میں روشنی ہوں اور کرن میں حنوط ہوں
بادِ صبا ہوں ، صحنِ چمن میں حنوط ہوں
لہجوں کی اک سموگ ہے میرے چہار سو
اپنے ہی اردگرد گھٹن میں حنوط ہوں
دائم حیات مل گئی میری تھکان کو
ماتھے کی ایک ایک شکن میں حنوط ہوں
جب سے سنا ہے بارہ گلے ، ایک ریسماں
محسوس ہو رہا ہے رسن میں حنوط ہوں
ملنا ہو جس کو مجھ سے وہ آئے مزار پر
اشعار کی بہشتِ سخن میں حنوط ہوں
گیتوں کی لے میں ہوں کہ سراسر ہوں مرثیہ
ہوں کوئی نظم یا کہ بھجن میں حنوط ہوں
میری تلاش میں نہ پھرے کوئی دربدر
صدیاں گزر گئی ہیں بدن میں حنوط ہوں
نیرنگیء جہاں مجھے لے جائے جس طرف
رخشندہ اپنی خاک ٍ وطن میں حنوط ہوں
رخشندہ بتول













