تاریکی میں اس رات کی درکار ہیں جگنو.شاہین اشرف علی

0
179

تاریکی میں اس رات کی درکار ہیں جگنو
پر ظلم ہے یہ مجھ سے ہی بیزار ہیں جگنو

لوگوں کے لیئے نور کی تنویر بنے ہیں
پر میرے لیئے سایہ دیوار ہیں جگنو

آنکھیں ہیں میری نیند سے بوجھل یہ بجا ہیں
اور اس پہ یہ سچ دیکھو کہ بیدار ہیں جگنو

جگنو نے مجھے راہ محبت ہے دکھائی
سچ بات کہ میرے ہی طلبگار ہیں جگنو

تاریکی میں لاریب یہ کرتے ہیں چراغاں
توقیر محبت کے سزاوار ہیں جگنو

بیماروں کو دیتے ہیں شفا نور سے اپنے
کس نے یہ کہا تم سے کہ بیمار ہیں جگنو

شاہین مجھے تجربے نے درس دیا ہے
تاریک سمندر میں بھی انوار ہیں جگنو

شاہین اشرف علی۔ کویت

SHARE

LEAVE A REPLY