سلام بحضور سید الشہدا علیہ السلام۔
زوال سطوت شاہی کی ابتدا ماتم
ھے انقلاب حسینی کی انتہا ماتم
غم حسین میں مضمر شفائے روح و بدن
علاج حزن خلائق ھے باخدا ماتم
یہ اک تسلسل کرب و بلا ھے اہل نظر!
کہ روز اٹھتے ہیں لاشے،ھے جابجا ماتم
نہ رک سکے گا یزیدوں سے حشر تک ماتم
کہ ھے حسین کا یہ زندہ معجزہ ماتم
کسی گروہ کا ہرگز نہیں حسین مگر
ستم گروں کے لئے ھے یہ ناروا ماتم
حسینیت تو ھے انسانیت کی آئینہ دار
جو اھل دل ہیں وہ کرتے ہیں شاہ کا ماتم
کبھی تو ھم کو بلائیں گے کربلا مولا
کبھی تو ھم بھی کریں گے وھاں رضاؔ ماتم
خاکپائے ماتم داران شہیدان کربلا علیہم السلام
سیدرضا مہدی باقری














مولا آپ کے درجات اور بلند کریں۔