زینب تیرا قاتل کاش تیرے بس نام کی عزت رکھ لیتا

0
177

کوئی بھی ظالم نہ پھر سینے میں شقاوت رکھ لیتا
کاش خدا پاس اپنے خود یہ نظم عدالت رکھ لیتا

منصف اعلیٰ کے کانوں تک پہنچی نہیں ماتم کی صدا
ورنہ وہ بھی تھوڑی سی زینب سے محبت رکھ لیتا

ہوتا نہ کوئی ایسا واقعہ شہر میں اہل درد اگر
حاکم شہر خیال میں اپنے اپنی ذلت رکھ لیتا

بلھے شاہ کے شہر میں اک بیٹی کی عزت نہ لُٹتی
گر یہ معاشرہ تھوڑی سی آنکھوں میں غیرت رکھ لیتا

عہد میں جن کے معصوموں کی عزت بھی محفوظ نہ ہو
اپنے ٹوٹے جوتے پر میں ایسی حکومت رکھ لیتا

سوچ رہا ہوں کب سے صفدر میں اس ایک ہی نکتے کو
زینب تیرا قاتل کاش تیرے بس نام کی عزت رکھ لیتا

صفدر ھمٰدانی

SHARE

LEAVE A REPLY