اب جفا کو بھی ترستے ہیں رضاؔ

1
886

حسن پابند حنا ہو جیسے

یہ وفاؤں کا صلہ ہو جیسے

یوں وہ کرتے ہیں کنارا مجھ سے

اس میں میرا ہی بھلا ہو جیسے

طعنہ دیتے ہیں مجھے جینے کا

زندگی میری خطا ہو جیسے

اس طرح آنکھ سے ٹپکا ہے لہو

شاخ سے پھول گرا ہو جیسے

سر کہسار وہ بادل گرجا

دل دھڑکنے کی صدا ہو جیسے

حال دل پوچھتے ہو یوں مجھ سے

تم مرے دل سے جدا ہو جیسے

یاد یوں آئی تری رک رک کر

کوئی زنجیر بہ پا ہو جیسے

اب جفا کو بھی ترستے ہیں رضاؔ

یہی تاثیر دعا ہو جیسے

رضا ھمٰدانی

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY