہ ہر رشتہ محبت ھے ۔
میں محبت ہوں












