اللہ سبحانہ تعالیٰ بندے کو کیسا دیکھنا پسند کرتا ہے۔ شمس جیلانی

0
1695

ہم گزشتہ کالموں میں یہ بتا چکے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو رمضان میں کیسا دیکھنا چا ہتا ہے۔اور دوسرے مضمون میں ہم نے بتا یا تھا کہ عید الفطر پر وہ کیسا دیکھنا چا ہتا ہے اور اب ہم یہ بتا نے جا رہے ہیں کہ وہ پورے سال کیسا دیکھنا چا ہتا ہے؟یہ آپ سب جا نتے کہ رمضان المبارک کا مہینہ ایک طرح سے ہمارے لیئے “ریفریشر کورس “ ہےجیسے کہ دنیاوی مالکان اپنے تمام ملازمین کو سال میں ایک دفعہ اس لئے ریفریشر کورس پر بیھجتے ہیں کہ یاد بھی تازہ ہو جا ئے اور نئی معلومات بھی میلیں اور ان میں اضافہ ہو۔۔ اسی طرح ہمارا مالک ہماری طرف رمضان المبارک بھیجتا ہے۔ ممکن ہے ان دنیاوی مالکا ن نے بھی ہمیں سے سیکھا ہو اور ہماری لا ئبریریوں ہی سے لیکر گئے ہوں؟ کیونکہ اللہ کسی کو جب کچھ عطا فرماتا ہے تو وہ اس کی صلا حیت بھی عطا فرماتا ہے۔ انہیں جب ہماری جگہ دنیا کی قیادت دی تو اس کی صلاحیت بھی انہیں عطا کی ہوگی، جس طرح ہمیں امامت دی تھی تو صلاحیت بھی عطا فرمائی تھی۔ اس لئے کہ یہ ضروری ہے جیسے کہ وہ پیدا کرنے سے پہلے بطخ کے بچے کو تیرنا سکھاتا ہے۔اور یہ بھی یاد رکھیئے جو کہ قر آن میں ہے کہ وہی عزت عطا بھی کرتا اور واپس بھی وہی لیتا۔ میں نے صرف اشارہ دیدیا ہے کیونکہ اس سے قران بھرا ہو ہے جو چاہے وہاں جاکر پڑھ لے۔اس سے پچھلے والے مضمون میں نے حضرت عمرؓ کی وہ نصیحت بیان کی تھی جو انہوں نے حضرت سعدؓ بن ابی وقا س ؓ کو ایران بھیجتے ہوئےکی تھی کہ ـ کہیں تمہیں یہ زعم ہلاک نہ کر دے کہ تم حضور ﷺ کےرشتہ دار ہو اللہ کا کسی سےکو ئی رشتہ نہیں ہے سوائے اطا عت کے “۔ جبکہ ہم بغیر اطاعت کے بہترین امت ہونے کے وہم میں مبتلا ہیں؟ یقینا ہم میں سے وہ اس کے حقدار ہیں جوکہ با عمل بھی ہیں۔ مگر ان کی تعداد کیا ہے وہ آپ خود اعداد شمار نکا لیجئے؟مگر یہ خیال رکھیئے کہ قرآن میں جہا ں بھی مومن کا ذکر آیا ہےاس کے فوراً بعدعمل صالح کا بھی ذکر آیاہے۔ اس تمہید کے بعد میں اس بات پر آتا ہوں کہ پورے سال اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کیسا دیکھنا چاہتا۔ چونکہ مومن اللہ کی مرضی کے مطابق جینے اور مرنے کا نام ہے تا کہ “ رب راضی رہے“ یہ پنجابی زبان کا مشہور قول ہے (جن کی پاکستان میں تو اکثریت ہے ہی ہے لیکن دنیا بھر میں گھوم جا ئیے زیادہ تر لوگ پنجابی النسل ملیں گے جن میں یہ خادم خود بھی شامل ہے) اس کے علاوہ یہ ہی مضمون حدیثوں میں بھی ہے قرآن میں بھی ملے گا وہاں تلاش فرمالیں۔ اس بحث سے آپ کو اللہ کی پسند اور ناپسند کی اہمیت معلوم ہو گئی ہو گی۔اگر دنیا کی قیادت کرنا ہے تو اس کو راضی کرلیں دنیا خود بخود راضی ہو جا ئیگی۔ دوسری بات یہ ہے اگر خود کو بندہ کہتے ہیں۔ تو بندہ ہمیشہ اپنے آقا کا وفادار غلام ہوتا ہے۔ باغی غلام نہیں نا فرمان نہیں ہوتا ورنہ مالک اس کو کسی کے ہاتھ اونے پونے فروخت کرکے اپنی جان چھڑا لیتا ہے۔ جبکہ ہمارا مالک جو ہے وہ بے نیاز بھی ہے اور سورہ ابراہیم ّ کی آیت 7 میں موسیٰ ّ کے ذریعہ فرما چکا ہے۔ کہ “اگرتم میری نعمتوں پر شکر کروگے تو میں زیادہ دونگا؟ اگر کفر کروگے تو میرا عذاب بھی شدید ہےاور یہ کہ دنیا کے تمام کافر ایک جگہ جمع ہو جا ئیں تو سب ملکر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔“لہذا ہمیں ایک عقلمند انسان کی طرح یہ فیصہ کر لینا چاہیئے کہ اپنی مرضی پر چلنا چا ہتے ہیں یا خدا کی مرضی پر ،کیونکہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ عزت اورذلت دونوں میرے ہاتھ میں ہیں اس لئے اسے میرے پاس تلاش کرو غیر کے پاس نہیں۔ کیونکہ وہ “ جلی شرک ہو گا خفی بھی نہیں“ اور شرک کے بارے میں اس نے یہ بت دیا کہ “ تم پہاڑ کے برابر گناہ لیکر آجا ؤ اور توبہ کرکے میرے دامن آجا ؤ میں معاف کردونگا معاف کرنا پسند کرتا ہوں۔ لیکن شرک معاف نہیں کرونگا۔اب آپ یہ فیصلہ کر لیجئے کہ آپ دنیا کو خوش رکھنا چاہتے ہیں یا اللہ کو؟ جس کے بارے میں وہ خود فرما تا ہے کہ“ تم میری طرف بڑھوگے تو دنیا خود بخود مل جا ئیگی لیکن اگر تم دنیا کے پیچھے بھاگو کے تو عقبیٰ خود بخود نہیں ملے گا۔“اگر آپ اللہ کو راضی رکھنا چاہتے ہیں؟ تو میرے پاس آپ کے لئیے مشورہ یہ ہے کہ ابھی تازہ بہ تازہ “ ریفریشر کورس سے“ گزرے ہیں ویسے ہی بن جا ئیے جیسا کہ آپ کو وہ پورے سال دیکھنا چا ہتا ہے اور گارنٹی بھی دیتا ہے کہ ایک نماز سے دوسری نماز تک اور ایک سال سے دوسرے سال کے روزوں تک کفالت بھی ملیگی۔ اس طرح وہ آپ کے امور کا خود نگراں ہو گا۔ اگر منظور ہے تو آگے بڑھئے سورہ انفعال کی آیت نمبر ایک سے چار تک پڑھ کراور سمجھ کر عمل کر لیجئے بس کافی ہے۔ اس میں کیا ہے وہ میں آگے بتا ئے دیتا ہوں۔ اور پورا مسلمان بننا ہے تو حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر بھی عامل ہو جا ئیئے۔ کہ“ قر آن کہہ رہا ہے کہ تمہاری نبی ﷺکے اسوہ حسنہ میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے“ یہ میرے دو مشورے مان لیں اور آپ پورے پورےاللہ کے بندے بن جا ئیں۔ اور آیت257 کے مطابق وہ خودآپکا ولی بھی بن جا ئیگا۔ یہ کتنا بڑا اعزاز ہے اگر آپ جانتے ہیں کہ دوست کا دوست کیا ہوتا؟اب میں صرف ان چار آیتوں پر روشنی ڈالکر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔
پہلی آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے صرف تین ہدایات عطا فرمائی ہیں۔ “ میری اطاعت کرو میرے رسول ﷺکی اطا عت کرواور آپس میں معاملات درست کر لو 0بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں جب اللہ کا ذکر کرو قلوب ڈر جا تے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں انہیں پڑھ کر سنائی جا تی ہیں تو وہ انکے کے ایمان کو تازہ اورپختہ کر دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں o جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں oسچے ایمان والے یہ ہی لوگ ہیں جنکے لئے بڑے بڑے درجے ہیں اور ان کے رب کے پاس انکے لیئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے o
آپ نے دیکھا کہ اس میں بنیادی بات کیا ہے۔ وہ تین ہیں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اطاعت، نبیﷺ کی اطاعت اور آپس کے معاملات کو درست رکھنا۔ پھر ان کی تعریف فرما رہا کہ ان کے سامنے جب قر آن کی آئتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان تازہ اور پختہ کردیتی ہیں اور وہ صرف اپنے رب پر توکل کر تے ہیں۔ پھر مزید اوصاف بیان فرمارہا کہ وہ نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ہم نے انہیں جو مال دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں انکے لیئے بڑے بڑے درجے ہیں اور ان کے رب کے پاس ان کے لیئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔
بس اِن کا جائزہ لے لیں کہ ہم کس حد تک ان پر عمل پیرا ہیں، اگر سب پرہیں تو آپ نے رمضان کی رحمتوں سے پورا پورا فائدہ اٹھالیا، مغفرت بھی کرالی اور جہنم سے نجات بھی پالی۔ کیونکہ آگے عزت کی روزی کاوہ وعدہ فر ما رہا ہے جو صرف صرف جنت کا خاصہ ہے۔ اس سے آپ کو یہ جواب مل گیا ہوگا اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنےبندو ں کوہمیشہ کیسا دیکھنا چا ہتا ہے۔ بس ویسے ہی بن جا ئیے۔ بعض مفسرین اس میں اور بھی اضافہ کیا ہے کہ قر آن سن کر ان پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور بیان کیا ہے کہ برا ئی سے تائب بھی ہوجا تے ہیں۔ بہت سے ڈاکو ولی بن چکے ہیں۔ اللہ ہم سب کوایسا بننے کی تو فیق عطا فر ما ئے۔آمین

SHARE

LEAVE A REPLY