ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار ڈاکٹر انور سجاد کی نماز جنازہ اور تدفین

0
1503

معروف مصنف ، ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار ڈاکٹر انور سجاد کی نماز جنازہ لاہور میں ادا ہوئی جسکے بعد تدفین کر دی گئی۔ نمازجنازہ میں مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کینے شرکت کی ۔

کئی ماہ سے علالت اور ابتر معاشی صورتحال سے دوچار ڈاکٹر انور سجاد کی وجہ شہرت افسانے، ڈرامہ نگاری اور اداکاری ہے۔

ادبی منظر نامے میں اپنے نام اور کام سے شہرت یافتہ ڈاکٹر انور سجاد بیماری، بڑھاپے، تنہائی اور کسمپرسی سے جنگ لڑرہے تھے۔

کئی ماہ قبل ڈاکٹر انور سجاد نے اہلیہ کے ذریعے چند سطری خط صدر مملکت عارف علوی کے نام بھیجا تھا اور حکومت و اداروں کی بے اعتنائی کو آشکار کیا تھا۔

صدارتی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر انور سجاد نے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کراچی میں بھی خدمات سر انجام دیں۔ مارشل لا دور میں پابند سلاسل بھی رہے، لاہور سے الیکشن بھی لڑا۔

ڈاکٹر انور سجاد طویل علالت کے بعد چھ جون کو خالق حقیقی سے جاملے اور اردو ادب کا ایک روشن ستارہ راہ عدم کا مسافر ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق معروف ادیب انور سجاد گزشتہ روز جمعرات کو لاہور میں 84 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، انھوں نے زندگی کی آخری سانسیں لاہور کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اپنی رہایش گاہ میں لیں۔

انور سجاد طویل عرصے سے علیل تھے، پیشے کے لحاظ سے میڈیکل ڈاکٹر تھے تاہم لوگوں میں ان کی شہرت ان کے لکھے گئے ڈراموں، اداکاری اور فکشن نگاری کی وجہ سے تھی۔

دریں اثنا وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ڈاکٹر انور سجاد کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اردو ادب کا اثاثہ تھے، ادب و فن کے لیے ان کی گراں قدر خدمات بھلائی نہیں جا سکتیں۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر انور سجاد 1935 میں لاہور میں پیدا ہوئے، ان کے سوگواران میں ایک بیوہ اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY