۔روشنی حرا سے (116)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
528

ہم گزشتہ قسط میں غزوہ حنین کے واقعا ت بیا ن کرتے ہو ئے یہاں تک پہنچے تھے کہ اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے اپنے نبی (رض) کی فرشتوں کے ذریعہ نصرت فرمائی ،یہاں تک کے کفارکو پو ری طرح شکست ہو گئی ۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں ۔وہاں قیام کے دوران رسول اللہ (ص) کے سامنے ما لِ غنیمت اور قیدی پیش کیے گئے ،جن میں چھ ہزار عو رتیں اور بچے بھی شا مل تھے۔ان پر حضرت سعد (رض) بن عمروغفا ری کو حضور (ص) نے نگرا ں مقرر فر مایا اور ان کو حکم دیا کہ جعرانہ یا جر عا نہ میں قیام کر یں۔اس کے بعد حضور (ص) طا ئف کی طر ف روانہ ہو گئے ۔ وجہ یہ تھی کہ حنین کے اکثر بھگو ڑے وہیں جا کر پناہ گزیں ہو ئے تھے ۔اس لئے کہ سر زمین عرب پر اب اس سے بہتر جگہ اسلام دشمنی کےلئے ، کو ئی اور نہیں بچی تھی ۔آپکو یا د ہو گا کہ طا ئف ہی وہ جگہ تھی، جب حضور (ص) نے مکہ کے کفا ر سے ما یوس ہو کر ہجرت سے پہلے ان کی مدد لینا چا ہی، تو انہو ں نے مدد دینے کے بجا ئے حضور (ص) کو تما شہ بنا لیا اور ان (ص) کے پیچھے لڑکے لگا دیئے ۔جنہو ں نے پتھر ما ر ما ر کر حضور (ص) کو لہو لہان کر دیا ۔ اس وقت حضرت جبرئیل (ع) آئے اور حضو ر (ص)سے پو چھا کہ اگر حکم ہو تو مجھے یہ اختیار دیا گیا ہے ،کہ طا ئف کے اطراف کے پہا ڑ اٹھا کر ان پر پھینک کرہلا ک کر دوں۔ لیکن رحمت ِ عا لم (ص) لو گو ں کی ہلا کت کےلئے تشریف نہیں لائے تھے ۔ان (ص) کی نگا ہیں بہت دور تک دیکھ رہی تھیں اور اللہ نے انہیں (ص) جو بصا رت عطا فر ما ئی تھی کا م میں لا تے ہو ئے انتہا ئی تحمل سے فر ما یا نہیں !مجھے (ص)امید ہے کہ یہ اور ان کی اولا دیں ایک دن مسلما ن ہو نگی ۔اور وہ دن اب قریب آگیا تھا ۔ حضرت عروہ اورمو سٰی بن عقبہ راوی ہیں کہ ما ہ شوال میں ہی حضور (ص) حنین سے طا ئف کی طر ف روانہ ہو ئے۔وہ سب سے پہلے نخلہ یما نیہ پہنچے پھروہاںسے قرن ہو تے ہو ئے ملیح اور اس کے بعدلیہ کے بحرة الرغا ءمیں قیام فر ما یا۔وہیں آپ (ص) نے ایک عدا لت بھی منعقد کی اور قصا ص میں پہلا اسلام کے مطا بق فیصلہ صا در فر ما یا ۔مقدمہ یہ تھا کہ بنی لیث کے کسی شخص کو بنی ہذیل کے آدمی نے پرا نی دشمنی کی وجہ سے قتل کر دیا ،اس کے ورثا معا وضہ پر راضی نہ ہوئے لہذا اس کے بد لے میں حضو ر (ص) کے حکم پر اس کاقاتل قتل کر دیا گیا ۔پھر آپ (ص) کو سامنے ایک کچا قلعہ نظر آیا استفسا ر کر نے پر پتا چلا کہ یہ عو ف بن ما لک کی ملکیت ہے لہذا جنگی حکمت عملی کے تحت اس کو اپنے سا منے منہد م کر وا دیا۔ کیو نکہ یہ اس کا امکا ن تھا جوکہ طائف سے فرار ہو کر پھر اس میں پنا ہ گزیں ہوا تھا تاکہ پیچھے سے اسلا می لشکر پر وار کر ے ۔ آپ لو گ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ وہ چھا پہ ما ر جنگ کا ما ہر تھا اور وہی شروع سے اس نے اپنا ئی ہو ئی تھی ۔پھر آپ (ص) نے جو راستہ اختیا کیا یا تو وہ ضیقہ ہو کر جا تا تھا یا اس کا نا م ہی ضیقہ تھا ۔ جب حضو ر (ص) نے اس کا نا م سنا تو فر ما یا انشا اللہ یہ ضیقہ یعنی تنگ نہیں ہما رے حق میں آسان ہو گا۔ اس کے بعد نخلہ میں ایک درخت کے زیر ِ سا یہ قیام فر ما یا جس کا نا م صادرہ تھا، اور اس کے چا روں طرف کی زمین بنی ثقیف کے ایک شخص کی ملکیت تھی۔ وہاں ایک چھو ٹی سی گڑھی بنی ہو ئی تھی، جس میں وہ مو رچہ بند تھا۔ جو کہ اسلا می لشکر کے عقب میں ہو نے کی وجہ سے خطر نا ک ہو سکتی تھی۔ لہذا حضو ر (ص) نے اس کو پیغا م بھیجا کہ وہ ا ظہا ر دوستی کے لیئے گڑھی سے با ہر آکر ملے ،مگر وہ نہیں آیا اس لیے حضو ر (ص) کے حکم پر اس کو حملہ کر کے مسما ر کر دیا گیا ۔آگے حضرت ابن ِ عبد اللہ بن عمر (رض) کے حوالے سے ایک واقعہ بیا ن ہوا ہے کہ ”جب ہم لو گ حضور (ص) کے ہمرا ہ طا ئف کی طر ف سفر کر رہے تھے تو ایک قبر پڑی حضو ر (ص) نے دیکھ کر فر ما یا کہ یہ قبر بنی ثمو د کے ایک شخص ابی رغا ل کی ہے۔جب ثمود پر عذاب ِ الٰہی نا زل ہو ا تو یہ بھا گ کر یہاں آگیا تھا،اور اس کے سا تھ ایک بڑا خزا نہ بھی تھا جو کہ اس کی وصیت کے مطا بق اس کے سا تھ ہی دفن کر دیا گیا تھا۔ جب اس کی قبر کھودی گئی تو وا قعی اس میں سے ایک بہت بڑا خزا نہ نکلا۔اس خزا نے کے با رے میں بعض روایتو ں کے مطا بق اہل ِ عرب جا نتے تھے ۔مگر ان کی دوسری تو ہم پر ستیوں کی طرح یہ بھی مشہو ر تھا کی جو اس کی قبر کو چھو ئے گا، وہ مصیبت میں مبتلا ہو جا ئے گا ۔اسے اللہ تعا لیٰ نے صدیو ں سے مسلما نوں کےلئے محفو ظ کر رکھا تھا اور اب انکے کا م آیا ۔یہ روایت ان کے علا وہ حضرت ابو دا ؤد (رح) نے بھی بیا ن کی ہے ۔پھر اس کے بعد حضو ر (ص)نے طا ئف پہنچ کر قلعہ کے سا منے پڑا ؤ ڈا لنے کا حکم دیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں کہ اسلام لا نے کے بعد بنو ثقیف نے ایک مسجد تعمیر کروائی تھی جس پر ایک عجیب اور غریب گنبد بھی بنایا تھا جس پر کسی وقت بھی دھو پ نہیں پڑتی تھی ،مگر بعض مورخین نے گنبدکی تردید کی ہے واللہ عا لم ۔ وہاں قیام کے دوران طا ئف کے لو گوں اور پنا ہ گزینوں کو پیغا م بھیجا گیاکہ اگر وہ اسلام لے آئیں اور با ہر نکل آئیں تو انہیں معا ف کر دیا جا ئیگا ۔لیکن انہو ں نے قطعی طو ر پر انکا ر کرتے ہو ئے کمین گا ہوں سے تیر اندا زی کر کے جواب میں کئی صحا بہ کرا م کو شہید کر دیا ۔ کچھ مو رخین کے مطا بق اس کا محاصرہ سترہ یا بیس دن رہا پھر صحا بہ کر ام دبابے میں بیٹھ کر قلعہ تک پہنچ گئے اور اسلا می لشکر نے منجیق کے ذریعہ پتھر بر سا نے شروع کیے، حضرت ا بی سلمہ (رض) کو یمنی نو آبا دی جرُش میں دبا بہ منجیق اور ضبر کی مزید تر بیت کے لیئے بھیجا ہو ا تھا۔جو کہ حنین میں شریک نہیں تھے۔ مگر طا ئف کے مو قعہ پر واپس آکر جنگ میں شا مل ہو گئے تھے۔شاید بے تیغ لڑنے والے سپا ہیو ں کو اس میں کو ئی سبق ہو جو حضور (ص) نے ہما رے لیئے چھو ڑا ہے ؟اکثر دبا بہ اور منجیق کو لو گ ایک ہی چیز سمجھتے ہیں ضبر کو تو جانتے ہی نہیں ہیں ۔مگر یہ ایک چیز نہیں بلکہ دو علیحدہ چیزیں تھیں ۔ جو مختلف کا مو ں کے لیے استعما ل ہوتی تھیں ۔دبا بہ ایک لکڑ ی سے بنا ہواڈ ھانچہ ہو تا تھا ،جس پر کھا ل منڈھی ہو تی تھی اس کو آڑ بنا کرکے آگے بڑھنے کا کام لیتے تھے، اور منجیق کے ذریعہ سے قلعوں پر سنگ باری کر کے قلعہ کی فصیلوں میں رخنے ڈا لتے تھے ۔جبکہ ضبر وہ قطا ر کہلا تی تھی جو ڈھا لو ں کو ملا کر بنا ئی جا تی تھی اور اس کے سا یہ میں بھی آگے بڑھا جا تا تھا۔بعض مور خین نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ منجیق اہل ِ طا ئف کے پا س تھیں اور انہو ں نے اسلا می لشکر پر پتھر برسائے۔ یہ تا ریخی اعتبا ر سے اسلئے درست نہیں کے منجیقیں کھلے میدا ن میں پتھر برسانے کےلئے نہیں ،بلکہ قلعہ شکن ہتھیا رہے اور آپ لو گ غزوہ خیبر میں پڑھ چکے ہیں کہ یہ مسلما نو ں کو وہاں کے ایک قلعہ سے ہا تھ لگی تھیں، پھر مسلما نوں نے انہیں کے خلا ف اس کو استعما ل کیاتھا ۔ وہیں سے یہ ہنر مسلما نوںکے ہا تھ آیا تھا۔ان کے استعمال کے باوجود بھی جب قلعہ کے فتح ہو نے کے آثا ر نظر نہیں آئے تو حضور (ص) نے غلا موں کےلئے جو کہ قلعہ کے اندر تھے عام معا فی کا اعلان کر دیا کہ “ جو وہاں سے با ہر آ جائےگا اور ایما ن لا ئے گا اس کو آزاد کر دیا جا ئے گا “اس کو امام احمد (رح) نے بشرط ِ ایمان لکھا ہے۔ لیکن بعض مورخین نے اس شرط کا ذکر نہیں کیا ہے لیکن حضور (ص) کے طریقہ کارسے اغلب یہ ہی ہے جو اما م احمد (رح)نے تحریر فر ما یا ہے ۔کچھ غلام بھا گ کر اسلامی لشکر میں آگئے اور انکو آزاد کر کے کسی مسلمان کی کفا لت میں دیدیا گیا۔کیو نکہ آزادی کے بعد ان کی آبا د کا ری بھی ایک مسئلہ تھی کہ ان بیچا روں کو نہ اپنے قبیلوں کا پتہ تھا نہ رشتے داروں کا ۔بہر حال جب طویل محاصرے سے اہلِ قلعہ تنگ آگئے اور ان میں پھو ٹ کے آثا ر نظر آنے لگے ،تو انہو ں نے اسی میں عا فیت سمجھی کہ صلح کر لی جا ئے۔ لہذا ایک وفد جس میں مغیرہ بن شعبہ اور دوسرے سردار شا مل تھے، حضو ر (ص) کی خدمت ِ اقدس میں امن کی درخواست لیکرحاضر ہوئے۔ اور آپ سے بنی ثقیف کو بھی معا ف کر دینے کی درخواست کی، جو کہ آپ نے بشر ط ِ قبو لِ اسلام قبول فر مالی۔لیکن اہلِ طا ئف نے پو رے قبیلے کے قبول اسلام کے لیے کچھ مدت ما نگی جو عطا فر ما دی گئی۔ اور انہو ں نے اگلے سا ل رمضا ن المبا رک میں من حثیت القوم اسلام قبو ل کرلیا۔ اس کے بعد حضرت عو ف (رض) بن ما لک کو ہی بعض اس کے قبا ئل پر عا مل مقرر فر ما دیا، اور طا ئف والوں کو بھی نہیں چھیڑا اور اس طرف سے مطمعن ہو کر آپ (ص)مکہ کےلئے روانہ ہوئے واپسی میں پھر جعرانہ میں قیام فر ما یا، جہا ں ما ل ِ غنیمت کے سا تھ حضرت سعد (رض) بن عمرو غفاری کو چھو ڑا تھا۔وہاں آپ (ص) سے ہوازن کے سربر آوردہ لو گ ملے، اور انہو ں نے معا فی کی درخواست ان الفا ظ میں کی کہ ان قیدیوں میں جو خواتین بند ہیں اس میں کچھ آپ (ص) کی دادیا ں اور پھو پھیاں بھی ہیں ،جن کا آپ کے بزر گو ں نے دو دھ پیا تھا چونکہ آپ کی طبعیت میں رحم بدر جہ اتم مو جو د ہے لہذا آپ (ص) ہما رے اوپر رحم فر ما ئیں حضو ر (ص) نے پو چھا تم کیا چا ہتے ہو ما ل یا با ل بچے ؟ انہو ں نے کہا کہ ہم اپنے با ل بچوں کو ترجیح دیتے ہیں، مگر آپ (ص)کے پاس کرم گستری کی امید لیکر آئے ہیں۔ (باقی آئندہ )

SHARE

LEAVE A REPLY