کیا بہانہ کوئی درکار ہے چاہت کے لیئے ۔ صفدر ھمدانی

0
1279

صفدر ھمدانی

کیا بہانہ کوئی درکار ہے چاہت کے لیئے
لوگ اب پیار بھی کرتے ہیں ضرورت کے لیئے

تم ہو مصروف تو پھر کیسے محبت ہو گی
آؤ یہ کام بھی رکھ دیتے ہیں فرصت کے لیئے

چاہنے والے مرے اور بہت ہیں لیکن
منتخب تم کو کیا اپنے سے نفرت کے لیئے

زندگی آج تری قہر کی توقیر ہوئی
آج قاتل میرا آیا ہے عیادت کے لیئے

کعبہ ء دل کو بھلا بیٹھے ہیں عابد سارے
ایک مسجد ہی جگہ کب ہے عبادت کے لیئے

اک یہی زندگی سچ بات ہے ناکافی ہے
زندگی اور ہے درکار محبت کے لیئے

عشق والوں کی بھی دنیا میں الگ نسلیں ہیں
لوگ ہوتے ہیں الگ جیسے سیاست کے لیئے

یاد بچپن کی ابھی بات دلائی تھی اُسے
اس نے بھی رخت سفر باندھا مسافت کے لیئے

اور بھی صاحب دستار بہت ہیں صفدر
ایک میں ہی تو نہیں شہر میں ذلت کے لیئے

SHARE

LEAVE A REPLY