اپریل 5 / 2020
کورونا اور نرسنگ ہومز

مجھے یاد ہے 2006 میں
اولڈ ایج سائیکاٹری کی میں رجسٹرار تھی
اور اکثر بوڑھے بزرگوں کو دیکھنے ان کے گھر بھی جانا پڑتا
اور کئی بار نرسنگ ہومز بھی جانا ہوتا
نرسنگ ہوم بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں
جو بوڑھوں کی ضرورتوں کے حساب سے طے کیئے جاتے ہیں
جو بات مجھے حیران کرتی ہے
وہ نرسنگ ہومز کا الگ الگ ملکوں سے منسوب ہونا ہے
جیسے اٹالین کا الگ نرسنگ ہوم تھا
چین کا الگ تو روس کا الگ
اسی طرح سے عرب ممالک سے بھی چند منسوب تھے
اور 2016 سے تو انڈین نرسنگ ہومز بھی بن گئے
یہاں کا عملہ زیادہ تر انہیں کی زبان بولنے والوں کا تھا
وہاں کھانا بھی وہی پکتا ہے جو اس ملک کا ہوتا ہے
مجھے بہت تلاش تھی
کہ ۔۔۔ کہیں
پاکستانی یا بنگلہ دیشی نرسنگ ہوم مل جا ئے
لیکن کبھی نہیں ملا ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں بوڑھے ضرور ملے
جنہیں ڈی مینشیا ۔۔۔ الزائمر ۔۔ جسمانی و زہنی معذوری تھی
تو ۔۔ کبھی تنہائی اور حالات وہاں لے آئے تھے
جن کو زبان کے مسائل تھے
اور ساتھ ساتھ حرام حلال کھانوں کی پریشانی تھی
نماز روزہ عیدین کی کچھ خبر نہ ہو تی تھی
میری آنکھوں میں کئی اور منظر بھی رک رہے ہیں
میں نے پاکستان میں
ماؤں کو زنجیر سے باندھ کر رکھنے والی اولاد کو بھی دیکھا ہے
اور ایدھی ہوم میں انتظار کا کہہ کر
کبھی واپس نا پلٹنے والے بیٹے بیٹیاں بھی دیکھی ہیں
اولڈ ہوم کو برا کہنے والے مسلمان
اپنا سر ریت میں دبائے بیٹھے ہیں
جو کسی بھی موضوع کی سنگینی میں اپنی ذات کو ہٹا کر
بڑے کینوس پر کبھی نہیں دیکھتے ہیں ۔۔۔۔
اولڈ ہوم میں
بوڑھوں کی نفسیات اور عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے
انہیں جینے کے قرینے پھر سے سکھائے جاتے ہیں
ارے لوگو ۔۔
انسان بوڑھے ہوتے ہیں
مرے نہیں ہوتے کہ انہیں کوئی غم دکھ نہیں لگتا
میری خواہشوں میں سے ایک خواہش پھر سے جاگی ہے
سڈنی میں مسلم اولڈ ہوم بنانا ہے
جہاں پاکستان ، انڈیا اور بنگلہ دیش کے بوڑھے آرام سے رہیں گے
وہاں نماز روزے اور حلال کھانوں کا اہتمام ہوگا
اردو پنجابی بنگالی زبان بولنے والوں کا عملہ ہوگا
سب کا آخری سفر سکھ چین سے گزر جائے گا
میں نہیں جانتی کہ میرا خواب پورا ہو گا کہ نہیں
پر ۔۔۔مجھے اپنے اس خواب سے بہت پیار ہے
اس سے کہیں زیادہ مجھے بوڑھوں کا خیال ہے
ان کی آنکھوں میں ہمہ وقت
چین اور عزت سے مرنے کی خواہش ہلکورے لیتی نظر آتی ہے
میرا مریض جیمس چالیس سال کاتھا
پر اپنی بیماریوں کے باعث اوپل نرسنگ ہوم میں رہتا تھا
مارچ میں جیمس کے مرنے کے بعد
اوپل نرسنگ ہوم میں کورونا کی وبا پھوٹ پڑی تھی
پھر تو جیسے بےچینی نے میرے دل میں گھر ہی بنا لیا
اخبار دیکھ رہی ہوں ۔۔ خبریں سن رہی ہوں
کورونا کا گراف اونچا ہوتا جا رہا ہے
دنیا بھر میں
کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 12 لاکھ 37 ہزار سے زائد
اور ۔۔۔ اموات کی تعداد 67 ہزار سے زائد ہو چکی ہے
امریکہ میں ایک دن میں
اب تک دنیا میں سب سے زیادہ 1169 اموات ہوئی ہیں
مشرق وسطی میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک
ایران میں 58،226 متاثرین ہیں
اور ۔۔۔ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 3،603 ہو گئی ہے
پاکستان میں اسوقت تک متاثرین 3,157 ہیں اور اموات کی تعداد 47 ہے
بھارت میں متاثرین 33,062 ہیں اور اموات کی 1,079 ہے
اسپین میں کورونا سے 24,275 افراد
اٹلی میں 27,682 افراد
فرانس میں 24,087 کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں
برطانیہ میں کورونا سے 26,097 افراد ہلاک ہو چکے ہیں
اور ان میں سے انگلینڈ اور ویلز کے
نرسنگ ہوم میں 8،312 اموات ہوئیں
امریکہ کے نرسنگ ہومز میں اب تک 28،100اموات ہو چکیں ہیں
آسٹریلیا کے نرسنگ ہومز میں اب تک 17 اموات ہوئی ہیں
اسپین کے شہر میڈرڈ میں دو نرسنگ ہومز میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں
سویڈن 400 سے زیادہ افراد متاثراور 50 افراد کی موت ہوگئی
جاپان اور جنوبی کوریا میں درجنوں ہلاکتیں شمار ہو رہی ہیں
سنا ہے ۔۔۔ لندن میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے
نو دن میں تیار کیے گئے ہزاروں بستروں پر مشتمل
ایک نئے فیلڈ ہسپتال کا افتتاح ہوا ہے
ورلڈ بینک نے ایکبار پھر کہا ہے ۔۔۔ کہ
کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر
ایشیا کے کئی ممالک سمیت دنیا بھر میں
دو کروڑ 40 لاکھ لوگ غربت سے نجات حاصل نہیں کر پائیں گے
سب تخمینے اپنی جگہ
سچ تو یہ ہے کہ جو
جان سے گئے وہ کبھی واپس نہ آیئں گے
وہ معصوم لاچار اور بیمار بوڑھے
جنہیں معلوم تک نہ تھا کہ وہ کیوں مر رہے ہیں
لواحقین کا داخلہ بند ہونے پر جنہیں کندھا نہ مل سکا
وہ تو کچھ کہہ بھی نہ سکے ۔۔ اور ۔۔۔۔۔
ایک تنہائی سے نکل کر دوسری مستقل تنہائی میں چلے گئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اپریل 6 / 2020
کورونا اور قیدی

ابھی ابھی نرس یونٹ منیجر جورجینا نے بتایا
کورونا کے کیسزز ہر تیسرے روز دوگنے ہو رہے ہیں
لہذا ہمیں
اپنے قدرے بہتر مریضوں کو
دوا کے لئے فارمیسی شفٹ کرنا ہوگا
تاکہ پیرول پر رہا ہونے والے
مریضوں کو طبی سہولتیں دے سکیں
اف میرے ذہن ہی سے نکل گیا
دنیا کی جیلوں میں ہزاروں لاکھوں قیدیوں کا کیا ہوگا
جو اگر ایک بار وہاں کورونا کی وبا پھوٹ پڑی ۔۔ تو ؟
خدا نہ کرے ۔۔۔ یا اللہ رحم
جیلوں میں بند
ملزموں اور مجرموں کو محفوظ رکھنے کے معاملے میں
حکومت کو ہر ممکن تدابیر کرنی چاہیئے
اور ہم سب اس تدبیر کا حصہ ہو رہے تھے
ویسے کورونا وائرس نے لاک ڈاؤن کے زریعے
پوری دنیا کو ایک قید خانے میں بدل دیا ہے
جنہوں نے کبھی جیل نہیں دیکھی
یا ۔۔۔ صرف آزاد ملکوں میں ہی سانس لی ہے
وہ شاید قید و بند کی زندگی کا احساس نہ کر سکیں
ایک قیدی کی نفسیات کا ادراک ہونا مشکل ہوتا ہے
ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں
جیل کس طرح کی قید ہو تی ہے
قیدی کے لئے آزادی ایک بڑی نعمت ہوتی ہے
پوری دنیا کی جیلوں میں
گنجائش سے زیادہ قیدی رہتے ہیں
جیسے دہلی کی تہاڑ جیل میں 5200 قیدیوں کی جگہ ہے
لیکن وہاں 12100 سے زیادہ قیدی رہتے ہیں
پاکستان بھر کی 114 جیلوں میں 77 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں
جبکہ قیدیوں کی گنجائش 50 ہزار ہے
ان قیدیوں میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے
جن کے خلاف مقدمات ابھی شروع بھی نہیں ہو پائے
کورونا کی بڑھتی ہوئی دہشت کے تحت
پوری دنیا میں
قیدیوں کو رہا کرنے کا آغاز ہو چکا ہے
انڈونیشیا میں تقریباً تیس ہزار قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے
تھائی لینڈ میں بھی قیدیوں کی رہائی کے لئے کوششیں دو چند ہو گئی ہیں
برما نے پچیس ہزار قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے
فلپائن کی جیلوں کو
دنیا میں سب سے پرہجوم قیدخانوں میں شمار کیا جاتا ہے
وہاں کی ایک پرہجوم جیل میں
کرونا وائرس کے 18 کیسز کا پتا چلا ہے
اسرائیل کی جیلوں میں 43 خواتین، 180 بچوں
اور 700 مریضوں سمیت تقریباً 5 ہزار فلسطینی قیدی موجود ہیں
یمن میں وباء کے پھیلاو کے احتمال کی وجہ سے
حوثیوں نے ایک ہزار 600 قیدیوں کو رہا کر دیا ہے
ایران کی جیلوں میں میں 189،500 افراد قید تھے
ایران میں ابتک جیلوں سے 85 ہزار قیدیوں کو
گھر میں نظر بند رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے
سوچ رہی ہوں
جہاں جہاں بھی جیلوں میں
قیدی گنجائش سے زیادہ بھرے ہیں
اگر حکومتیں چاہیں تو موجودہ صورتحال میں
آدھے قیدیوں کو ہی رہاکر دیں تو
شاید
کورونا سے وہ سب بچ جایئں
ڈاکٹر نگہت نسیم













