قسط 107
آپ امام عالی مقام
جنگ کے گہرے غبار میں دھنسے ہوئے
ذوالفقار سے حیدر کرار کی طرح قتال کر رہے تھے
اعداء نے
جب آپ کے دل کو
مضبوط اور بالکل بے خوف و ہراس دیکھا
تو
آپ کے لئے اپنے مکر کے جال بچانے لگے
اور
اپنی مخصوص سفیانی چالاکیوں اور شرارت کے ساتھ
آپ کے ساتھ قتال کرنے لگے
ملعون عمر بن سعد نے
اپنے لشکروں کو حکم دے دیا
کہ
پانی حسین (ع) تک نہ پہنچ سکے
سب لوگ تیزی کے ساتھ آپ سے قتال کرنے لگے
اور پے در پے ملے جلے حملے ہونے لگے
آپ کو تیروں سے چھلنی کر دیا
سب نے ظلم و ستم کے ہاتھ آپ کی طرف بڑھادیئے
نہ انہوں نے
آپ کے بارے میں
اپنی کسی ذمہ داری کو دیکھا
نہ
یہ …. کہ
آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو قتل کرنے میں
آپ کے سامان کو لوٹنے میں
وہ کتنے زبردست گناہ کے مرتکب ہوں گے
آپ غبار جنگ میں دھنسے ہوئے تھے
اور ہر ایک اذیت اٹھا رہے تھے
آپ کا صبر دیکھ کر
تو
ملائکہ افلاک بھی تعجب کررہے تھے
ظالموں نے ہر طرف سے آپ کو گھیرلیا
اور
زخم پر زخم پہنچا کر آپ کو مضمحل کردیا
دم لینے کی مہلت نہ دی
آپ کا کوئی مددگار نہ رہا تھا
بیکسی کے عالم میں انتہائی صبر وضبط کے ساتھ
آپ اپنی مستورات اور بچوں کی طرف سے ہجوم اشقیاء کو ہٹا رہے تھے
یہان تک
کہ
انہوں نے آپ کو گھوڑے سے گرادیا
آپ زخموں سے چور ہوکر زمین پر گرے
لشکر کے گھوڑے
اپنے سموں سے آپ کو کچل ربے تھے
اور
سرکش ستمگر اپنی تلواریں لئے آپ پر چڑھے چلے آتے تھے
موت کا پسینہ آپ کی پیشانی پر آیا ہوا تھا
اور
آپ کے دست وپا ادھر ادھر سمٹتے اور پھیلتے تھے
آپ چشم نیم وا سے
اپنے کنبہ اور اپنے بچوں کو دیکھ رہے تھے
حالانکہ
اس وقت
آپ کی خود کی حالت تو ایسی تھی
کہ
آپ کو اپنے کنبہ کا اور بچوں کا دھیان نہ آسکتا تھا
اس وقت
آپ کا گھوڑا
ہنہناتا اور روتا ہوا آپ کے خیام کی طرف چلا
جب
اہلِ حرم نے
آپ کے رہوار کو بے سوار دیکھا
اور
زین اسپ کو نیچے ڈھلکا ہوا دیکھا
تو
بے قرار ہوکر خیموں سے نکل پڑیں
اور
بال بکھرائے ہوئے منہ پر طمانچے مارتے ہوئے
نوحہ وبکا کرتے ہوئے
اپنے بزرگوں کو وارثوں کو پکارتے ہوئے
جبکہ
اپنی اس مخصوص عزت و شوکت کے بعد
حقارت کی نظر سے دیکھے جا رہے تھے
سب کے سب
آپ عالی مقام کی قتل گاہ کی طرف تیزی سے جا رہے تھے
جاری ہے













