مجھ سے آگے میرا سایہ نہیں جانے والا
دیکھنے والوں سے دیکھا نہیں جانے والا
لاکھ پردے میں ہو پر دھیان رہے یاد رہے
تیز بارش میں نہتا نہیں جانے والا
اے شرر بار کوئی نقش نہیں دل پہ عیاں
ہاں اگر ہے تو یہ دیکھا نہیں جانے والا
ہم کہاں دشت و بیاباں پہ کھلے ہیں لیکن
ہم پہ آسیب ہے ایسا نہیں جانے والا
لاکھ تہمت ہو مگر پھر بھی چلا جاتا ہے
ہائے وہ رنج جو تنہا نہیں جانے والا
اے فراموش مجھے دیکھ مجھے دھیان میں رکھ
میں تیرے شہر سے پیاسا نہیں جانے والا
تم بھی تنہا مجھے سمجھے ہو بھری محفل میں
میں کسی طور بھی تنہا نہیں جانے والا
ندیم ملک













