اسلام آباد دھرنے والوں کے ہاتھوں یرغمال بن گیا، مذہبی جماعت کے فیض آباد چوک پر دھرنے کو آج دسواں روز ہوگیا، بچے، بڑے، بوڑھے، جوان سب پریشان ہیں ۔
شہر اقتدار کی اہم ترین شاہراہ پر آج کل ایک نئی بستی آباد ہے،غلیل کیسے چلانا ہے، اس کی پریکٹس بھی جاری ہے، جا بجا کوڑے کے ڈھیر پڑے اور کنٹینرز رکھے ہیں، رکاوٹوں کے باعث راستے بند ہیں۔
راول پنڈی اسلام آباد والے اپنے ہی گھر میں بے گھر ہوگئے، رل گئے،دھرنے کو آج دس روز ہو گئے۔
جہاں راول پنڈی اسلام آباد کی درمیانی شاہراہ کا محاصرہ تو جوں کا توں جاری ہے وہیں حکومت او ر انتظامیہ کے کانوں پراب تک جوں نہیں رینگی۔
دھرنے والوں کا راولپنڈی اسلام آباد کے عوام کی زندگی اجیرن کر کے خوب جشن جاری ہے، انتظامیہ اپیلوں سے آگے نہیں بڑھ پا رہی۔
مذہبی جماعت کے ڈنڈا بردار مٹھی بھر مظاہرین سڑکوں پر سارا دندناتے پھرتے ہیں تو ان کی قیادت خیمہ بستی کے اندر موجود رہتی ہے۔
راول پنڈی اسلام آباد کے شہری مظاہرین کے ہاتھوں یرغمال ہیں، راول پنڈی اسلام آباد آنے جانے کا 10منٹ کا راستہ اب متبادل راستوں اور گھنٹوں پر محیط ہو چکا۔
میڑو کی بندش کے باعث عوام ٹیکسی کے کئی سو گنا زائد کرائے دینے پر مجبور ہیں، حکمران انتظامیہ، پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے سب بے بس اور یرغمال دکھائی دے رہے ہیں، انتظامیہ نے مسئلے کا حل یہ نکالا کہ عوام کو پریشانی سے بچنے کے لیے کئی نئے متبادل راستے اختیار کرنے کی تلقین کے ساتھ فہرست جاری کر دی۔
عوام کے ساتھ ساتھ اب ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری ملازمین کو بھی دھرنے کے ثمرات کا سامنا ہے۔
دھرنے کے باعث الیکشن کمیشن میں زیرسماعت مقدمات تاخیر سے شروع ہوئے تو پارلیمانی کمیٹیوں کی کارروائیوں میں بھی تاخیر ہوئی۔
سائلین عدالتوں تک،بچے اسکولوں تک، ملازمین دفاتر تک تاخیر سے پہنچے، راول پنڈی اسلام آباد کے لوگ جس مرضی عذاب سے گزریں، قانون خاموش ہے، انتظامیہ کو نظر لگ گئی، حکومت ڈھونڈنے سے نہیں مل رہی۔
اسلام آباد دھرنے والوں کے ہاتھوں یرغمال بن گیا
752
0












