انہوں نے طے کر لیا کہ مغوی کو کون سنبھالے گا اور تاوان کی رقم کے لئے کون گفت شنید کرے گا، انھوں نے فیصلہ کر لیا کہ اغوا کار، بشمول ان تینوں کے، تعداد میں دس ہونگے۔ اس لحاظ سے تاوان کی رقم تیرہ حصوں میں تقسیم ہو گی۔ ہر کوئی اپنے حصے سے پارٹی کے سربراہ کو ایک ایک فیصد الگ سے ادا کرے گا۔ اس بندے کو جو ہر حصہ دار اپنے حصے سے ادا کرے گا جو اغواکار پارٹی کو شہر میں پناہ، خوراک اور حفاظت سے نکالنے میں سہولت کار ھو گا۔ ان کے گروہ نے یہ فیصلہ بھی کیا کے بھتیانی قبیلہ کے کم سے کم دو افراد بھی شامل کیے جائیں کیونکہ انھیں اپنے مشن کے تکمیل کے دوران اس قبیلے کی سرزمین سے گزرنا تھا۔
ضلع بنوں کا ڈپٹی کمشنر سہ پہر میں جلدی جلدی کام سمیٹنے میں مشغول تھا اور ساتھ ساتھ سوچ رھا تھا کہ جلدی آٹھ جاے تو شام سے پہلے پہلے ٹینس کی دو باریاں لگا لے گا۔ خاص کر اس دن اس کے دفتر میں ملاقاتیوں کا رش معمول سے زیادہ تھا۔۔۔آدھ درجن ابھی بھی برآمدے میں ملاقات کے لئے ابھی بھی منتظر بیٹھے تھے۔ ان میں ایک بے حد اہم ملاقاتی بھی شامل تھا۔۔۔ایک مخبر! وہ مخبر پہلے بھی بہت مفید اطلاعات باہم پہنچا چکا تھا۔ لو جی! وہ دیکھئیے! وہ لکڑی کے ایک بینچ پر بیٹھا ہوا ہے۔ ایک مضبوط جسم کا داڑھی والا نوجوان۔۔۔اس کی آنکھیں سرمے سے کالی ہوئی پڑی ہیں۔۔۔اور سرخ رنگ کا فر لگا لیڈیز اوور کوٹ پہنے ہوے ہے۔ وہ اوور کوٹ کبھی کسی مضافاتی امریکی خاتون کے وارڈ روب میں پسندیدہ لباس رہا ہو گا۔۔۔(اب لنڈا بازار کی بدولت اس جوان کے جسم پر کشا ہوا تھا اور اسے علم نہ تھا کہ وہ زنانہ کوٹ تھا۔مترجم) اس کے دونوں پہلووں میں خنجروں کے ہاتھی دانت سے بنے چمکدار دستے واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔۔۔البتہ خنجر چمڑے کی بیلٹ سے بندھے اس کی شلوار میں گم تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے مخبر کو اندر بلانے سے پہلے دو چار ملاقاتیوں کو بلایا۔ وہ چاہتے ہوے بھی اسے فورا اندر نہیں بلانا چاھتا تھا کیونکہ خاص حسن سلوک سے اس کی آمد مشکوک ہو جاتی اور جلد ہی پورے شہر میں اس ملاقاتی کے متعلق افواہیں گردش کرنے لگ جاتیں۔۔۔پھر جلد ملاقات کرنے پر آفیسر دب جاتا اور مخبر کو اس پر نفسیاتی برتری حاصل ہو جاتی۔ خبریں بیچنا بھلے انتہائی بے غیرتی کا کام ہو سکتا تھا لیکن اس علاقے میں ہر مخبر ایسی شرمندگی سے مبرا تھا۔ ایک مرتبہ ایک سرکاری افسر علاقے کے دورے پر نکلا تو ایسے ہی ایک مخبر نے اپنی گلی کی نکڑ پر خوش آمدید کا استقبالیہ بینر لگوایا جس پر اس نے فخر سے لکھا ہوا تھا “منجانب ایک سرکاری مخبر”۔
بعض خاندان نسل در نسل مخبری کے پیشے سے منسلک تھے۔( ایسا ہی ایک بدنام زمانہ پیشہ ٹھگی تھا جس کا مرکز پنجاب تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ریکارڈ کے مطابق دس لاکھ ٹھگ متحرک تھے اور پھر محکمہ ٹھگی قائم کیا گیا تب چن چن کر ٹھگوں کے گروہوں کو ختم کیا گیا۔ لیکن کیا بعید آج کے خود غرض و خوں آشام اور بے رحم بیوروکریٹس اور کی رگوں میں ان میں سے کسی ٹھگ بابا دادا کا لہو اب تک گردش کر رہا ہو۔۔۔مترجم)۔ مخبر کبھی بھی کسی ایک آقا کا وفادار نہ ہوتا۔ جو کوئی بہتر پیسے دیتا وہ اس کے لئے جان جوکھم میں ڈال کر خبر نکالنے چل پڑتا۔ ایک مخبر کے جتنے زیادہ گاہگ ہوتے اس کے شاگردوں میں اس کی اتنی ہی زیادہ عزت ہوتی۔
طور باز۔۔۔تاہم۔۔۔اس میدان میں ابھی نیا نیا ہئ داخل ہوا تھا۔ وہ ڈپٹی کمشنر کی عزت میں جوتے باہر ہی اتار کر اندر داخل ہوا اور فورا بجلی کے ہیٹر کے پاس بیٹھ کر ہاتھ سینکنے لگ گیا۔ وہ باہر کے سخت یخ موسم میں بیٹھ بیٹھ کر اپنے ہاتھ ٹھنڈے کر بیٹھا تھا۔۔۔ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی انگلیوں کے کڑاکے بھی نکالتا جاتا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ ڈپٹی کمشنر کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔جو خاموشی اور دلچسپی سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
“صاحب! آپ خوب تکڑے ہیں ناں؟”
افسر نے جواب دیا۔” کیا تم خوش ہو؟”
مخبر بولا۔ “آپ بھی خوش ہیں ناں؟”
افسر نے پوچھا۔”تم ٹھیک ٹھاک ہو ناں؟”
“صاحب آپ کا خاندان سب خیر سے ہے ناں؟”
“ہاں! اللہ کا فضل ہے، طور باز۔”
جب حال احوال پوچھنے کا مرحلہ مکمل ہو گیا تو دونوں مرد خاموشی سے بیٹھے ریے کہ گفتگو کی پہل دوسرا کرے۔ طور باز نے شکست قبول کر تو بولا۔ “صاحب! آپ کے بارڈر سے پار کچھ عجیب واقعات ہو رہے ہیں۔”
ڈپٹی کمشنر صبر سے بولا۔ “طور باز ہم ایک قابل اعتبار شخص کو ہی دوست مانتے ہیں۔ بولو کیا کہنا چاہتے ہو؟ تمھاری آنکھوں نے کیا دیکھا ہے؟”
“اسی لئے تو میں آپ سے ملنے آیا ہوں۔ صاحب! اغوا کاروں کا ایک گروہ آپ کے علاقے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کل رات میں نے ان آنکھوں سے بیس آدمیوں کا ایک گروہ طوری خیل بونیر میں دیکھا۔ ان کا لیڈر دولت خان ہے۔ اور یہ ان آدمیوں کی فہرست ہے جن کو میں پہچان سکتا ہوں۔ البتہ چار افراد ایسے تھے جو میرے لئے بالکل اجنبی تھے۔”
ڈپٹی کمشنر اس کے چہرے پر تھرکتے تاثرات کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ ڈپٹی کمشنر چاہتا تھا کہ کم سے کم دو اور مخبروں سے اس خبر کی تصدیق کروا لی جاے لیکن دن کے اس وقت کسی اور کے آنے کی توقع نہ تھی۔ اس لئے اب طور باز خان کی کہانی سے ہی زیادہ سے زیادہ نتائج اخذ کرنے تھے۔ بات کو شروع کرنے کے لئے لکھ لیا کہ ٹھیک ہے پہاڑوں میں اغوا کاروں کا ایک گینگ تیار ھو چکا تھا اور وہ اس کے ضلع کی طرف بڑھے گا۔ حقیقت تو یہ تھی سردیوں میں اس قسم کے گروہوں کا آنا باقی تھا۔ اغوا کی وارداتیں عموما اکتوبر میں شروع ہو جاتیں لیکن اب تو نومبر بھی خاتمہ کے قریب تھا اور ایک بھی واردات نہ ہوئی تھی۔ اسے گینگ کی خبر اور ان کی تعداد میں شاید مبالغہ تھا۔ اتنا بڑا گینگ تب ہی بنتا جب انھوں نے پولیس راستوں پر قابض ہونا ہوتا۔ اسے یہ بھی شک نہیں تھا کہ وہ گینگ احمق نہیں تھا کہ پہلے سے فوج اور پولیس کی چوکیاں بن جانے کے بعد سڑکوں پر اپنی چوکیاں بنائیں۔
اس نے خبر پر تھوڑی دیر غور کیا۔
جاری ہے
مترجم۔جی حسین













