سلام بحضور مولا حسین علیہ السلام۔ کاظم کاظمی

0
1891

سلام بحضور مولا حسین علیہ السلام۔

رزمندگان دین حق بھرتے ہیں دم حسین کا
ہر باضمیر نے چنا دنیا میں غم حسین کا

نام _ یزید مٹ گیا دشنام بن کے رہ گیا
بدبختیوں میں گھہر کے وہ گمنام بن کے رہ گیا
لہرا رہا ہے دیکھ لو اب بھی علم حسین کا

ہر چار سو سے اٹھتی ھے دیکھو صدائے ماتمی
دنیا ہی کیا فلک پہ ھے برپا عزائے فاطمی
زینب نے کر دکھا دیا عرب و عجم حسین کا

عزم و ثبات و آگہی مولا ترے نشان ہیں
کعبہ ہو کربلا نجف طیبہ ترے مکان ہیں
ہر خشک و تر پہ ہوگیا ثابت قدم حسین کا

پیاسا تھا وقت ذبح تو اک کرت آب نہ پیا
اللہ نے مرحبا کہا سجدہ جو آخری کیا
اعلان حق یہ ہو گیا لوح و قلم حسین کا

بولے زہیر قین یوں مولا سے ہو کے روبرو
کل زندگی یا موت ہو مولا رہیگا میرا تو
اب ہو چکا یہ فیصلہ ہر اک جنم حسین کا

حور و ملک ہیں با ادب ہر انس و جاں ہے منقلب
ہو جائےاب تو حاضری کاظم کی روح ہے مضطرب
جھکتا ہے جسکو آسماں ۔ہے وہ حرم حسین کا۔

یوں دربدر کی ٹھوکروں سے دوستو میں بچ گیا
تاج_ غلامی_حسین ماتھے پہ میرے سج گیا
میرا تو سائباں بنا دست _ کرم حسین کا

مولا کی گرد_ پا رہوں دنیا میں سر بلند ہوں
کاظم میں بے عمل سہی کتنا میں بخت مند ہوں
مجھ کو نصیب ہو گیا ہے جام_ جم حسین کا ۔

کاظم کاظمی

SHARE

LEAVE A REPLY