فضاۓ کرب و بلا میں حسین کی خوشبو۔ بلال رشید

0
446

فضاۓ کرب و بلا میں حسین کی خوشبو
رچی هے خاک – شفا میں حسین کی خوشبو

حبیب ابن – مظاہر سے هے مجھے الفت
تھی اس کے جوش – ولا میں حسین کی خوشبو

ادب سے آؤ غزا خانے میں غزا دارو
هے پھیلی بزم غزا میں حسین کی خوشبو

میں ایسے شاعر – خوش بخت کا بھی واصف هوں
هو جس کی مدح و ثناء میں حسین کی خوشبو

فقیر کہتے تھے روک کر جناب عابد سے
هے تیری جود و سخا میں حسین کی خوشبو

بسی تھی سیرت – مولا کی پیروی کے سبب
زهیر تیری عبا میں حسین کی خوشبو

سکینه لاش – پدر کے قریب بیٹھ گئی
جو سونگھی اس نے هوا میں حسین کی خوشبو

مرا عقیدہ هے اب تو رهے گی محشرتک
بلال دین – خدا میں حسین کی خوشبو

بلال رشید

SHARE

LEAVE A REPLY