ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 35

0
1574

میں سوتے جاگتے سوچ رہی تھی ۔۔ جب تک میں نے خود اپنی آنکھوں سے جانوروں کو قریب سے نہیں دیکھا تھا، مجھے بھی کئی لوگوں کی طرح ان سے محبت نہیں تھی ۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے شعبہ نفسیات میں ڈگری لینے کا ارادہ کیا 2006 میں میری پہلی ڈیوٹی کیمبل ٹاؤن کے نفسیاتی وارڈ کے واراٹا ہاؤس میں لگی تو میری ملاقات ایمرجنسی وارڈ میں لورین سے ہوئی ۔ لورین نرس کنسلٹنٹ اور سکاٹش تھی، سکاٹ لینڈ کے لوگ بہت حسین اور سمارٹ ہوتے ہیں لیکن ان کی زبان کو سمجھنا سب سے مشکل ہے۔ کچھ وقت مجھے اس کا لب ولہجہ سمجھنے میں لگا اور جیسے ہی مجھے اس کی سمجھ آنے لگی مجھے احساس ہوا کہ ہوا کہ وہ ناصرف خوبصورت ہے بلکہ اس کا دل اس سے زیادہ خوبصورت اور کشادہ تھا۔

مجھے اکثر اپنے گھر کی باتیں بتایا کرتی تھی ۔اس نے بتایا کہ اس کا شوہر 35 برس کی عمر میں برین کینسر سے مر گیا تھا ،اس قت لورین صرف تیس برس کی تھی ۔۔ اور اس نے نہ صرف اپنے بچوں کو پالا بلکہ ان کو بہترین انسان بھی بنایا اور خود دن رات ہوسپٹل میں کام کیا کرتی تھیں۔

لورین نے مجھے بتایا کہ اسکی تنہائی بانٹنے والے اس کے ساتھی جانور تھے ۔ وہ اپنی تنخواہ کا ایک تہائی حصہ ان پر خرچ کرتی تھی۔ اس کے پاس چھ بلیاں، دو کتے اور کئی پرندے تھے۔ بلیوں میں سے اس کا ایک بلا جس کا نام کنگ کوپر تھا وہ اسے بہت زیادہ عزیز تھا ۔ انہی دنوں کی بات ہے میری بیٹی آمنہ کی سالگرہ آگئی اور اس نے اپنی سالگرہ کا تحفہ ہم دونوں سے مانگا ۔۔ جو کہ ایک بلی تھی۔۔ بیٹی کی خواہش پوری کرنے کے لئے ہم جانوروں کے ہسپتال گئے اور یوں ہمارا پہلا بلا بگو گھر آگیا اور پھر اسکے تین مہینے کے بعد اس کی ساتھی بگینی گھر لے آئے اور یوں مجھے پہلے اپنا افسانہ ابو پاری لکھنے کا اعزاز ملا اور اس کے بعد کنگ کوپر اور بیلا لکھا ۔۔ یہ دونوں افسانے میرے دل کے بہت بہت قریب ہیں جنہیں لکھنے میں مجھے 5 سے 8 برس لگ گئے۔

بگو بگینی کے بعد پیارا سا ، چھوٹا سا سرمئی اور سفید شرارتی نونم ہمارے گھر آ گیا ۔۔ لیکن جو آتا ہے اسے واپس بھی جانا ہے ۔۔ ابھی دو برس ہی کا ہوا تھا کہ روڈ ایکسیڈنٹ میں پندرہ اکتوبر 2017 میں ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گیا ۔۔ ہائے اس کی کمی ہے کہ پوری ہی نہیں ہوتی ۔۔ نونم گارڈن کی تعمیر اسی کے نام سے شروع ہوئی تھی جوہمارے فرنٹ لان کا سب سے خوبصورت حصہ ہے ۔۔۔جہاں کھڑے ہو کر میں اکثر نونم سے باتیں کیا کرتی ہوں ۔۔۔ یہ میری زندگی کا پہلا بے زبان دکھ تھا جس نے مجھے اندر سے بہت بدل دیا تھا۔

ہائے دکھوں کی کیا تمثیل ہو ۔۔ ایک دکھ کے ساتھ کئی اور دکھوں کی گھٹڑیاں کھل جاتی ہیں ۔۔ ہوسپٹل میں اپنی ایک مریضہ کیلی سے بات کر رہی تھی ۔ حال کیا پوچھا کہ جیسے اس کے آنسوؤں کا چشمہ ابل پڑا ۔۔ ہچکیوں کے درمیان وقفہ کم ہونے لگا تو میں نے کیلی کو گلے سے لگا لیا ۔۔۔ وہ بتا رہی تھی کہ اس نے تین سال سے خرگوش پال رکھا تھا جس کو پیار سے وہ چنکی کہتی تھی ۔۔ پانچ جولائی کو بیمار ہوا اور چھ کو اس کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا ۔۔۔ اس کی ٹوٹتی نڈھال روتی آواز کے ساتھ ہی میرا بلا نونم میری آنکھوں میں ٹھہر گیا ۔۔۔ آہ ۔۔۔ میری آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔۔

محبتوں میں ہی تو سانجھ ہوتی ہے ۔ بھلا نفرتوں کو یہ اعجاز کہاں کہ ایک دوسرے کی سنیں ۔ محبت کی زبان ایک ، اس کے اشارے ایک ، اس کی جوت ایک ۔۔ اس کے دکھ سکھ سانجھے ۔۔۔ میرا نونم ہو کہ کیلی کا چنکی ۔۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے دکھی اور رنجیدہ تھے ۔ پر محبت تو خضر راہ ہوتی ہے ۔۔۔ پھول میلوں دور بھی کھلتے ہوں تو شہد کی مکھی وہاں پہنچ ہی جاتی ہے ۔۔ محبت راہنما بھی تو ہوتی ہے ۔
جاتے وقت کیلی کی آنکھوں میں چمک تھی اور میری آواز میں گرمجوشی ۔۔ ہم دونوں نے اپنی محبتوں کو محور دینے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔ وہ ایک اور چنکی لائے گی اور میں ایک اور نونم ۔۔۔ ہم خدمت کا نیا باب کھولیں گے ۔

یوں کالا ہماری زندگی میں شامل ہو گیا ۔۔ اور اس کا آنا ایسے ہوا کہ آمنہ کو صرف کالی بلی ہی لینی تھی کہ لوگ کہتے ہیں کالی بلی منحوس ہوتی ہے ۔ مجھے کالی بلی چاہیے تاکہ میں لوگوں کو یہ بتا سکوں کے اللہ کی کوئی مخلوق کسی کے لئے منحوس نہیں ہوتی اور جانور تو کبھی ہو ہی نہیں ہوسکتے ۔۔۔ یوں کالا بلا ہمارے گھر آگیا اور ہمارے گھر میں جیسے عید آگئی ہو اور کچھ ہی دنوں میں ہم سب آپس میں گھل مل سے گئے تھے ۔

غمگساری محبت اور اور شفقت جانوروں کا خاصہ ہے

درخت ، پودے ، پھول ، چرند پرند جانور سب توکل اور رضا کا سبق پڑھانے والے یہ بے زبان محبت کی تسبیح میں گھر والوں کو پرو دیتے ہیں ۔ ان کے دم سے اللہ پاک کی کائینات میں رنگ ، حسن اورپاکیزہ عشق کا والہانہ پن آباد ہے۔۔۔ ان پاکیزہ بےگناہ روحوں سے محبت کرنا عین عبادت ۔۔۔ ان کا خیال رکھنا عین سعادت ۔۔۔۔۔۔۔ !

سچ پوچھیں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے غمگساری محبت اور اور شفقت جانوروں کا خاصہ ہے ۔۔ مل جل کر رہتے ہیں ایک دوسرے کے آگے پیچھے ان کی حفاظت کرتے ہیں ۔۔ ایک دوسرے کی دلداری کرتے ہیں۔۔ دلجوئی کرتے ہیں۔۔ یہ وہ خوبیاں ہیں جو میں ان سے روز سیکھتی ہوں اور جب میں ان کی گندگی صاف کرتی ہوں جو مجھے لگتا ہے جیسے میرے اندر کہیں میری ” میں” مر جاتی ہے ۔۔ عاجزی اور انکساری سیکھنے کے لئے جانوروں اور پرندوں کا پالنا بہت ضروری ہے ۔۔۔

مجھے بے زبان جانور پالنے کے بعد یہ احساس بھی ہوا کہ اللہ پاک نے انسان کے دل میں ایک مخصوص گوشہ جانوروں کی محبت کا بھی رکھا ہوا ہے جس کا ادراک صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جنہوں نے جانور پال رکھے ہیں اور اس زبان سے بھی آشنائی ہونے لگتی ہے جہاں لفظ گونگے ہو جاتے ہیں ۔۔۔ مجھے لگتا تھا جیسے میں اپنے مریضوں کی ان کہی باتیں بھی سمجھنے لگی ہوں۔

ایک دن کبیر داس سے کسی نے پوچھا ہمیں عشق مجاز تو سمجھ آتا ہے پر عشق حقیقی تک کیسے پہنچا جائے یہ پتہ نہیں چلتا ۔۔۔ تو انہوں نے بڑی محبت سے کہا کہ ۔۔ وہ لوگ جو رب کی مخلوق سے پیار کرتے ہیں اور انہیں عزت دیتے ہیں وہ ہی عشق حقیقی تک پہنچ پاتے ہیں۔ رب کی مخلوق میں انسان ہی نہیں جانور پرندے پہاڑ سمندر دریا افشار پھول پتے گھاس سب شامل ہیں اور وہ اس لئے کے اللہ نے کہا کہ میں نے ہر جاندار کو اس کی معاشرت پر پیدا کیا ہے۔ اب جو جو سانس لیتا ہے وہ اس کی مخلوق ہے اور جو سانس نہیں لیتے وہ اس نے سانس لینے والوں کے لئے تخلیق کئے ہیں ۔ پھر بھلا ہم کیسے جانوروں سے دور رہ سکتے ہیں۔۔۔ پھول پتوں سے الگ ہوسکتے ہیں۔۔ درختوں کو کیسے کاٹ سکتے ہیں اور اوردریاؤں ، جھرنوں، آبشاروں، نہروں ، ندیوں ، سمندروں سے کیسے دور رہ سکتے ہیں۔۔

لیکن جو آیاہے اسے جلد یابدیر جانا ہی ہوتاہے ۔۔

میرے نونم کے بعد اکتوبر 2019 میں ہمیں بگو بھی چھوڑ گیا اور چھ ماہ پہلے کالا بھی نونم گارڈن میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جاسویا ۔ میں افسردہ سی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی کہ میری پڑوسن ایولین نے کہا ہمارا آرنلڈ آج سے آپ کا کالا ہے ۔۔ آرنلڈ جسے ہم پیار سے آنی کہتے تھے وہ بھی کالے جیسا ہی تھا ۔۔ بس ایک فرق تھا وہ بگو کی طرح اپنے نچلے ہونٹ سے لے کر پیٹ تک سفید تھا ۔۔ یوں آرنلڈ میں مجھے کبھی بگو دکھتا تو کبھی نونم اور کبھی کالا ۔۔محبت کے بھی کئی روپ ہوتے ہیں جو ہر روپ میں محبوب ہی لگتی ہے۔

مجھے یاد ہے ۔۔ نونم کے بچھڑنے سے پہلے کی بات ہے ۔۔ گرمیوں کے موسم تھا ۔۔ سڈنی میں اتوار اور پیر کو گرمی کی انتہا ہو گئی تھی ۔۔ ٹمریچر اکتالیس تک جا پہنچا ۔۔ میرے بلے بلیاں بگو ، بگینی ، نونم اور کالا کبھی گھر کے اندر آتے کبھی گھر سے باہر جاتے ۔۔ ننگے فرش پر بےدم پڑے تھے ۔۔ نا کھانا کھا رہے تھے اور نا ہی پانی پی رہے تھے ۔۔ ۔ باہر آسمان دیکھا تو درخت ، پھول ، پتے ، زمین ،در و دیوار تک جھلسے اور تھکن سے نڈھال سے لگ رہے تھے ۔۔ میرا دل دکھ سے بھر گیا ۔۔ نم آنکھوں سے کالے کو گود میں لئے گھر کے اندر آگئی ۔ ایئر کنڈیشن کی وجہ سے تھوڑے سے فرق کے ساتھ ٹھنڈ تھی لیکن حبس اتنا کہ جیسے سانس اب مشکل سے آئے گا ۔۔ کالا میری گود سے نکل کر دروازہ کھول کر واپس برآمدے کے فرش پر جا کر لیٹ گیا ۔۔ بے اختیار میں اس کے پیچھے پیچھے برآمدے میں آ گئی ۔

میں نے بے بسی سے دہکتے آسمان کی طرف دیکھا اور بے اختیار بولتی چلی گئی ۔۔
“ میرے مالک ۔۔ میں گنہگار ہوں ۔۔ تو مجھے نا دیکھ ۔۔ ۔۔ ان بے زبانوں کی طرف دیکھ ۔۔ کیسے گرمی سے نڈھال پڑے ہیں ۔۔ درخت سوکھ رہے ہیں ۔۔ پتے پھول مرجھا گئے ہیں ۔۔ زمین خشک ہو کر جگہ جگہ سے چٹخ رہی ہے ۔۔ ان کا کیا قصور ہے ۔۔ ان کے لئے ٹھنڈی ہوا چلا دے ۔۔ بادل بھیج دے ۔۔ بارش برسا دے میرے مالک ۔۔اپنی رحمت اور محبت کے صدقے جنگل ، پہاڑ ، درخت ، پھول پتے ، چرند پرند زمین آسمان ، بے زبانوں پر رحم کر دے ۔۔ میں اشکبار تھی ۔۔ سورج جیسے سوا نیزے پر آ چکا تھا ۔۔ بس میرے خدا ۔۔ اب بس کر دے “ اور نم آنکھوں سے میں واپس کمرے میں آگئی ۔۔

صدقے اپنے مالک کے ، اس نے مجھ گنہگار کی سن لی اور تھوڑی ہی دیر میں موسم نے کروٹ لی اور یقیننا جو ہوا چلی تھی وہ میرے رب کی منظوری لے کر جنت سے سیدھی آئی تھی جبھی تو اتنی تازہ ٹھنڈی اور معطر تھی ۔۔ درجہ حرات گرتے گرتے آدھی رات تک بائیس ہو گیا اور ساتھ ہی ہلکی ہلکی پھوار پڑنی شروع ہو گئی ۔۔ بگو ، بگینی ، نونم اور کالے نے آنکھیں کھول دیں اور خوش ہو کر داخلی دروازے سے دو سیڑھیاں نیچے اتر کر باہر چھجے کے نیچے آگئے ، اپنے چھوٹے چھوٹے پاؤں سے پھوار کوایسے چھو رہے تھے جیسے یقین کر رہے ہوں ۔۔ اور میں بھی انہیں کی طرح دعاؤں پر یقین کے مرحلوں سے گزر رہی تھی ۔۔
خوشی اور حیرانگی سے اپنے رب سے کہہ رہی تھی ۔۔
“ ہائے صدقے تو نے مجھ گنہگار کی سن لی ، میرے یقین کی لاج رکھ لی ۔۔ تو کتنا مہربان اور شفیق ہے ۔۔“
رب کے اتنے قریب محسوس ہونے کی خوشی لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی ۔۔جو مجھے ان بے زبانوں کے نصیب سے ملی تھی ۔
میرا یقین اور بھی پختہ ہو گیا تھا میرا رب دعا مانگنے والے کے گناہ قصور نہیں دیکھتا ۔۔۔ سب معاف کر دیتا ہے ۔۔ اور عطا کر دیتا ہے ۔

آج سے پانچ سال پہلے جب آمنہ جاب کے سلسلے میں کینبرا گئی تو وہ بینگل نسل کے بہن بھائی لیو اورکلیو اپنے گھر لے آئی ۔۔ وہ کہتی امی اگر یہ نہ ہوتے تو میں کینبرا میں اکیلی نہیں رہ سکتی تھی ۔۔ میں جانتی ہوں بے زبان ساتھی جتنا بول سکتے ہیں اتنی بات زبان والے نہیں کر پاتے ہیں ۔۔ اس کا کہنا بجا تھا۔

بات کہاں سے کہاں چلی گئی ۔۔۔کہنا یہ تھا کہ نونم ، بگو اور کالے کے جانے کے بعد بعد بگینی اکیلی رہ گئی تو ہم اس کے لئے بے حد خوبصورت خاکی اور سرمئی دھاریوں والا شرارتی سا بینو لے آئے لیکن اسے بچے بہت پسند تھے ، اس لئے آتے ہی پڑوس میں زیادہ رہنے لگ گیا کہ وہاں پر اسی کی طرح کے دو معصوم سے بچے اس سے کھیلا کرتے تھے ۔۔ اور بگینی کو ویسے ہی بگو کے جانے کے بعد اکیلے رہنے کی عادت ہو گئی تھی سو اسے بینو کی کمی محسوس ہی نہ ہوتی تھی ۔۔ ہاں آرنلڈ زیادہ وقت ہمارے گھر ہی گزارتا تھا ۔۔ تینوں اپنی الگ لگ شخصیت کے باوجود میرے بہت لاڈلے تھے ۔۔جن کا ان کو بھی معلوم تھا ۔ وہ بچوں کی طرح مجھ سے اپنی ہر بات منوا لیا کرتے تھے ۔۔۔ ٹریٹ زیادہ چاہیئے ۔۔ کھانے کئی طرح کے ہوں ۔۔۔ اور ان سب کا میرے ساتھ ٹی وی دیکھنا ۔۔ کتنی معصوم سی رونقیں اور خوشیاں تھیں جو ہم ایک دوسرے سے روز بانٹا کرتے ۔۔

اب جب سے میں بیمار ہوئی تھی تینوں میرے آس پاس زیادہ رہنے لگے تھے ۔۔ میں انہیں سمجھاتی اور بتاتی کہ میں ٹھیک ہوں ۔۔ مجھے کچھ نہیں ہوا ۔۔ لیکن محبت کی مجبوری تھی اسے وہم کی بیماری بڑی جلدی لگ جاتی ہے ۔۔۔ میری بگینی ۔۔ میرا بینو اور آرنلڈ وہمی ہو گئے تھے ۔۔ بلکل بگو کی طرح جب مجھے گردے میں تکلیف ہوئی تھی اور میں درد سے کراہ رہی تھی تو بگو اس وقت تک ساتھ رہا جب تک ایمبولینس مجھے ہوسپٹل نہ لے گئی ۔۔ یہ بات مجھے آمنہ نے بتائی تھی ۔۔میں تو درد سے زمین پر گر گئی تھی۔

دلداری کی اپنی ہی زبان ہوتی ہے ۔۔ جن سے یہ مالا مال ہو تے ہیں ۔ مجھے لگتا جیسے یہ بے زبان تسلیاں زندگی کی نوید ہوں ۔۔ بھلا ان کی دعائیں کیسے میرا رب نامنظور کر سکتا ہے ۔۔ میرا کل اثاثہ یقین ہی تو تھا ۔

میں جانتی تھی ۔۔۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY