میاں صاحب کی خلائی مخلوق سے جنگ۔۔شمس جیلانی

0
145

آجکل میاں صاحب اور انکی ذریات کسی خلائی مخلوق کی بات کر رہے ہیں اور ان کی ہر تشبیہ کی طرح اس کو بھی میڈیا والے خوامخوہ ان کے محسنوں کی طرف لے جاتے ہیں جو انہیں سیاست میں کبھی لانے کا باعث ہوئے تھے اور ان پر محسن کشی کی تہمت لگاکر کر انہیں محسن کش قراردینے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے نزدیک ہر پہلوسے یہ ایک بہت بڑی نا انصافی ہے۔ کیونکہ اس کے ڈانڈے محسنین سے ملانے سے پہلے ان سے پوچھ تو لیتے کہ خلائی مخلوق سے آپ کی مراد کیا ہے؟ تو بات صاف ہوجاتی۔ جو سچ ہوتاوہ میڈیاکو معلوم ہوجاتا۔اور اانکا گمان غلط ثابت ہوتا؟ اس لیے کہ ہمارا گمانِ غالب ہے کہ کوئی مسلمان محسن کش ہوئی ہی نہیں سکتا اور وہ بھی ا ن جیسا صادق اور امین مسلمان جو جھوٹ قطعی نہ بولتا ہو اور جھوٹا کہتا ہو ؟ جس کی پروش ابا جی جیسے نیک انسان کے زیر تربیت ہوئی ہو۔ پھر وہ ایک دو دن نہیں بلکہ دس سال تک حرم شریف میں بیٹھا رہا ہو۔ وہ محسنی کشی کرناتو کیا اس کے بارے میں ہمارے خیال میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس کا حل صرف ایک ہی ہے کہ وہ جہاں بھی جا ئیں، وہاں چونکہ میڈیا تو ہر جگہ موجود ہوتا ہی ہر پریس کا نمائندہ صرف ان سے ایک ہی سوال کرے کہ حضور باقی ارشادات عالیہ اور کاروائی ہم بعد میں سن لیں گے؟ مگر پہلے آپ یہ گتھی توسلجھائیے کہ خلائی مخلوق سے آپ کی مراد کیا ہے جنہیں ہپہلے آپ فرشتے کہتے تھے؟ اس لیے کہ ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا خلا تو اتنا بڑا سمندر ہے کہ پورا میڈیا زندگی بھراس پر تحقیق کرے وہ تھک جائے گا،مگر اس کی تفصیل ختم نہیں ہو گی؟ پھر انہیں سے تفصیل پوچھیں کہ اس سے آپ کی مراد کیا ہے؟ کسی مخصوص ستارے پہ بسنے والی یہ کوئی مخلوق ہے یا کوئی اور مخلوق ہے اور وہاں کب کس سلسلہ میں آپ تشریف لے گئے تھے؟ کیونکہ جب خلا کا ذکر آتا ہے۔ تو آدمی کا خیال بہت دور تک چلا جاتا ہے؟ کہ اس میں تمام شیاطین بھی شامل ہیں فرشتے بھی شامل ہیں جنکا وجود ثابت ہے۔ ان کے علاوہ قصے اور کہانیوں میں دیو اور پریاں بھی ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اس دس سال میں وہاں تک پہونچکے ہوں جہاں قرآنی الفاظ میں شیاطین او رجنوں پر نجم الثاقب ان کی اس جر ت پر برسائے جاتے ہیں تاکہ وہ آسمانی خبریں لانے اور سچ میں سو سو جھوٹ ملا کے سنانے سے باز رہیں ۔ بصورت دیگراس بات کاخدشہ ہے کہ میڈیا اسے کسی غلط جماعت سے منسوب نہ کردے اور وہ اس کے لتے لے لیں، یا میاں صاحب خود تردید کردیں یہ فرماکر کہ“ میری اس سے مراد یہ تو نہیں تھی“لہذا میڈیا جس کی کی ڈنڈے سے تواضع یوم مئی پر ہو بھی چکی ہے۔ پھر نہ کہیں لپیٹ میں آ جائے۔ اس لیے اسے قیاس آرائی کرنے سے گریز کرتے ہوئے پھونک ، پھونک کر قدم رکھنا چاہیئے کہ زمانہ نازک ہے ؟ کہ ہم نے ایک ایسی بات کہدی ہے کہ جس کا کہ سر اور پیر نہیں ہے؟
اب آپ کہیں گے نااہل تو نا اہل ہو تا ہے۔ اس کا حکومت سے کیا واسطہ! جبکہ لاٹھی تو حکومت کے حکم پر برسائی جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کا حافظہ کمزور ہے ۔آپ کو عزت مآب وزیرآعظم پاکستان کا بیان یاد نہیں ہے جس میں ا نہوں نے ارشاد فر مایا تھا۔ “ کہ میرے وزیر اعظم تو نواز شریف ہیں“ ۔ لہذا وہ خزب اختلاف بھی ہیں اور حکومت میں نہ ہوتے سب کچھ بھی ہیں۔ہمیں یاد نہیں کہ کہاں پڑھا تھا لیکن کوئی پوچھے تو ڈھونڈ کے بتابھی دینگے کہ کہاں پڑھا تھا کہ کسی زمانے میں ایک صا حب کا دعویٰ تھا کہ وہ“ مرد بھی ہیں اور عورت بھی“ بہر حال جو لوگوں کے دلوں پر بقول ان کے راج کرتا ہے اور شیر بھی کہلاتا ہو؟وہ اکثریت کےبل بوتے پرجو چاہے کرسکتاہے۔ اس سلسلہ ہمیں کوئی اور قول تو نہیں ملا کہ آپ کے سامنے پیش کریں سوائے مشہور اور مرحوم مزاحیہ ادا کار ظریف کہ “ شیر جنگل کا با دشاہ ہے چاہے تو انڈہ چاہے تو بچہ دے؟
اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ احتمال ہے کہ پچھلے کالم میں ہم نے مشورہ دیا تھا کہ ممکن ہے کہ وہ ذہنی بیمار ہو چکے ہوں ایسی صورت میں ایسے آدمی کی باتوں پر ہنسنا نہیں چا ہیئے کہ وہ بیچارہ تو مریض ہے اور مریض کے ساتھ سب ہمدردی کرتے ہیں۔ہنس کر اس کے زخموں پر نمک نہیں چھڑکتے؟ اس صورت میں خلائی مخلوق! وہم بھی ہو سکتا ہے خواب بھی ہو سکتا ہے اس لیے کہ یہ بڑا جامع لفظ ہے۔ اگر خواب ہے تو الٹی طرف تین دفعہ لاھول پڑھ کر تھتھکار دیں بڑا مجرب نسخہ ہے اس سے ڈراؤنے خواب دکھائی دینے بند ہو جاتے ہیں مگر یہ احتیاط کپڑے اپنے نہ خراب ہوجائیں؟ اگر وہ مخلوق جاگتے میں دکھائی دیتی ہےتواس کا علاج ایلوپیتھک میں تو ہے نہیں، لیکن ہومیوپیتھک میں ہے کہ کئی دواؤں کی علامت ہے کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہاہے دکھائی دے رہا؟ یا یہ آدمی میرے خلاف ہے جبکہ وہ ہو تا اس کا وہم ہے۔ کبھی دیکھتا ہے کہ میں خلا میں اڑرہا ہوں کبھی دیکھتا ہے کہ فرشتوں سے جنگ کر رہا ہوں وغیرہ ، وغیرہ۔ اس پر کوئی ماہر ہومیوپیتھ ہی پوری طرح ہسٹری لیکر اور علامات کی روشنی میں دوا تجویز کر سکتا ہے۔ اور اس سے رجوع کرکے اس بیماری سے مریض کی جان چھٹرائی جا سکتی ہے؟ اس سے بہتوں کا بھلا بھی ہو گا؟ جبکہ مریض اس مرض میں مبتلا پہلے سے با دشاہ چلا آرہاہو اور تو علاج میں اور بھی مشکل پیش آتی ہے۔کہ اس کےمصاحب سچ کہنے کی ہمت نہیں کرتے اس لیے کہ انکی عمر ہاں میں ہاں ،ملا تے ہوئے گزری ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں یہ قصہ بہت مشہور ہے۔ایسے ہی بادشاہ کے پاس ایک وزیر بہت دانا تھا۔ اس نے بادشاہ کو یہ احساس دلانے کی ٹھانی کہ وہ ذہنی بیمار ہے۔ اور اسے آمادہ کیا کہ ایک دن حضوربرہنا نکل کر دیکھیں آپ اتنے مقبول ہیں کہ محبت کی وجہ سے کوئی آپ کو ننگا نہیں کہے گا اس بے لباسی میں بھی سب آپ کے لباس کی تعریف کریں گے؟۔ حکم کی دیر تھی اعلان ہو گیا کہ با شاہ سلامت کل رعیت کو زیارت کرائیں گے؟ بہت سے لوگوں نے بادشاہ کو دیکھا ہی نہیں تھا کہ وہ ہر وقت سات پردوں میں رہتا تھا نسان تو کیا پرندہ بھی وہاں پر نہیں مارسکتا تھا۔ دوسرے دن سڑک کے دونوں طرف لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ جمع ہو گئے ۔ بادشاہ جلوس کی شکل میں نکلا کسی نے نہیں ٹوکا ہرایک نے لباس کی تعریف کی مگراس نے اس کام کے لیئے ایک بچہ آخری مقام پر کھڑا کر دیا تھا جہاں جا کر جلوس کو ختم ہو ناتھا۔ بچے ہوتے ہی سچے ہیں انہیں بات کہنے سے کوئی مصلحت نہیں روکتی! جب بادشاہ سلامت وہاں سے گزرے تو وہ زور سے ا پنی توتلی میں کہتا ہوا بھاگا الے الے دیکھو دیکھوکہ با د شاہ ننگا ہے ؟ تب کہں جاکر بادشاہ کواحساس کہ خوش آمدی کہاں لے جاکر چھوڑتے ہیں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY