بھارتی سپریم کورٹ نے عدالتی معاونین کو مقرر کر دیا جو اس بات کا جائزہ لیں گے کہ گاندھی کے قتل کی دوبارہ تحقیقات شروع کی جا سکتی ہیں یا نہیں؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے مہاتما گاندھی کے قتل کی دوبارہ تحقیقات کیلئے عدالتی معاونین کا تقرر کر دیا ہے جو اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا یہ اہم کیس دوبارہ کھولا جا سکتا ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ بھارت کے بانی رہنما موہن داس کرم چند گاندھی کو 30 جنوری 1948ء کے روز گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند ہندو نتھو رام گوڈسے کو گاندھی کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر 8 نومبر 1949 کو سزائے موت دے دی گئی تھی۔
انڈین سپریم کورٹ نے یہ اقدام ممبئی کے ایک رہائشی ڈاکٹر پنکج کی درخواست پر اٹھایا ہے۔ خیال رہے کہ ڈاکٹر پنکج ابھینو بھارت کے ٹرسٹی اور محقق ہیں۔ انہوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ بھارت کے بانی مہاتما گاندھی کے قتل میں صرف نتھو رام گوڈسے ہی نہیں بلکہ دیگر لوگ بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ گاندھی کا قتل انڈین تاریخ کا سب سے پراسرار معاملہ تھا، جس میں حقائق کو چھپایا گیا، اس لیے اس مقدمے کی دوبارہ تحقیقات ضروری ہیں۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس اس چیز کا ثبوت ہے کہ گاندھی کے قتل میں اور لوگ بھی لیکن اس وقت کی حکومت نے اس قتل کی صحیح طور پر تحقیقات نہیں کیں۔ ڈاکٹر پنکج نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نتھو رام گوڈسے کا بیان قلمبند کرنے والے تفتیشی کی دستاویزات کا فارنزک ٹیسٹ کیا جائے













