چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ججوں کو بروقت فیصلے اور وکلا کی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ عدالت میں بدمزگی کا واقعہ پیش آئے لیکن اب حالات ایسے نہیں رہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق بھی ملتان سے ہے اور یہاں کئی سال گزارے ہیں اور ملتان نے سپریم کورٹ کو گھیرا ہوا ہے کیونکہ چیف جسٹس اور جونیئر جج بھی یہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔
‘پنگ پونگ بڑی پرانی کھیلتے ہیں’
چیف جسٹس نے کہا کہ ‘ملتان بینچ سے میری یادیں وابستہ ہیں، پہلے مقدمات لڑتے تھے پھر بار رومز میں آتے تھے اور یہاں ٹیبل ٹینس کی ٹیبل ہوتی ہے صدر بار ضیاالدین قمر صاحب نے ایک مقابلہ کروایا’۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ‘اتفاق سے میں ملتان بینچ کا ٹیبل ٹینس چمپیئن بن گیا تو پنگ پونگ بڑی پرانی کھیلتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘میں اور خالد لطیف نے چیس بھی بہت کھیلی اور شام کو تقریبات ہوتی تھیں اور ہماری ایک کرکٹ ٹیم ہوتی تھی، ملتان کرکٹ کلب گراؤنڈ میں لطیف امرتسری ہمارے پیٹرن تھے جنہوں نے انگلینڈ سے ہمارے نام کی کٹس لائی تھیں’۔
اپنے ماضی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے نے کہا کہ ‘سردار عبدالطیف کھوسہ ہماری کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اور اب بھی کافی چیزوں میں کپتان ہیں اور مختلف شعبوں میں سرگرم عمل ہیں’۔
‘عدالت میں اب وہ حالات نہیں رہے’
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ‘میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت اچھا ماحول تھا، سینئر اور جونیئر کے درمیان پیار، شفقت، استاد اور شاگرد اور اچھا احترام تھا اور جن ججوں کے سامنے ہم پیش ہوتے تھے وہ بڑے مخلص اور پڑھے لکھے ہوتے تھے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘کبھی کوئی واقعہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کسی قسم کے حالات پیدا ہوں کہ عدالت کے اندر بدمزگی پیداہوجائے یہ قابل تصور تھا کیونکہ ماحول ایسا تھا اور تربیت دینے والے ایسے تھے تو اب حالات وہ نہیں رہے’۔
کہ وکالت کےپیشے میں اب ماضی جیسا اچھا ماحول نہیں رہا، ماضی میں مقدمات کم تھے اس لیے جج تسلی سے سن لیتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ مقدمات کے باعث جج صاحبان وکلا کوزیادہ وقت نہیں دے پاتے جبکہ نئے وکلا زیادہ ہیں اور ان کی رہنمائی کے لیے سینئر وکلا بھی کم ہیں اس لیے جس کی دو سال کی بھی پریکٹس ہے اس کے ساتھ بھی 7 جونیئرز چل رہے ہوتے ہیں۔
تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘لا کالجوں میں صورت حال یہ ہے کہ جس نے فرسٹ ایئر پاس کیا اور سیکنڈ ایئر میں جاتا تو اس کو کہتے ہیں آپ فرسٹ ایئر کو پڑھائیں گے تو آپ کی فیس معاف ہوگی اس طرح سیکنڈ ایئر کا طالب فرسٹ ایئر کو پڑھاتا ہے’۔
چیف جسٹس نے کہا کہ علم سیکھنے اورسکھانے کی روایت کوآگے لےکر چلنا ہوگا، تاریخ، حساب اور ادب انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بطور جج کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ فیصلے کریں۔












