قسط 83
ہائے سکینہ ، ہائے پیاس ، ہائے عباس
ہائے زندان شام ، ہائے سید سجاد
قراٰن کریم میں اللہ پاک نے فرمایا ہے
کہ
اس نے ہر چیز کو پانی سے خلق کیا
” تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں “
( سورہ انبیاء ،آیت 30)
” خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا”
(سورہ نور، آیت 45)
پھر اللہ نے پانی کو رحمت کہا
” اور وہی تو ہے
جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد
مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے
” ( سورہ شوریٰ ،آیت 28)
اللہ نے پانی کی فضیلت کو
کچھ اس طرح بتایا
کہ
خود پانی کو ناز ہو۔۔۔۔ اللہ فرماتا ہے
“اور وہی تو ہے
جس نے
آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا
اور (اس وقت)
اس کا عرش پانی پر تھا”
(سورہ ہود، آیت 7)
قران پاک کی آیاتِ کریمہ میں
اللہ نے اپنی سقائیت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا
” ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں
(جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی ہوتی ہیں
اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں
اور ہم ہی
تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں
اور تم تو اس کا خرانہ نہیں رکھتے”
(سورہ حجر،آیت 22)
پھر فرمایا
” اور تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایا”
(سورہ مراسلات، آیت 27)
قرآن کریم میں حضرت موسیٰ ع کی سقائیت کا ذکر ہے
” تو موسٰی نے
اُن کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا
پھر سائے کی طرف چلے گئے”
(سورہ قصص، آیت 24 )
اللہ پاک نے
حضرت اسماعیل ع کی ایڑیوں سے
آب زم زم جاری کروا کر ان کو سقائیت کی عظیم فضیلت عطا فرمائی
تاریخ گواہ ہے
کہ
اولاد اسماعیل میں
قصی بن قلاب نے
حجاج کو
پانی پلانے اور انکے طعام کا بندوبست کرنے کی بنیاد رکھی
انکے بعد
عبدالمناف ،پھر ھہاشم ،مطلب بن عبدالمناف
اور پھر عبدالمطلب نے اس ذمے داری کو نبھایا
انکے بعد
ابوطالب ع ، پھر عباس بن عبدالمطلب (رض) نے
ان ذمہ داریوں کو فتح مکہ تک نبھایا
رسول اللہ (ص) نے سقائیت کو اوج کمال عطا کیا
اپنے چچا کے ساتھ تجارت کی غرض سے سفر شام کیا
اور راستے میں ایک خشک کنویں کو
اپنے معجزہ سے رواں کیا اور تمام قافلہ کو سیراب کیا
کئی مواقع پر
آپ (ص) نے اپنے اصحاب کو اپنے معجزہ سے پانی مہیا کیا
ایک دفعہ مکہ میں
دورانِ خشک سالی قحط پڑ گیا
ابوطالب ع نے
رسول اللہ (ص) کے وسیلے سے دعا کی اور اللہ نے بارش برسا دی
رسول اللہ (ص) کا اہل مدینہ کے لئے نزول بارش کی دعا فرمانا اور بارش کا ہونا
امام علی علیہ السلام کی سقائیت کمال پر تھی
امام علی ع کا غزوہ بدر میں سقائی کرنا
اور رسول اللہ (ص) کے خیمہ میں پانی مہیا کرنا
امام علی ع کا صلح حدیبیہ کے موقع پر
رسول اللہ (ص) اور تمام اصحاب (رض) کے لئے پانی مہیا کرنا
عثمان بن عفان کے گھر کا محاصرہ ہوا تو ان تک پانی پہنچوانا
صفین میں دریا پر قبضہ کر کے دشمن پر پانی بند نہ کرنا
جبکہ
دشمن نے اپنے قبضہ کے دوران پانی بند کیا تھا
اپنے قاتل ابن ملجم (ملعون) کو
شہادت سے قبل خود کے لئے آیا ہوا شربت پلوانا
حسنین ع کی سقائیت بھی عروج پر تھی
ایک دفعہ کوفہ میں
خشک سالی کے دوران
امام حسن ع اور امام حسین ع کی دعا سے بارانِ رحمت کا نزول ہونا
امام حسین ع کا اپنے دشمن لشکر کو
اپنا پانی کا سارا زخیرہ پلا دینا
جبکہ
اسی دشمن نے کربلا میں انکا پانی بند کر دیا
عباس بن علی ع کی سقائیت دیکھئے
عباس بن علی وہ سقا ہے
کہ
جس نے
تاریخ ِ سقائیت کی تشنگی کو اپنے لہو سے سیراب کیا
جناب عباس بن علی ع نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی
ان کی سقائیت کی مثالیں تو سارا زمانہ دیتا تھا
ثمرات الاھواد میں روایت ہے
کہ
ایک دن امام علی ع
حسنین کریمین ع کے ساتھ
مسجد میں تشریف فرما تھے
پاس ہی عباس بن علی ع بھی تشریف فرما تھے
امام حسین ع نے پیاس کو محسوس کیا
تو
عباس بن علی ع فوراً سمجھ گئے
اگر چہ بہت کمسن تھے
مگر
گھر کو روانہ ہوئے اور اپنی والدہ سے ماجرہ عرض کیا
جناب ام البنین نے جلدی سے کاسہ پانی سے پر کیا
اور عباس بن علی ع کے سر پر رکھا
اور آپ ع واپس مسجد کو چل دئے
کمسن ہونے کی وجہ سے
پانی سنبھالا نہ جا رہا تھا اور شانوں پر گر رہا تھا
آپ ع کو آتے دیکھ کر امام علی ع کی آنکھیں بھر آئیں
اور کربلا کا منظر
جو رسول اللہ (ص) سے سنا تھا ۔۔۔ یاد آ گیا
آپ ع نے اس دن سے عباس ع کا نام “السقاء” رکھ دیا
عباس بن علی ع نے سفرِ کربلا
اور
واقعہ کربلا کے دوران
متعدد بار قافلہ امام حسین ع کی سقائیت کی
سات محرم کو بھی
لشکر یزید (ملعون) سے پانی کا قبضہ چھڑوا کر خیام میں پانی مہیا کیا
اور باالاخر 10 محرم کو
پانی کی سقائیت کرتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہو گئے
بے شک پانی کی سقائیت
اللہ کے برگزیدہ اور صالح بندوں کا شیوہ ہے
جنابِ عباس (ع) کی شہادت کے بعد
سکینہ بنت حسین ع خاموش ہو گئیں
اور پھر موت کے وقت تک پانی نہ مانگا
کیونکہ
معصوم سکینہ ع کو آس تھی
کہ
چچا عباس ہی پانی لائیں گے
تاریخ گواہ ہے
کہ
شہادتِ جنابِ عباس علمدار (ع) کے بعد
العطش العطش (ہائے پیاس ہائے پیاس) کی صدائیں نہیں آئیں
جاری ہے













