پاک ھے ذات اے خدا تیری
فرض ھے سب پہ ہی ثناء تیری
وقت سے ماورا تیری ہستی
ابتدا تیری انتہا تیری
انبیاء آلِ پاک ھوں کہ ولی
سب کو درکار ھے رضا تیری
کوئی عابد ھو یا کہ فاسق ھو
ایک سی سب پہ ھے عطا تیری۔
کون باقی ھے بزمِ ہستی میں
ذات ھے اک ہی لا فنا تیری
کون اُ س کی کرے شفاعت پھر ۔
ذات جس سے ہوئی خفا تیری ۔
حمد کہنا مرا علالت میں ۔۔
سب اسے کہتے ہیں عطا تیری
رنج و غم کے شکار بندوں کو ۔
یاد دیتی ہے حوصلہ تیری
حمد سب ہی بلال کہتے ھیں
ھاں مگر بات ھے جدا تیری
بلال رشید













