یوں تو بے شمار ادبی تنظیمیں ادب کی ترقی اور فروغ کے لیئے ملک کے طول و عرض میں سرگرم_عمل ہیں جو کتابوں کی رونمائی۔ شعراء و ادیب حضرات کی پذیرائی ۔ سیمینارز۔ مباحثوں اور مشاعروں کے انعقاد کرواتی ہیں جن میں کچھ تنظیمیں اب بوجوہ غیر فعال ہو چکی ہیں مگر نام کے اعتبار سے زندہ ہیں۔ ایسے میں سب سے قدیم ادبی تنطیم حلقہ ارباب_زوق ہے جس کو تقریبا” 80 واں سال ہے جو اب تک اپنے ہفتہ وار تنقیدی اجلاس منعقد کرواتی ہے جن میں نئے اور پرانے لکھنے والے اپنی تخلیقات افسانہ ۔مضمون ۔ ناول ۔ غزل اور نظم تنقید کے لیئے پیش کرتے ہیں جس سے ادب میں معیاری تخلیق جنم لیتی ہے اور اب بھی اسی راستے پر گامزن ہے۔ حلقہ ارباب_زوق کئی مرتبہ اختلافات کی وجہ سے دو لخت ہوا مگر ادبی خدمت میں مصروف_عمل رہا۔
موجودہ دور میں بھی پاک ٹی ہاوس میں حلقہ ارباب_زوق کے دو اجلاس جمعہ اور اتوار کو منعقد ہوتے ہیں ۔ ہمارا مقصد کسی بحث میں پڑنا نہیں بلکہ یہاں جمعہ کو ہونے حلقہ کے اجلاس حوالے سے کچھ تحریر کرنا ہے جس کے بارے میں یار لوگوں کی مختلف پیشنگوئیوں تھیں جو اب خود بخود غلط ثابت ہو چکی ہیں اس کا ثبوت جمعہ کو باقاعدگی سے تنقیدی اجلاسوں کا جاری رہنا ہے۔ جن کی صدارت سینئر شعراء اور ادیب حضرات کرتے ہیں اور مہمان_ خصوصی بھی وہی ہوتے ہیں ۔
ہفتہ وار اجلاسوں کے ساتھ ساتھ ہر مہینے ماہ_رواں کی ادبی شخصیتکے حوالے سے سینئر شاعر ادیب کےساتھ شام منعقد کی جاتی ہے جس میں شاعر ادیب اور دیگر ادبی شخصیات ان کے فن اور سخصیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب تک اس حوالے سے کافی تقاریب منعقد ہو چکی ہیں اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے جمعہ 11 مئی 2018ء کے اجلاس کو معروف سینیئر شاعر اور صحافی قائم نقوی کے نام منسوب کیا گیا جس میں کافی تعداد میں ادب سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی ۔ تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ان سب ادبی شخصیات کو بطور_خاص مدعو کیاگیا جن کے ساتھ خصوصی تقریبات منعقد کی جا چکی تھیں ان سب کو اس تقریب میں اعزازی یادگاری شیلڈیں پیش کی گئیں جو کہ حلقہ ارباب_زوق کی80 سالہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نظرنہیں آتی۔ اس طرح حلقہ ارباب_زوق پاک ٹی ھاوس نے ایک نئی روایت کو جنم دیا کہ ان ادبی شخصیات کو انکی گرانقدر ادبی خدمات کے اعتراف میں حلقہ کی طرف سے اعزازی یادگاری شیلڈیں پیش کی گیئں ۔
یہ تقریب آج کے درویش انسان اور ممتاز شاعر و صحافی قائم نقوی کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی جس کا آغاز سیکریٹری حلقہ علی نواز شاہ نے اپنی خوبصورت گفتگو سے کیا۔ نظامت کے فرائض خوبصورت شاعر اور خاکہ نگار اعجاز رضوی نے بطریق_احسن ادا کئے۔ تقریب میں علی نواز شاہ ۔ علی اصغر عباس ۔ فیصل زمان چشتی ۔ مدثر بشیر ۔ تاثیرنقوی ۔ اعجاز رضوی ۔ جاوید قاسم۔ فرحت عباس شاہ ۔ ڈاکٹر آغا سلمان باقر اور جمیل احمد عدیل نے اپنے اپنے مضامین میں قائم نقوی کے فن اور شخصیت پر سیر حاصل گفتگو کی اور انھیں موجودہ دور کی اہم۔ جینوئن اور درویش ادبی شخصیت قرار دیا۔ مقررین نے ان سے اپنے قدیمی تعلقات اور ادبی سفر کے حوالے سے اپنی رفاقتوں کا دل کھول کر اظہار کیا۔ تقریب کے پہلے مرحلے کے آخر میں قائم نقوی نے حلقہ ارباب_زوق پاک ٹی ھاوس کے عہدیداروں اور مجلس_عاملہ کے اراکین کو ایک خوبصورت تقریب کے انعقاد اور نئی روایت کے اجراء پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا کہ جس اعزاز سے انھیں نوازا گیا۔ انھوں نے اپنے اظہار_خیال میں مزید کہا کہ ایسی تقریبات منعقد ہوتی رہنی چاہیئں تاکہ شعراء اور دیگر ادب لکھنے والے حضرات حوصلے اور ہمت سے اپنا تخلیقہ سفر جاری رکھ سکیں اور اخر میں قائم نقوی نے اپنا اپنا خوبصورت کلام سنا کر غزلیں اور نظمیں سنا کر حاضرین سے خوب داد سمیٹی ۔
تقریب کے دوسرے مرحلے میں ان تمام ادبی شخصیات کو بطور خاص مدعو کیا گیا تھا جن کے ساتھ ماضی قریب میں تقریبات منعقد کی جا چکی تھیں اور آج انکو گرانقدر ادبی خدمات کے اعتراف میں حلقہ ارباب_زوق کی طرف سے یادگار عزازی شیلڈیں پیش کی جانی تھیں ۔ ان میں نہایت خوبصورت اور محترم شخصیات جنان اے غفار پاشا(بورے والا )۔ جناب خالد شریف صاحب ۔ جناب ڈاکٹر آغا سلمان باقر ۔ جناب جمیل احمد عدیل اور محترمہ نیلم احمد بشیر صاحبہ شامل ہیں۔ ان حضرات کو حلقہ ارباب_زوق پاک ٹی ھاوس کے عہدیداروں نے شیلڈیں پیش کیں۔ حاضرین نے شیلڈیں پیش کرنے کی اس روایت کو خوب سراھا اور حلقہ ارباب_زوق پاک ٹی ھاوس کے منتظمین کو مبارکباد دی۔ اجلاس میں چیدہ نام جو ذہن میں رہ گئے ان میں جناب حکیم سلیم اختر ملک ۔ جناب توقیر احمد شریفی۔ جناب سید ضیاء حسین ۔جناب سلیم اختر صاحب ۔ برادرم شاہد رضا اور سب کے ہر دلعزیز۔ درویش انسان اور شاعر سید فراست بخاری شامل ہیں۔ اس طرح یہ یادگار تقریب_پزیرائی ھائی ٹی جیسے لوازمات کے ساتھ اختتام کو پہنچی ۔
تاثیر نقوی













