بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں بھارت کی شمولیت کی وکالت کی ہے اور کہا ہے کہ اگر افغانستان میں بھارت کی دلچسپی ہے تو اسے مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے۔

انھوں نے اپنی سالانہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس وقت کئی ممالک طالبان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اگر افغانستان میں بھارت کی دلچسپی ہے، اور ضرور ہے تو بھارت بات چیت سے الگ نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں کسی بھی طرح بات چیت میں شامل ہونا چاہیے۔

اس سے قبل بدھ کے روز انھوں نے رائسینہ ڈائلاگ میں بولتے ہوئے امریکی قیادت میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کی حمایت کی تھی۔

جمعرات کے روز انھوں نے واضح کیا کہ بھارت یہ جاننا چاہتا ہے کہ بات چیت میں کیا ہو رہا ہے۔ جب تک آپ بات چیت کی میز پر نہیں ہوں گے آپ یہ نہیں جان سکیں گے کہ کیا ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے قبل حکومت نے مذاکراتی عمل میں اپنے دو نمائندے بھیجے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ماسکو میں طالبان کے ساتھ ہونے والے کثیر فریقی مذاکرات میں، جن میں افغانستان سمیت کئی ملکوں نے شرکت کی تھی، بھارت نے اپنے دو سابق سفارت کاروں کو بھی بھیجا تھا۔ تاہم ان سے کہا گیا تھا کہ وہ خاموش شرکت کریں۔

ان کے اس بیان کی روشنی میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا بھارت طالبان کے تعلق سے اپنے موقف پر نظرثانی کر رہا ہے۔

اب تک بھارت کا موقف طالبان کے ساتھ عدم مذاکرات کا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ کوئی بھی بات چیت افغانستان کی قیادت میں اور اس کی ذمہ داری میں ہونی چاہیے۔

بپن راوت نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان سے مذاکرات کا فارمولہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر پر نافذ نہیں ہو گا۔ انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔ ان کے مطابق کشمیر میں مذاکرات ہماری شرطوں پر ہوں گے۔

ایک روز قبل سابق وزرائے اعلی عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ جب آرمی چیف طالبان سے مذاکرات کی وکالت کر سکتے ہیں تو کشمیر کے علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کیوں نہیں ہو سکتے۔

آرمی چیف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارتی افواج نے چین اور پاکستان کی سرحد پر حالات کو بہتر انداز میں ترتیب دیا ہے لہٰذا تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔

ان کے مطابق ہم رفتہ رفتہ حالات کو بہتری کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ہم نے نرم اور سخت دونوں رخ اختیار کیے ہیں۔ دہشت گردوں کے لیے امن کی طرف قدم بڑھانے کا راستہ ہمیشہ کھلا ہوا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY