فضاۓ کرب و بلا میں حسین کی خوشبو
رچی هے خاک – شفا میں حسین کی خوشبو
حبیب ابن – مظاہر سے هے مجھے الفت
تھی اس کے جوش – ولا میں حسین کی خوشبو
ادب سے آؤ غزا خانے میں غزا دارو
هے پھیلی بزم غزا میں حسین کی خوشبو
میں ایسے شاعر – خوش بخت کا بھی واصف هوں
هو جس کی مدح و ثناء میں حسین کی خوشبو
فقیر کہتے تھے روک کر جناب عابد سے
هے تیری جود و سخا میں حسین کی خوشبو
بسی تھی سیرت – مولا کی پیروی کے سبب
زهیر تیری عبا میں حسین کی خوشبو
سکینه لاش – پدر کے قریب بیٹھ گئی
جو سونگھی اس نے هوا میں حسین کی خوشبو
مرا عقیدہ هے اب تو رهے گی محشرتک
بلال دین – خدا میں حسین کی خوشبو
بلال رشید













