ترکی میں بڑے پیمانے پرنامعلوم مسلح حملہ آور کی تلاش جاری

0
285

ترکی میں بڑے پیمانے پر اُس نامعلوم مسلح حملہ آور کی تلاش جاری ہے، جس نے استنبول کے ایک نائٹ کلب پر فائرنگ کرتے ہوئے انتالیس افراد کو ہلاک کیا۔ وزیر داخلہ سوئلو پر امید ہیں کہ حملہ آور کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

ترک وزیر داخلہ سلمان سوئلو نے کہا کہ استنبول حملے میں ہلاک ہونے والے انتالیس افراد میں سولہ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہتر افراد زیر علاج ہیں، جن میں چار کی حالت نازک ہے۔ خاندانی امور کی ترک وزیر فاطمہ بتول کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں میں سعودی عرب، مراکش، لبنان اور لیبیا کے علاوہ ایک اسرائیلی خاتون شہری بھی شامل ہیں۔ دریں اثناء نائٹ کلب حملے میں ہلاک ہونے والے ایک ترک شہری کی نماز جنازہ استنبول میں ادا کی گئی۔

ترکی میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو پڑوسی ملک شام میں جاری جنگ اور اندرون ملک کرد علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں کا شاخسانہ سمجھا جاتا ہے۔ استنبول میں قائم الشرق فورم نامی تھنک ٹینک سے وابستہ تجزیہ کارغالب دالے کا کہنا ہے کہ ترکی شام کے ساتھ واقع اپنی سرحدوں کو دہشتگردوں کی آماجگاہ بننے سے روکنا چاہتا ہے اور اسی لیے وہ داعش کے خلاف بین الاقوامی جنگ کا ایک اہم حصہ ہے۔

غالب دالے کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ سال سے ترکی کے اندر دہشت گردا نہ حملوں میں تیزی آئی ہے اور اس طرح کے مزید حملوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’خفیہ معلومات اکھٹی کرنے والے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس طرح کے حملوں کا قبل از وقت پتہ چلانے اور ان کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔” انہوں نے کہا کہ ترکی کو اب اس طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتہائی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY