سیدّہ، خیرالنساء، اُم الائمہ ءکرام
مادرِ آلِ محمدﷺ، دُخترِ خیرالانامﷺ
رشکِ مریم ، زوجہ ءمولا علی ، ذی احتشام
جملہ مستورات کی سردار ومخدومہ سلام
السّلام اے نور عین سرورِکون و مکاں
بیٹے سردارانِ جنت، باپ فخرِ دوجہاں
قافلہ سالارِ عظمت آپ خاتونِ جناں
عرش کو ہے نازجس پر آپ کا ہے آستاں
فاطمہ زھرا ہیں بے شک شکل انسانی میں حور
رحمۃ للعالمیں کی آپ ہیں آنکھوں کا نور
جس سے یہ راضی ہوں ، اُس سے راضی ہورب غفور
میری جاں ہیں آپ، فرماتے تھے یہ میرے حضور
مرحبا ، صل علیٰ کہ آپ ہیں بنت رسول
مادر آل نبی ، گلدستہ ء عصمت کا پھول
فاطمہ زہرا ہیں ذکیہ ، راضیہ ، عذرا ، بتول
حشر میں ہوگی شفاعت آپ کی بے شک قبول
عالم اسلام کی خاتون اوّل کا وقار
فخر حوّا ، رشک مریم ، آسیہ کا افتخار
مظہر شان نبی ء رحمت پروردگار
دست قُدرت کایقیناً آپ ہیں اِک شاہکار
دیکھو جبریل امیں ہیں آپ کے دَر کےگَدا
آئے ہیں بن کر بھکاری ،وقت ہے افطارکا
دیدیا سب کچھ اُنہیں، جو کچھ بھی افطاری میں تھا
گھونٹ سے پانی کےروزہ تیسرابھی کُھل گیا
عالمہ بھی ،عابدہ بھی ،طاہرہ بھی فاطمہ
سورہء کوثر کی ہیں تشریح بے شک فاتحہ
مالکہ ملکہ ، صبیحہ ، صادقہ اور صالحہ
آپ ہیں والعصر معنی ءحروف ہل اَتیٰ
باپ صادق اور امیں، بیٹی امینہ، صادقہ
آپ کے کیا کہنے صدیقہ، حلیمہ ، آمنہ
مریم کبریٰ بھی تھیں مستورومخفی آپ میں
صورت و سیرت میں ہے جلوہ رسول پاک کا
راکعہ بھی ،ساجدہ بھی ،عابدہ بھی فاطمہ
عالمہ ہیں ،فاضلہ ہیں،صالحہ بھی فاطمہ
ذاکرہ بھی،شافعہ بھی ،دانیہ بھی فاطمہ
عظمت و رفعت میں مرویٰ و صفابھی فاطمہ
مخزن فخر وتوکّل، معذنِ عظمت سلام
منبع جود وکرم ، اے سربسر رحمت سلام
السّلام اے پنجتن کی شان اور شوکت سلام
محورِ اہل کِسا، سادات کی عزت سلام
اہلِ بیتِ پاک کابھی مرکزومحورہیں آپ
نازشِ کونین بھی ہیں، فخر پیغمبر ہیں آپ
ہمسر مولودِ کعبہ، ہمدم حیدر ہیں آپ
دین و دنیا کے جمال وحسن کا مظہر ہیں آپ
آپ کی ہردوہتھیلی پر مشقت کے ہیں پھول
سورہ ء کوثر کی بے شک آپ ہیں شانِ نزول
ہیں طہارت یاب یوں دنیامیں کہلائیں بتول
آیہ ءتطہیر کا عنوان ہیں بنتِ رسول
باعثِ رحمت —-برائے ر حمتہ للعا لمیں
آپ صادق اور امیں کے بھی خصائل کی امیں
آپ کے تودر کے بھی دربان ہیں روح الامیں
آپ ساکوئی نہیں ہے،کوئی ہو سکتا نہیں
شاہزادی شاہِ ﷺ دوعالم کی ، یکتا ہر ادا
آپ کی پوشاک میں بھی کام ہے پیوند کا
فقر وفاقے میں بھی یہ دیکھی گئی شانِ سخا
کوئی خالی ہاتھ اس دَر سے نہیں لوٹاگدا
احمد مرسل ﷺبجالاتے تھے ان کا حترام
ان کی آمد پرکھڑے ہوکر وہ کرتے تھے سلام
مرحبا!یہ شان ،یہ عزت،یہ عظمت ،یہ مقام
مرتبت ایسی ہے کس کی؟ہے کوئی کیااور نام
اپنی پلکیں ان کے رستے میں بچھادیتے تھے آپ
یوں بھی عظمت ان کی دنیا کو دکھا دیتے تھےآپ
ان کی خاطر فرش پر کملی سجادیتے تھے آپ
خود کھڑے ہوکے انہیں اس پر بٹھادیتے تھے آپ
ہے کوئی ہستی جسے یہ شان، یہ عزت ملِی؟
فرش پر رہتے ہوئے بھی عرش کی رفعت ملِی
ان کو دربار رسالتﷺ میں بھی افضلیت ملِی
آپ کو ورثے میں بھی قرآں ملا، حکمت ملی
ناز ہے تقوے کو جس پر آپ کی ہے زندگی
رشک پیغمبرکریں ایسی ہے عصمت آپ کی
ہاں!لقب اُمّ ابیہا کا بتاتا ہے یہی!
ہیں نبی ﷺسے آپ بے شک ، آپ ہی سے ہیں نبی
باپ سے بیٹی کا ہونا تو سمجھ آتا ہے پر
باپ کا بیٹی سے ہونا عقل سےہے بالاتر
پھول، پھل، چھا ؤں کا منبع کون؟ کہناسوچ کر
درحقیقت آپ ہیں باغِ رسالت کا شجر
یوں ملا ہے آپ کو اُم ابیھا کا خطاب
آپ سے بے شک نبوت اور رسالت فیضیاب
سورہء کوثرہے دشمن کے سوالوں کا جواب
آپ سے نسلِ محمد ﷺ کی بقا، عصمت مآب
بخت یوں بھی اپنےبچوں کا جگا دیتی ہیں آپ
لوریاں قرآن کی دے کر سُلا دیتی ہیں آپ
رات کے پچھلے پہر اُن کو اُٹھا دیتی ہیں آپ
رحمتیں کیسے اترتی ہیں ، دِکھا دیتی ہیں آپ
آپ ہی کے گھر میں ہے ختمِ رسالت مرحبا
آپ کے گھر کا تفاخرہے امامت، مرحبا
شان کے شایان ہے بے شک ولایت مرحبا
آپ ہیں سرچشمہ ء رُشد و ہدایت مرحبا
آپ ہیں آنکھوں کی ٹھنڈک سرور کونین کی
آپ کے قدموں تلے جنت بھی ہے حسنین کی
روشنی باقی —-ہے برکت آپ کے قدمین کی
ہیں نچھاور آپ پر سب رحمتیں دارین کی
صحنِ بزم دوجہاں میں چاندنی زہراکی ہے
آج عورت کا تقدس ، روشنی زہراکی ہے
جو رِدا تارِمقدس سے بنی زہراکی ہے
ہے بدن پر جو حرم کے اوڑھنی زہراکی ہے
سیّدہ کی چادرِ تطہیر کو میرا سلام
ان کی مدحت میں ہر اِک تحریر کو میرا سلام
شان میں زہرا کی ہر تسطیر کو میرا سلام
آیہ ء تطہیر کی تفسیر کو میرا سلام
دولتِ دُ نیا و دیں ہے آپ کے دامان میں
ہے عقیدت آپ کی شامِل مِرے ایمان میں
سوچئے، اَب کیا کہوں میں فاطمہ کی شان میں
آپ کی لکھی ہوئی ہے منقبت قرآن میں
رات دن تسبیح ہے، تحمید ہے، تکبیر ہے
فاطمی تسبیح ہے کیا ؟نسخہ ءاکسیر ہے
یہ وظیفہ ایساہے، جس میں بڑی تاثیر ہے
ذکر سے دُکھ دور کرنا آپ کی تدبیر ہے
تولنا ممکن کہاں ہے؟ رحمتِ پروردگار
آپ کے بے شک محاسن کا نہیں کوئی شمار
مجھ پہ ہوجائے کرم کی اک نظر ہے انتظار
ہوں تہی داماں مگر بس آپ پر ہے اعتبار
منقبت در شان فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیھا
منقبت نگار : سید عارف معین بلے













