دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سبب جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سوا ارب سے زائد آبادی کے حامل ملک بھارت نے بھی لاک ڈاؤن میں کچھ نرمی کرتے ہوئے کچھ اسٹور کو کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔
بھارت میں اب تک 775افراد وائرس سے ہلاک اور 20ہزار سے زائد متاثر ہوچکے ہیں اور اسی وجہ سے ان اسٹورز کو خصوصی ہدایات کے ساتھ کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
بھارت میں بڑے شاپنگ مالز کھولنے کی ابھی بھی اجازت نہیں لیکن چھوٹے اسٹورز کو کھلنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس سے غریب و متوسط طبقے نے کچھ سکھ کا سانس لیا ہے۔
ایک آرکیٹیکٹ امیت شرما نے کہا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے، ہمیں کچھ چیزوں کو کھولنا ہو گا تاکہ ہماری معیشت کا پہیہ چلتا رہے، غریب لوگوں کی بھی کچھ آمدنی ہوتی رہے کیونکہ یہ وائرس ایک طویل عرصے تک چلنے والا مسئلہ ہے۔
گزشتہ ہفتے بھارت ننے مینوفیکچرنگ اور زراعت کے شعبوں کو کام شروع کرنے کی اجازت دے دی تھی یونکہ 24مارچ سے بھارت میں نافذ العمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے تھے اور اس لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کو صرف ادویہ اور ضروری اشیا خریفدنے کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت تھی۔
ایشیا میں دنیا کے دیگر ملکوں کی بات کی جائے تو چین میں لگاتار 10ویں دن کوئی بھی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔
جنوبی کوریا میں 10 نئے کیسز ضرور رپورٹ ہوئے لیکن لگاتار 8ویں دن رپورٹ ہونے والے یہ کیسز 20 سے کم تھے اور لگاتار دوسرے دن کوئی موت بھی رپورٹ نہیں ہوئی۔
تاہم سری لنکا میں وبا کے اثرات میں تیزی کے سبب لاک ڈاؤن میں سختی کردی گئی ہے جہاں دو تہائی سے زائد ملک میں ایک ماہ تک دن بھر کرفیو نافذ کیا گیا تھا جسے جزوی طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔
لیکن جعہ کو 46نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک بھر میں 24گھنٹے کے لاک ڈاؤن کو دوبارہ سے نافذ کردیا گیا تھا اور یہ کرفیو پیر تک نافذ رہے گا۔
دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 2لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے تدفین کا انتظام کرنے والے رضاکاروں کے اہلخانہ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ جو کام کر رہے ہیں وہ بہت مشکل ہے اور اس وبا کا سب سے زیادہ اثر ایسے ہی لوگوں پر ہوا ہے۔
بیلجیئم نے بتدریج لاک ڈاؤن میں نرمی کا لائحہ عمل تیار کر لیا ہے جس کے تحت 4مئی سے کورونا وائرس کے علاوہ دیگر مریضوں کے بھی ہسپتال میں علاج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بیلجیئم میں ٹیکسٹائل اور سلائی کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ چہرے کے ماسک کی تیاری کا عمل تیز ہو سکے۔
اس کے علاوہ بیلجیئم میں بار اور ریسٹورنٹ کو 8جون سے کھلنے کی اجازت ہو گی البتہ وزیراعظم صوفی ولمس نے خبردار کیا کہ متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کے نتیجے میں اس فیصلے پر نظرثانی اور لاک ڈاؤن میں توسیع کردی جائے گی۔
اتوار کو اسپین کے بچے لاک ڈاؤن کے عبد پہلی مرتبہ تازہ ہوا میں کھیل کود سے لطف اندوز ہو سکیں گے اور 44روزہ لاک ڈاؤن کے بعد انہیں اپنے کسی ایک کھلونے سے کھیلنے کی اجازت ہو گی البتہ وہ دیگر بچوں کے ساتھ مل کر نہیں کھیل سکیں گے۔
اس موقع پر ان کے ساتھ ایک بڑے کا ہونا لازمی ہو گا اور وہ ایک گھنٹہ سے زائد نہیں کھیل سکیں گے اور انہیں اپنے گھر سے ایک کلومیٹر سے زیادہ دور جانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی جبکہ اجازت ملنے کے بعد والدین نے اپنے بچوں کے لیے بڑی تعداد میں آن لائن ماسک بھی خریدنا شروع کردیے ہیں۔
میڈرڈ کی رہائشی ایوا نوویلو کی بیٹی ایما 7سال کی ہے اور انہوں نے کہا کہ میں باہت جانا چاہتی ہوں تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں بچوں کو کھلیل کے دوران ایک دوسرے سے دور رکھنے میں مشکلات پیش آئیں اور مجھے نہیں ممعلوم ہے ہم ان بچوں کو قابو میں رکھ سکیں گے یا نہیں۔
اٹلی میں 75ویں یوم آزادی پر لوگ اپنے گھروں کی بالکونی میں کھڑے پو کر جھنڈے لہرا رہے ہیں— فوٹو: اے پی
اٹلی میں 4مئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی کردی جائے












