وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ایئرپورٹس کے انتظامات نجی شعبے کو دینے سے متعلق وفاقی کابینہ نے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی۔

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ اجلاس میں ایئر پورٹس کے انتظامات کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے متعلق بات ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اقدام کا مقصد پاکستان کے ایئر پورٹس کو عالمی معیار تک لانا ہے۔

شبلی فراز نے بتایا کہ رواں برس کی 30 جون تک آؤٹ سورسنگ (نجی شعبے) کے تمام لیگل فریم ورک کو مکمل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے اگست 2016 کے بعد سے تمام وزارتوں میں قوائد و ضوابط پر عمل کے بغیر کی گئی بھرتیوں سے متعلق تفصیلات جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دے دیا۔

شبلی فراز نے بتایا کہ اب تک فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 27 وزارتوں میں 600 سے زائد ملازمین کی نشاندہی کی گئی جن کی غیر قانونی طور پر بھرتیاں کی گئیں۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ معاملے پر اب تک تفصیلات جمع نہ کرانے والی وزارتوں پر برہمی کا اظہار کیا اور انہیں ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔

سینیٹر شبلی فراز نے بتایا کہ وفاقی کابینہ میں اشتہارات کی مد میں میڈیا کو ادائیگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ معاملے پر بحث کا مقصد عید سے قبل میڈیا ہاؤسز کے واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے ذمہ عائد تمام واجبات ادا کریں تاکہ عید سے قبل میڈیا ورکرز کو اپنے تمام واجبات مل سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ایس مسعود اختر نقوی کو سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بورڈ کا چیئرمین بنانے کی منظوری دے دی۔

علاوہ ازیں شبلی فراز نے بتایا کہ سابق چیئرمین کو ممبر بورڈ بنا دیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY