گزشتہ قسط میں ہم جنرل ضیاع الحق کے ریفرینڈم تک پہنچے تھے ۔یہ بھی اپنے قسم کا بے مثال استصوابِ رائے تھاکہ ووٹروں کو پتہ نہیں چلا اور ووٹ پڑ بھی گئے؟ہم جب اس دن اپنے پولنگ اسٹیشن پر پہنچے جو کہ ایک میٹرنٹی ہوم میں تھا۔ تو دیکھا کہ بستروں پر پولنگ آفیسرز اور پری زائڈنگ آفیسرز محوِ استراحت ہیں؟ ووٹر کوئی نہیں تھا جبکہ کچھ لوگ فرش پر بیٹھے ٹھپے لگارہے تھے اور بکس میں ڈال رہے تھے؟ ایک محوِ استراحت شخص نے کہا کہ جیلانی صاحب آپ نے تکلیف کیوں کی، آپ کاووٹ تو پڑ ہی جاتا؟ تعجب کی بات یہ تھی کہ ووٹو ں کاتناسب پھربھی ساٹھ فیصد ہی رہا ہوشیار لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ مزید تفصیل اس کتاب میں پڑھئے۔ اس موضوع کو یہیں پر بند کردیتے ہیں۔ماہ پارہ صاحبہ کایہ شعر پڑھ کر جو کہ انہوں نے آرمی میس میں بقول انکے ان دنو پڑھا تھا۔ع “ منزل پہ بھی پہنچ کر اندھیرا دکھائی دے سالار ِ کارواں تولٹیرا دکھائی دے “ اب یہ شعر یوں ہونا چاہیئے کہ اس قوم حیاء نہ جانے کہاں گئی جس کو ٹٹولیئے وہ لٹیرا دکھائی دے۔ رضا علی عابدی صاحب نے اپنے افتتاحیہ کلمات میں پوری کتاب پر انہیں ثواب کی نوید دی ہے۔ مگر میں یہ دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس ایک شعر پر انہیں اتنا ثواب ملے گا کہ ان کی بخشش کے لیئے کافی ہے؟ کیونکہ حضورﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ کسی ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ حق کہنے والا بہت بڑے ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ جو کہ قوم کی ایک قلمی مجا ہدہ کے عمل سے ظاہر ہے جہاں کہیں انہیں کچھ لکھنے کچھ کہنے کا موقعہ ملا تو اسی جراءت سے بات کی وہ بھی سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے؟ جب پاکستان کا مشرقی حصہ جس میں اکثریت رہی رہتی تھی وہ اکثریت جس نے مسلم لیگ بنا ئی پاکستان بنایا۔ اقلیت سےعلیٰحدہ ہوئی تو بھی ان کا قلم اسی طرح چلا، جہاں نوے ہزار فوج نے ہتھیار ڈالے؟ دنیا میں یہ تو ہوتا آیا ہے کہ اکثریت سے اقلیت جدا ہوئی اور دوسرے نام سے ایک الگ ملک بن گیا؟ مگر یہ واحد مثال ہے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اکثریت اقلیت سے جدا ہوئی ہو اور نام بھی چھوڑ دے؟ کیوں ہوئی اس سلسلہ میں مجھے الف سے لیکر “ ی “ تک تفصیل معلوم ہے پہلی وجہ یہ ہےکہ پہلی قرارداد ِ پاکستان کے 1940ء کےموید چودھری خلیق الزماں مرحوم سے میرےگہرے تعلقات تھے جس کے محرک اے کے ایم فضل الحق مرحوم تھے وہ اس وقت بنگال کے وزیر اعظم تھے۔ اور دوسری قرار داد ِ پاکستان جو کہ 1946 ء میں مسلم لیگ پارلییمانی پارٹی نے پاس کی اس محرک حسین شہید سہروردی مرحوم تھے جوکہ الیکشن کے بعدبنگال کے پرائم منسٹر تھے۔ انگریزوں کے دور میں وزیر آعظم کہلاتے تھے ۔ اوران دونوں کے بعد بیگم اختر سلیمان مرحومہ جوکہ حسین شہید سہروردی صاحب کی صاحبزادی تھیں وہ مجھے بھائی کہتی تھیں میں انہیں بے بی کہتا تھا کیونکہ ان کا پورا خاندان انہیں بے بی کہتا تھا؟سہر روردی صاحب کے انتقال کے بعد جو بھی سیاسی مسئلہ ہوتا تھاوہ مجھ سے مشورہ ضرور کر تی تھیں؟ مگر جب میں ان سے یہ کہتا تھا کےآپ کامقام مشرقی پاکستان میں مادر ملت جیساہے ؟آپ سیاست سے الگ رہیں تو بہتر ہے؟ تب فرماتیں کہ نہیں بھائی ،میں تو اپنی آخری سانسوں پاکستان کو بچا نے کی کوشش کرونگی جو کہ وہ آخری وقت تک کرتی رہیں۔ کئی مرتبہ ان کی جان خطرے میں پڑی۔ لندن کے ایک ہوٹل میں ان پر قاتلانا حملہ ہوا۔ مگر وہ نہیں مانیں؟مگر ان کو ہمیشہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بچالیا؟ اس سلسلہ کی آخری کوشش اس دن ہوئی جبکہ مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی قیادت کو5دسمبر کو سہر وردی صاحب کی برسی منانے کے لیئےڈھاکہ جانے کوکہا گیا یہ کہہ کر اس کا وہاں کے عوام پر اچھا اثر پڑیگا؟ جوکہ پی آئی اے کی آخری فلائٹ تھی ؟لیکن درایں اثنا ایک بہت بڑے آدمی کی فون کال آگئی کہ آپ لوگ وہاں ہر گز نہ جا ئیں؟ مشرقی پاکستان کےسلسلہ میں بھی بہت کچھ اس کتاب میں ہے؟ اس لیئے میں تھوڑا تفصیل میں جانا چاہونگا کہ تشنگی نہ رہ جائےا؟ میں نے مجیب سے پوچھا کہ تم نے مغربی پاکستان سے اپنا کوئی امیدوار کیوں نہیں کھڑا کیا؟ تو اس نے جواب دیا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ مجھے حکومت نہیں دیں گے ؟ کیونکہ انہوں نے کسی بھی بنگالی وزیر اعظم کو حکومت کرنے نہیں دی؟ حسیں شہید سہروردی مرحوم کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے لاہور کے موچی دروازے میں تقریر کر تے ہوئے کہدیا تھا کہ “یہاں ایک ایک آدمی کے پاس پچھتر ہزار ایکڑ زمین ہے جو کہ میں کاشتکاروں میں تقسیم کر دونگا؟ جبکہ وہ مشرقی پاکستان میں ایسا کر چکے تھے؟جیسے کہ پاکستان کی روایت تھی انہیں بھی ہوائی اڈے سے سیدھاایوان صدر لے جایا گیا اور کہا گیا کہ استعفیٰ دیدو؟ انہوں نےکہا کہ “ جو جمہوری طریقہ ہےمجھے پارلیمنٹ میں جانے دو اگر میں اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکا تو استعفیٰ دیدونگا“ کہا نہیں ابھی استعفیٰ دو اورجاؤ؟ مجیب نے راونڈ ٹیبل کانفرینس میں کچھ لچک دکھائی اور چوبیس گھنٹے دوستوں سے مشورہ کرنے کے لیئے مہلت مانگی جو پہلے دیدی گئی مگر وہ صرف چند گھنٹوں کے بعد واپس لے لی گئی؟ سہروردی صاحب کی صاحبزادی بیگم اختر سلیمان کو لندن بھیجا گیا بنگلہ دیش کے عبوری حکومت کے وزیر خارجہ عبد الصمد آزاد کو انہوں نےبات کرنے کے لیئے تیار بھی کر لیا؟ مگر ان کی صدر ِ پاکستان سے نہ بات ہوسکی نہ ملاقات ہی ہوسکی۔؟ چلئے گڑے مردے اکھاڑنے سے کیا فائدہ۔ اس موضوع کو بھی یہیں ختم کرتے ہیں؟ میں نے شروع میں لکھا تھاکہ یہ مت پوچھیئے کہ اس کتاب میں کیا ہے ؟یہ پوچھئے کہ کیا نہیں ہے؟ آئیے اس زاویہ سے اس کتاب کودیکھتے ہیں۔ اس میں ہر پڑھنے والے کے لیئے اس کی دلچسپی کاسامان ہے؟ بہت سے شاعر ادیبوں کے انٹر ویو ہیںاور بلوچستان کے سرداروں اور پاکستان کے سیاسی لیڈروں کے انٹر ویو ہیں؟ انہیں میں حضرت حبیب جالب کا انٹر ویو بھی ہے ان کی فرمائش پر انہوں نے اپنا وہ کلام بھی سنایا “ایسے دستور کو میں نہیں مانتا؟ ان کی جگہ میں ہوتا تو ان سے اس میں ترمیم کرنے کوکہتا کیونکہ یہ ایوب خان کےدور میں کہا گیا تھا؟جنرل ضیاء الحق کا دور نہیں آیا تھا اور اِس وقت زیرِ بحث بھٹو صاحب والا دستور تھا۔ لہذا اس کو اس طرح ہونا چا ہئے تھا۔ میں ایسے ظالم و مسکین کو نہیں مانتا۔ ایسے فرد بے دین کو نہیں مانتا ۔ اس کے مسخ شدہ آئین کو نہیں مانتا۔اب چلتے ہیں کتاب کی بقیہ خوبیونکی طرف۔ اگر آپ کو عاقبت بنانا ہے تو عراق کی زیارتیں ہیں، شام کی زیارتیںِ ہیں ایران کی زیارتیں ہیں اور موجودہ نظام جو اب ایران میں نافذ ہے سب پوری تفصیل کے ساتھ ہے۔ اگر گرمی ستا رہی ہو تو کالام کی پہاڑیاں بھی ہیں؟ اگر میڈیامیں آنا ہے اور مستقبل بنانا ہے اس کے آداب طور طریقے سیکھنا ہوں تو اس میں ایک ایک تفصیل موجود ہے کہ کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔بلو چستان کی سیر کرناہے وہاں کے سرداروں کا انوکھا عدل اور انصاف دیکھنا ہے وہ بھی اس میں موجود ہے ؟ کسی تر قی یافتہ ملک میں جا کر آباد ہونا ہے جو کہ آج کل کا سب سےاہم مو ضوع بنا ہواہے؟تو پہلے اس کتاب میں وہاں کی اچھا ئیاں اور برا ئیاں پڑھ لیں سب کی مل جا ئیں گی سوائے ایک آدھ کے؟ اپنی مرضی کا ملک منتخب کر لیں وہاں چلے جائیں؟ کیونکہ ہر ایک کو آدمیوں کی ضرورت ہے ۔ جبکہ ہر آدمی کی پسند مختلف ہوتی ہے؟ اب انتخاب کرنا آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ اپنی خلاف ِ قدرت منصوبہ بندی کی وجہ سے اپنی تہذیب کو ملاوٹ شدہ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں مگر بے بس ہیں؟ان کے یہاں کمانے والے لوگ روز بروزکم ہوتے جا رہے ہیں؟ گروتھ ریٹ اکثر مملک میں صفر کو چھورہا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی ترجیحات بدل دی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے لا ئف انجوائے کرو۔بچے بعد میں دیکھے جا ئیں گے؟ اقبال نے بہت پہلے کہا تھا کہ نئی تہذیب اپنے ہاتھوں سے خود کشی کریگی وہ اس دور سے گزر رہے ہیں اور بے بس ہیں؟ اور ہاںماہ پارہ صاحبہ کا بہترین کلام بھی آخرمیں ہے ۔ ہم نے ایک شعر اوپرنمونے کےطور پر دیدیا ہے۔ اور بہت سےیادگاری فوٹو بھی ہیں اور مصر کے عجائب اور تہذیب بھی ہے۔













