صدر مملکت نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے

0
953

صدر مملکت آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے۔

گزشتہ روز 27 ویں ترمیم کے معاملے پر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نے سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

اور اپنے استعفے صدر مملکت کو ارسال کیے تھے۔

ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق صدرِ آصف زرداری نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کےاستعفے منظور کر لیے۔

خیال رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نےگزشتہ رات ساتھی ججز سے ان کےچیمبرز میں جاکر الوداعی ملاقاتیں کیں، ساتھی ججز نے جسٹس منصور اور جسٹس اطہرمن اللہ کو استعفیٰ نہ دینے کا مشورہ دیا اور ساتھی ججز آخری وقت تک دونوں کو مستعفی نہ ہونے پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

ذرائع کے مطابق ساتھی ججز کے اصرار کے باوجود دونوں ججز اپنے فیصلے پر قائم رہے اور ساتھی ججز سے ملاقاتیں کرنے کے بعد استعفیٰ دیا پھر سپریم کورٹ سے روانہ ہوگئے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو 2 خطوط بھی لکھے تھے۔

اپنے استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہےکہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے،27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نےکہا ہےکہ 27 ویں ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنادیا ہے۔27 ویں ترمیم نے ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY