دعاؤں کے چراغ، اشاعت مکرر

0
1669

ممتاز شاعرہ ڈاکٹر نگہت نسیم کارسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت رسول سے منسوب دعاؤں کااردو ادب میں پہلا منظوم مجموعہ کلام
تحریر:۔محمداحمد ترازی(کراچی)
محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اردو ادب کا ایک بڑا نام اور معتبر حوالہ ہیں۔ڈاکٹر صاحبہ ہمہ گیر شخصیت کی مالک ہیں۔ذہنی و جسمانی بیماروں کی معالج و مسیحا ہیں۔مشہور و معروف ادیبہ ہیں۔ صحافی ہیں۔مترجم ہیں۔بڑاڈ کاسٹرہیں۔کالم نگاری، افسانہ نویسی اورشاعری اردو ادب میں آپ کی پہچان ہے ۔ لیکن اِن سے بڑھ کر آپ ایک مہربان و شفیق اور ددر مند دل رکھنے والی انسان دوست شخصیت بھی ہیں۔ اور اُس شجر سایہ دار کی مانند ہیں جس کے سایہ عافیت میں ہم کیا سب ہی راحت و سکون پاتے ہیں۔ اردو ادب میں ”گرد بار حیات”،”مٹی کا سفر”،”یہی دنیا ہے یہیں کی باتیں”،”زاد راہ ِ عشق” اور” دعاؤں کے چراغ” جیسی پانچ خوبصورت کتابیں آپ کے ادبی ذوق کی علامت اور علم وفن کی پہچان ہیں۔
وطن کی مٹی سے ہزاروں میل دور ،دیار غیر میں ہونے کے باوجود ڈاکٹر صاحبہ کا وجود وطن کی ہواؤں میں سانسیں لیتا ہے ۔ گلی محلوں میں گھومتا ہے۔ دل مظلوم لوگوں کے ساتھ ڈھرکتاہے ۔ دماغ اُن کی بے بسی و بے کسی کے بارے میں سوچتا ہے۔اورقلم مظلوموں کے مصائب وآلام کی ترجمانی کرتا ہے۔ درحقیقت ڈاکٹر صاحبہ کی تحریریں صداقت کی لگن ،دیانت کی دمک،عوامی آرزؤں اور اُمنگوں کی چمک سے لبریز، ارباب اقتدار کی نااہلی و بے حسی کی عکاس اور اپنے ماحول و معاشرت کی آئینہ دار ہیں۔
ڈاکٹر صاحبہ کے مضامین میں اپنے تمدن،اپنی اقدار،اور اپنی روایات سے لازوال اور اٹوٹ وابستگی کا احساس نمایاں ہے۔دلکشی ، معنویت اور جاذبیت کے گہرے اثر اورفکرو نظر کی پختگی کے ساتھ تحریر میں ایسا بانکپن ہے جو براہ راست قلب و ذہن کی طرف لپکتا ہے اور اپنے معنی و مفہوم کی تمام تر تاثیر کے ساتھ جاگزیں ہوجاتا ہے۔اُن کے موضوعات میں بے حد تنّوع ہے۔ملکی اور بین الاقوامی معاملات ہوں یا مذہبی اور سیاسی حالات، معاشرتی اور سماجی مسائل یا تعلیمی و اصلاحی موضوعات، ہجرووصال کی شاعری ہو یا خدا ورسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اسلامی شخصیات سے وابستگی اور محبت و عقیدت کا اظہار۔ تقریباً سبھی حوالوں سے آپ قلم کی حرمت کی لاج رکھتے ہوئے لکھ رہی ہیں۔
اِس وقت ہمارے پیش نظر ڈاکٹر صاحبہ کی نئی کتاب”دعاؤں کے چراغ” ہے۔جس میں آقائے دو جہاں حضور ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ،داماد رسول، فاتح خیبر اورخلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ، جگر گوشہ رسول جنت میں خواتین کی سردار حضرت سیّدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا،حضرت امام زین العابدین ،امام علی رضا رضی اللہ عنہم وو دیگر آئمہ کرام و بزرگان دین سے وغیرہ سے منسوب دعاؤں کو منظوم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔گو اردو ادب میں منظوم انداز میں پہلے بھی بہت کام ہوا۔منظوم ترجمہ قرآن،شمائل و سیرت اورتاریخ اسلام لکھی گئیں ۔یہاں تک کہ منظوم تذکرے،منظوم خاکے،منظوم تنقید،منظوم تبصرے اورمنظوم افسانوں پر بھی کام ہوا۔اوراسلامی دعاوں کو بھی منظوم انداز میں پیش کیا گیاہے۔ مگر”دعاؤں کے چراغ” اس لحاظ اولیت اور فوقیت رکھتی ہے کہ اس سے قبل اتنی کثیر تعداد میں بزرگان دین سے منسوب دعاؤں کو کسی مترجم مجموعہ کی شکل میں پیش نہیں کیا گیا۔چنانچہ اِس تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ”دعاؤں کے چراغ” اردو ادب کی وہ پہلی کتاب ہے جس میں کثیر تعداد میں اِن دعاؤں کو منظوم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
یقینایہ اعزاز اور مقام خوش نصیبی ہی ہے جسے متذکرہ بابرکت ہستیوں کی غائبانہ تائید و توثیق اور بلاشبہ اللہ ربّ کریم اور رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت وعنایت اور فضل و کرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ سنت انھی لوگوں کے لیے کار فرما ہوتی ہے جو اُس کی راہ پر چلتے اور اُس کے احکام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے آپ کو اُس کے قابل بناتے ہیں۔ یہ نعمت ہر شاعر کے حصے میں نہیں آتی۔ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں اس سعادت کیلئے چنا گیا۔
دعا،عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی تو پکار اور التجا کے آتے ہیں۔ لیکن مذہبی مفہوم میں اِس سے مراد اللہ کریم سے کوئی فریاد کرنے یا کچھ طلب کرنے کی ہوتے ہے۔ اِس کے علاوہ مخصوص آیات کے ورد کو بھی دعا شمار کیا جاتا ہے۔ جبکہ کسی شخصیت کے لیے نیک تمنا اور بھلائی کی خواہش کے اظہار کو بھی دعا کہا جاتا ہے۔ اہل اسلام کے نزدیک اللہ سے دعا مانگنا عبادت میں شامل ہے۔
دعا کوئی نیا اور اچھوتا موضوع نہیں۔یہ موضوع اتنا ہی قدیم ہے جتنا کے خود انسان۔حضرت آدم علیہ السلام کو ربّ کریم نے جو دعا سیکھائی وہ قرآن میں موجود ہے۔ خود ربّ تعالیٰ نے بھی بعض دعائیں تعلیم فرمائی کہ بندوں کو اس طریقے یا ان الفاظ میں دعا کرنی چاہیے۔ اسی طرح بعض پیغمبروں نے جو دعائیں کیں ان کا بھی قرآن میں ذکر ہے تاکہ عام مسلمان بھی ان موقعوں پر وہی دعا مانگیں۔ حدیث میں بھی بعض دعاؤں کا ذکر ملتا ہے جو آپ ا نے بعض موقعوں پر مانگیں یا جن کے مانگنے کا حکم فرمایا۔ علماءفقہا اور صالحین نے بھی خاص موقعوں کے واسطے دعائیں مقرر کی ہیں۔ ان میں سے بعض (مثلاً دعائے حزب البحر وغیرہ) بہت مقبول ہیں۔
دعا ایک عظیم نعمت اور انمول تحفہ ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی انسان کسی بھی حال میں دعا سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ دعا اللہ کی عبادت ہے۔ دعا اللہ کے متقی بندے اور انبیا ئے کرام علیہم السلام کے اوصافِ حمیدہ میں سے ایک ممتاز وصف ہے۔ دعا اللہ تعالی کے دربارِ عالیہ میں سب سے باعزت تحفہ ہے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا(دعا سے بڑھ کر اللہ تعالی کے یہاں کوئی چیز باعزت نہیں)۔دعا اللہ تعالی کے یہا ں بہت پسندیدہ عمل ہے۔ ( اللہ سے اس کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اپنے سے مانگنے کو پسند کرتاہے )۔دعا شرحِ صدر کا سبب ہے ، دعا سے اللہ تعالی کے غصہ کی آگ مدھم پڑتی ہے۔ دعا اللہ تعالی کی ذا ت پر بھروسہ کایقین ہے۔اور دعا آفت و مصیبت کی روک تھام کا مضبوط وسیلہ ہے۔
بلاشبہ دعا اپنی اثر انگیزی اور تاثیر کے لحاظ سے مومن کا ہتھیار ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(دعا مومن کا ہتھیار ، دین کا ستون اور آسمان وزمین کی روشنی ہے۔ ) اللہ نے اپنے بندوں کو دعا کی تاکید کی ہے۔ اس کی قبولیت کا وعدہ کیا ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں صاف اور واضح اعلان کیا (جب میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں ، تو میں قریب ہوں ، دعا کرنے والاجب مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں ) یقینا یہ اللہ کا فضل اور کرم ہی ہے کہ بندوں کے ہر عمل سے بے نیازی کے باوجود وہ اپنے ہی سے مانگنے کا حکم کرتا ہے۔
لہٰذا دعا کا حیاتِ انسانی سے گہرا تعلق ہے اور اپنے اثرات کے لحاظ سے ایک مسلمہ تاریخ ہے اور ربِ کریم کے نادیدہ خزانوں سے بھی اس کا عظیم ربط وتعلق ہے۔علماءنے لکھا ہے کہ خوشحالی اور بدحالی ہر حال میں اللہ تعالی سے مانگنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ دونوں حالتوں میں یادکرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور اُن کو نوازتا ہے۔ لہٰذا انسان کو ہروقت دعاگو رہنا چاہیے اور اُس کی بارگاہ میں اپنے دست طلب سب کیلئے دراز رکھنے چاہیے۔
ڈاکٹر نگہت نسیم نے دعا کے اسی اسلامی فکروفلسفہ کو سامنے رکھ ان دعاؤں کا منظوم ترجمہ کیا ہے۔آئیے ان کی منظوم ترجمہ کی ہوئی رسول اللہ ا کی ایک ایسی دعا کو دیکھتے ہیں جو ہروقت کی جاسکتی ہے۔
اے میرے رب !
اے میرے معبود
میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے
اور شروع کرتا ہوں تیرے ہی نام سے
تو جو سب جہانوں کا مالک ہے
سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے
اور بڑا ہی بخشش کرنے والا ہے
اے میرے معبود۔۔!
تو سب دیکھتا ہے پر تو دیکھا نہیں جاتا
اے میرے معبود۔۔!
تو اعلیٰ مقام پر ہے، بے شک مقام انتہا پر ہے
بے شک تیری ہی بازگشت ہرطرف ہے
بے شک تیری ہی دنیا و آخرت ہے
بے شک تیرے ہاتھ میں حیات و موت ہے
اے عالمین کے پروردگار۔۔!
میں اپنی ذلت و رسوائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں
اے میرے معبود !
میں بس تیری اور صرف تیری ہی پناہ چاہتا ہوں
آمین یا الٰہی آمین
اپنے معبود حقیقی کے حضور اظہار عبدیت کا یہ انداز معراج انسانیت ہے۔اِس تواضع و انکساری اور عاجزی کو رب کریم نے بہت پسند فرمایاہے ۔ڈاکٹر نگہت نسیم نے ”دعاؤں کے چراغ” کے ذریعے کامیابی اور فلاح کے لیے نئی جہتیں ہی متعین نہیں کیں۔بلکہ اپنی شاعری میں اہل اسلام کو دعا کی ترغیت دلاکر ترقی و کامیابی کی نئی راہیں فراہم کیں۔ایسی شاعری اردو میں کرنے والے شاید ہی کچھ لوگ ہونگے، جن کو خیال کے ساتھ اتنی سادہ اور خوبصورت زبان بھی ملی ہو۔
ڈاکٹر نگہت نسیم نے اِن دعاؤں اور ماثورات کو نظم کاپیکر عطا کیا ہے اور اپنی شاعری کے ذریعے جس طرح اُن کے مفاہیم کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔یقینا آپ کا یہ انداز فکردین سے وابستگی، معاشرتی پاکیزگی اور ذہنی بالیدگی کا مظہر اورقابل تحسین ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اُن کا یہ دعائیہ مجموعہ کلام لوگوں کی اصلاح و تربیت ، توبہ و انابت اور رجوع الی اللہ کاذریعہ بنے گا۔اللہ کریم آپ کی اِس کوشش و کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور دین و دنیا کی کامیابیاں اور آسانیاں عطا فرمائے۔(آمین بحرمة سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم)

SHARE

LEAVE A REPLY