اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایسے کیسز جو دہائیوں سے زیر التوا ہیں انہیں 3 ماہ میں نمٹانے کے لیے ایک پالیسی تشکیل دے دی۔

ایک روز قبل ہی عدالت نے کچھ مقدمات میں ملزمان کو بری کرتے ہوئے نظام انصاف کی خامیوں کا اعتراف کیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سزا کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کرنے کی پالیسی کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ انتظامیہ نے ’ سماعت کے لیے مجرمانہ اپیل کو طے کرنے کا طریقہ کار وضع کیا، قانونی رسمی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے لیے ٹائم فریم مقرر کیا اور پھر اپیلوں کو ختم کرنے کے لیے شیڈول مرتب کیا‘۔

خیال رہے کہ ہائی کورٹ کے چیف اطہر من اللہ نے پیر کے روز 7 اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا تو دہائیوں سے جیلوں میں قید تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا موجودہ نظام انصاف ’جرائم کو روکنے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی میں ناکام‘ ہوگیا ہے کیوں کہ یہ نظام ’ مسلسل انصاف کے قتال اور بظاہر تباہی کے دہانے پر ہے‘۔

خیال رہے کہ موجودہ نظام انصٓاف میں مجرمانہ اپیلوں پر فیصلہ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں اور بعض اوقات ملزمان کو قید میں رہتے ہوئے فطری موت مرنے کے بعد بری کردیا جاتا ہے۔

مجوزہ پالیسی کے تحت ’سزا کے خلاف ہر اپیل پر عدالت میں دائر ہونےکے 90 روز ے اندر فیصلہ سنا کر خارج کیا جائے‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY