تاریکی میں اس رات کی درکار ہیں جگنو
پر ظلم ہے یہ مجھ سے ہی بیزار ہیں جگنو
لوگوں کے لیئے نور کی تنویر بنے ہیں
پر میرے لیئے سایہ دیوار ہیں جگنو
آنکھیں ہیں میری نیند سے بوجھل یہ بجا ہیں
اور اس پہ یہ سچ دیکھو کہ بیدار ہیں جگنو
جگنو نے مجھے راہ محبت ہے دکھائی
سچ بات کہ میرے ہی طلبگار ہیں جگنو
تاریکی میں لاریب یہ کرتے ہیں چراغاں
توقیر محبت کے سزاوار ہیں جگنو
بیماروں کو دیتے ہیں شفا نور سے اپنے
کس نے یہ کہا تم سے کہ بیمار ہیں جگنو
شاہین مجھے تجربے نے درس دیا ہے
تاریک سمندر میں بھی انوار ہیں جگنو
شاہین اشرف علی۔ کویت













