صفدر ھمدانی ،جدت وروایت کا حسین امتزاج،رضا مہدی باقری

0
1547

چھوٹا منہ بڑی بات!!! شاعری سلسلہء کن فیکوں ھے اسی لۓ اسے کار پیغمبری بھی کہا جاتا ھے۔شاعری زمان و مکان کی وسعتوں میں پوشیدہ اسرار ورموز کو طشت از بام کرنے کا مؤثر ذریعہ رھی ھے اور شاعروں کی تخلیقات معاشروں تشکیل و ترویج وترقی میں اھم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ہر زبان کے ادب میں شاعروں کی کہکشائیں جلوہ گر رہی ہیں۔ کیٹس شیلے بائرن براؤننگ شیکسپئر حافظ رومی عطار میر غالب فیض فراز ادا جعفری پروین شاکر نصیرترابی حبیب جالب استاد دامن ساغرصدیقی احسان دانش اور ایک لامنتہائی سلسلہ ھے ان کہکشاؤں کا۔۔۔۔اس وقت میرے سامنے دور حاضر کے عظیم بروڈکاسٹر قلمکار ادیب اور منفرد لہجے کے شاعر جناب صفدرھمٰدانی کی تازہ غزل ھے۔۔۔
میں نے یوٹیوب پر یہ غزل سنی۔۔۔۔بار بار سنی ۔۔۔سترہ اشعار پر مشتمل طویل غزل۔۔۔اور ایک ایک شعر پوری پوری توجہ کا متقاضی۔
اپنے تاثرات قلمبند کرتے ہوۓ بہرحال یہ احساس دامن گیر ھے کہ میں ایک طالب علم ایک نامور کہنہ مشق اور صاحب طرز شاعر کی غزل پر نقدونظر کرنے کی جسارت کررھا ہوں۔۔۔چھوٹا منہ بڑی بات سمجھ کر احباب سے درگزر کرنے کا خواستگار ہوں۔۔۔۔آئیے مطلع دکھیں
وہ دلگداز تھا سواس نے دل لگی کرلی
خموش بھی رھا اور مجھ سے بات بھی کرلی
جناب! یہ شعر سنتے ھی کوئی نادیدہ قوت دل میں سرخوشی و سرمستی کی لہر دوڑا دیتی ھے۔کمال شعر ھے۔کبھی کبھی ایسا خوبصورت مطلع پڑھنے کو ملتا ھے
صفدر ھمدانی صاحب کی ہر غزل میں جدت وروایت کا حسین امتزاج نظر آتا ھے اور زیرنظر غزل بھی ادب براۓ ادب اور ادب براۓ زندگی کے حسن وخوبی سے مالامال دکھائی دیتی ھے
شعر دیکھئے
مجھے بھی عشق میں دستار ملنے والی تھی
مگر مزاج مرا میں نے دشمنی کرلی
افتاد طبع کی غمازی کرتا ھوا یہ جاندار شعر ہمدانی صاحب کے اچھوتے اسلوب اورقدرت اظہار کی بھرپور نمائندگی کرتا نظر آتا ھے
میں مرچکا تو سبھی دیکھتے تھے اس نے بھی
نگاہ چہرے پہ بس ایک سرسری کرلی
اس لطیف ترین اشارے کو سمجھنے والے سر دھنتے رہ جاتے ہیں۔۔۔۔ اسی طرح ایک اور شعر دیکھیں
پیام آنے کا بھیجا تھا اس نے سو میں
ھے شکر موت جو دو دن کو ملتوی کر لی
ھجر و وصال کے حوالہ سے اس سے زیادہ دل پذیر شعر میں نے تو آج تک نہیں پڑھا۔۔۔۔ندرت فکر وخیال تو ہر شعر سے ہویدا ھے تاہم مندرجہ ذیل اشعار اپنا جواب آپ ہیں
کچھ ایسا عشق تھا شبنم کے لفظ سے اس کو
بغیر روۓ ہوۓ آنکھ شبنمی کرلی
نزول سورہء والعشق کا ملا اعزاز
محبتوں میں بھی ھم نے پیعمبری کرلی
مرے چراغ نے سورج کا راستہ روکا
مرے چراغ نے پھر آپ خودکشی کرلی
اس عہد میں یہی معیار ھوگیا صفدر
ملا نہ کام جسے اس نے شاعری کرلی
پوری غزل میں ہمیں ایک احساس نظر آتا ھے اور مسلسل نظر آتاھے وہ فکرو تشویش ھے سماجی اور معاشی نا ہموایوں اور ان سے پیدا ہونے والی قباحتوں کے بارے میں۔بہت مشکل سوالات کو شعر کے قالب میں ڈھال کر جو احتجاج کیاگیا ھے۔۔۔وہ بظاہر نثر میں کیا جاتا تو صرف ایک طرفہ پروپیگنڈا قرار پاتا۔۔۔۔لیکن یہ شاعری اور ہمدانی صاحب کا کمال فن ھے کہ انہوں نعرہ کو نغمگی اور تقریرکو تغزل کا لبادہ پہنا کر کار پیمبری سرانجام دیا ھے جس کے لۓ انہیں خراج تحسین پیش نہ کرنا بخل ناروا کے سوا کچھ نہیں ھو گا
آپ کے حسن ذوق کی نذر ھے ھمدانی صاحب کی مکمل غزل

وہ دلگداز تھا سو اُس نے دل لگی کر لی
خموش بھی رہا اور مجھ سے بات بھی کر لی

نکال پائے نہ خود کو حصار سے اُس کے
غنیم ِ جان سے پھر ہم نے دوستی کر لی

میں اُسکے سامنے بیٹھا رہا تو گُل تھا چراغ
میں اُٹھ کے نکلا تو ظالم نے روشنی کر لی

مجھے بھی عشق میں دستار ملنے والی تھی
مگر مزاج مرا میں نے دشمنی کر لی

میں مر چُکا تو سبھی دیکھتے تھے اُس نے بھی
نگاہ چہرے پہ بس ایک سرسری کر لی

مرے عدو کے ہی ہاتھوں میں مجھکو بیچ دیا
ہے اطمینان اُسے اُس نے خود سری کر لی

وہ خود بھی اجنبی لہجہ بھی اجنبی اُس کا
ہُنر تھا اُس کا نگہ اُس نے اجنبی کر لی

وہ مجھ کو بیچنے بازار مصر میں لایا
فقیر شہر نے یوسف کی پیروی کر لی

پیام آنے کا بھیجا تھا اُس نے سو میں نے
ہے شُکر موت جو دو دن کو ملتوی کر لی

ہر اک قدم پہ ہوا ہے خلوص قتل مرا
ہے پیدا جب سے طبیعت میں مخلصی کر لی

جب اُس سے ہو نہیں پائے الگ تو ایسے کیا
خود اپنے آپ سے ہم نے علیحدگی کر لی

یہ راز علم نہیں مجھ کو چھوڑ جانے کی
کیوں معذرت تھی بھلا اُس نے پیشگی کر لی

کچھ ایسا عشق تھا شبنم کے لفظ سے اُس کو
بغیر روئے ہوئے آنکھ شبنمی کر لی

زباں میں آتا نہیں ذائقہ ہے چاہت کا
یہ بات اُس نے عجب غیر منطقی کر لی

نزولِ سورہ والعشق کا ملا اعزاز
محبتوں میں بھی ہم نے پیمبری کر لی

مرے چراغ نے سورج کا راستہ روکا
مرے چراغ نے پھر آپ خود کُشی کر لی

اس عہد میں یہی معیار ہو گیا صفدر
ملا نہ کام جسے اُس نے شاعری کر لی

SHARE

LEAVE A REPLY