میں کسی طور بھی تنہا نہیں جانے والا , ندیم ملک

0
1084

مجھ سے آگے میرا سایہ نہیں جانے والا
دیکھنے والوں سے دیکھا نہیں جانے والا

لاکھ پردے میں ہو پر دھیان رہے یاد رہے
تیز بارش میں نہتا نہیں جانے والا

اے شرر بار کوئی نقش نہیں دل پہ عیاں
ہاں اگر ہے تو یہ دیکھا نہیں جانے والا

ہم کہاں دشت و بیاباں پہ کھلے ہیں لیکن
ہم پہ آسیب ہے ایسا نہیں جانے والا

لاکھ تہمت ہو مگر پھر بھی چلا جاتا ہے
ہائے وہ رنج جو تنہا نہیں جانے والا

اے فراموش مجھے دیکھ مجھے دھیان میں رکھ
میں تیرے شہر سے پیاسا نہیں جانے والا

تم بھی تنہا مجھے سمجھے ہو بھری محفل میں
میں کسی طور بھی تنہا نہیں جانے والا

ندیم ملک

SHARE

LEAVE A REPLY