ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے فغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی لگ بھگ 3 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی جائیدادیں نیلامی کے لیے ضبط کرلیں۔

خیال رہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ ملا اختر منصور نے اپنی جعلی شناخت استعمال کر کے یہ جائیدادیں خریدی تھیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے ایف آئی اے نے ملا منصور عرف محمد ولی عرف گل محمد، اختر محمد اور عمار کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کےسیکشن 11 ایچ، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

خیال رہے کہ 21 مئی، 2016 کو پاک-ایران سرحد پر ڈرون حملے میں مارے جانے والے ملا منصور نے کراچی میں پلاٹس اور گھروں سمیت 5 جائیدادیں خریدی تھیں۔

یہ انکشاف گزشتہ برس جولائی میں افغان طالبان کے رہنما اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے جعلی شناختوں کے ذڑیعے جائیداد کی خریداری سے مبینہ فنڈ اکٹھا کرنے سے متعلق کیس کی تحقیقات میں اے ٹی سی 2 میں جمع کروائی گئی ایف آئی اے کی رپورٹ میں سامنے آیا تھا۔

جنوری سے عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر کو یہ ہدایات کی گئی تھیں کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 87 اور 88 کے تحت ملا منصور اور اس کے 2 مبینہ مفرور ساتھیوں اختر محمد اور عمار کی جائیدادوں کو منسلک کرنے یا (ضبط) کرے۔

24 اپریل کو عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے ایف آئی اے کی جانب سے شناخت کی گئی جائیدادوں کی کی نیلامی کا عمل مکمل کرنے کے حکم پر رپورٹ جمع کروانے بعد ناظر (عدالتی عہدیدار) کو ملا منصور کی جائیداد قبضے میں لینے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ ان جائیدادوں کو نیلام کیا جائے اور اس حوالے سے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کروائے جائیں۔

حال ہی جب یہ معاملہ اے ٹی سی 2 کے جج کے سامنے آیا تو عدالتی ناظر نے عدالت کی جانب سے ملا اختر منصور کی جائیداد کو تحویل میں لینے سے متعلق رپورٹ جمع کروائی۔

جس پر جج نے آئندہ سماعت میں نیلامی کا اشہتار شائع ہونے سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔

اس کے ساتھ ہی جج نے تفتیشی افسر رحمت اللہ ڈومکی کی جانب سے کیس کی سماعت آئندہ ماہ کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے 11جون سے سماعت مقرر کردی۔

واضح رہے کہ افغان طالبان کے رہنما پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر جعلی شناخت پر 5 جائیدادیں خریدی تھیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY