گانگن ۔ زارا مظہر

0
113

گانگن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کل شام میں سو رہی تھی
آ نکھوں کی نمی گال بھگو رہی تھی
اچانک بہت دن بعد اسکا فون تھا
آ واز میں بعد کرب گزرنے کا سکون تھا
کہا اس نے بہت تکلیف میں ہوں
جانِ جاں ! تمہاری ردیف میں ہوں
اف وہ رس بھری باتیں اسکی
جی کو برماتی مناجاتیں اسکی
کمال اسکا وہ لہجہ انگبیں
وقت سارے کا سارا نور آ گیں
کئی جگہ پہ سانس اٹکا تھا
اور بہت دفعہ دھیان بھٹکا تھا
چپ لمحے بھی ہوئے مشروح
سانسیں بھی اسی کی ممدوح
جب دَم ہوا دَمِ واپسیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تو دل کو ہونے لگا یقیں
وہ لوٹ آ ئے گا
وہ لوٹ آ ئے گا ؟

زارا مظہر

SHARE

LEAVE A REPLY