اب یہ لکھتے ہوئے بھی شرمندگی سی محسوس ہوتی ہے کہ آج کل ہمارے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے یا کیا جارہا ہے وہ کسی صورت بھی کسی ملک کی تقدیر بدلنے یا اسے مستحکم کرنے کے ضمرے میں نہیں آتا ۔ہمیں اللہ نے آزادی کی نعمت سے نوازا تھا ایک دھان پان سے شخص نے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک کی بات کی اور کھل کر کہا کہ ہم دو مختلف نظرئے رکھنے والی قومیں ہیں ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ۔اللہ نے مدد فرمائی اور ایک بیمار لیکن مظبوط ارادے والے شخص نے ایک الگ وطن لے کر سب کو حیران کر دیا ، آج ہم مڑ کر اُدہر دیکھیں تو سوائے شکر کرنے کے اور قائد کو دعا دینے کے ہمارے پاس دوسری بات نہیں ہوتی کہ آزادی وہ نعمت ہے جو شاید اگر نہ ہو تو حشر وہ ہوتا ہے جس کا تصور بھی تکلیف دہ ہے ۔لیکن ہم بڑی نا شکری قوم ہیں ہم نے اس بے بہا دولت کو جس طرح پا مال کیا وہ ہمارے ہی لوگوں کا خاصہ ہے ۔ہم جن سے آزاد ہوئے وہ شروع ہی سے ہمارے مخالف بھی رہے اور یہ آس بھی لگائے رہے کہ بس کچھ دن کی بات ہے واپس آجائیں گے ہماری دسترس میں ۔لیکن اللہ کا کرم ہوا اور ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے لیکن پھر شاید وہ لوگ جو دل سے اس ملک کے بہی خواہ نہیں تھے یا بس مفاد کی خاطر ہجرت کر گئے تھے انہوں نے پنجے گاڑنے شروع کر دئے اور ہمارے لوگ جو شاید ابھی اتنے سمجھدار نہیں ہوئے تھے ان کی چالوں میں پھنسنے لگے اور پارٹیوں میں بَٹ گئے یا بانٹ دئے گئے ،
یہ لوگ حساس اداروں میں بھی رہے اور بڑے بڑے عہدوں پر بھی براجمان ہوئے لیکن کسی نے پاکستان کے لئے نہیں سوچا یا تو اپنی حکومت کو قائم رکھنے کے لئے مصالحتی کردار اپنائے یا اپنے مفادات کو حاصل کرنے کے لئے ہر طرف سے آنکھیں بند کر لیں ۔پھر ہمیں فرقوں میں بانٹ دیا کسی نے مہاجر کی بات کی تو کسی نے سندھی کا چولا پہنا کونی پنجاب کا راگ الاپتا رہا تو کسی نے سرائیکی اور پشتون کی بات کی ،کوئی پٹھان اور پختون کی بات کرنے لگا ۔اور پاکستان کو پیچھے دھکیلتے گئے ۔
ساتھ ساتھ خاندان اور شخصیات اہم بنا دی گئیں انہوں نے اس ملک کے ساتھ جو کچھ کیا وہ آج کل کھل کر سامنے آرہا ہے ۔اور وہ ہی لوگ اور ممالک جو ہمیں بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے انہیں پناہ بھی دے رہے ہیں اور ان کی بات بھی سُن رہے ہیں ۔کیونکہ مستحکم پاکستان بہت سوں کے لئے کمزوری کا باعث بنے گا اور وہ طاقتیں بھی ہمارے ایسے بگڑے لوگوں کو پہلے بھی داد دیتی رہی ہیں اور اب بھی ان کے پیچھے کھڑی ہیں ۔۔
لیکن ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہم اتنے کمزور کیوں ہوئے کہ ہمارے میڈیا ہمارے خبریں دینے والے لوگ ہمارے ادارے ان تمام باتوں پر سے پردہ نہ اٹھا سکے اور ان کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے اور ہمیں کمزور کرتے رہے ۔کسی نے بھی کبھی آواز نہ اٹھائی کرپشن کے خلاف اداروں کی تباہی کے خلاف ۔جب کہ کچھ اینکرز شواہد بھی پیش کرتے تھے ،بینک کے ڈاکومنٹ بھی دکھاتے تھے ۔جائیدادوں کا سراغ بھی لگاتے تھے لیکن سب کچھ دبا دیا جاتا تھا یا ان اینکرز کو عدالت میں گھسیٹ لیا جاتا تھا لیکن کچھ ایسے بھی تھے جن پر التفات تھا جو ہر قسم کے مزے لوٹ رہے تھے ۔
کبھی ہم سوچتے ہیں تو دل دیوانہ ہوجاتا ہے کہ اپنے ملک سے جو ہماری پہچان ہے ہماری پناہ گاہ ہے ۔ہمارا فخر ہے اس کے ساتھ ہمارا کوئی بھی شخص اور وہ بھی وہ جو اس ملک کے اقتدار پر برسوں براجمان رہا ہو کیسے لوٹ مار کر سکتا ہے کیسے اسے نقصان پہنچا سکتا ہے اس میں دو پارٹیاں اور پھر ان کے طفیلی سرِ فہرست رہے ۔انہوں نے اس ملک کو اپنی جاگیر سمجھ لیا ،اور اب وہ انتہائی تکلیف میں ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے کہ کرپشن چھپ رہا ہے نہ نجات مل رہی ہے ۔اور تو اور خود ہی اپنے دام میں پھنستے چلے جا رہئ ہیں ۔نہ جھوٹ کا اثر ہو رہا ہے نہ بے ایمانیاں ساتھ دے رہی ہیں ۔
کچھ دن سے محسوس ہو رہا ہے کہ ہم کچھ دیوانے ہیں ہمارا دل دیوانہ ہے ،جو یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے وہ لوگ جنہوں نے اب تک ہم پر حکومت کی ہمارے ملک کے اقتدار کے مزے لوٹے وہ کچھ بھی ہو ملک سے اور اس کے اداروں سے بے وفائی نہیں کر سکتے ۔بلا شک لوٹ گئے ،کنگال کر گئے جھوٹ کے انبار لگا گئے بلکہ جھوٹ بول کر سب کو دھوکہ دے کر اپنے پسندیدہ ملک میں بھی جا بیٹھے لیکن یہ نہیں سوچا تھا کہ اپنے جھوٹ کا پردہ خود چاک کر دیں گے اور ہمیں شرمندہ کریں گے کہ دیکھا کیسا چکمہ دیا نہ علاج نہ معالجہ بھلےچنگے ،بلکہ بہت سارے صحت مند بھی ان کے آگے مریض لگتے ہیں گھوم پھر رہے ہیں نہ ماسک نہ کوئی ڈر نہ کرونا کا خوف نہ کسی اٹیک کا خدشہ لیکن اپنے ملک میں تھے تو ڈاکٹروں کی ٹیم جیل کے باہر گھر گئے تو گھر کے باہر روز پلیٹیں کم چمچے زیادہ غرض عجیب و غریب منظر تھا کہ ہم جو کبھی بھی اس بات کو نہیں مانتے تھے کہ نواز اتنے بیمار ہیں جتنا کہا جارہا ہے لیکن ہم بھی سوچتے تھے کہ اتنا جھوٹ کیسے بول سکتے ہیں ۔
لیکن انہوں نے ہمیں بے وقوف ثابت کر دیا کہ دیکھو میں یہاں تک بھی جا سکتا ہوں اور اب وہ جو کچھ کرنے جارہے ہیں شاید اسکی سنگینی کا انہیں اور ان کی پارٹی کو احساس تک نہیں ہے۔افسوس یہ ہے کہ اپنی پارٹی اپنی دولت اپنی سیاست بچانے کے لئے وہ اس حد تک جائیں گے یہ ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا ،ہم اب بھی اچھی امید رکھتے ہیں کہ ہم اپنے لوگوں کو اتنا نیچے گرتا نہیں دیکھ سکتے لیکن ہمیں بہت دکھ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس ملک سے صرف لیا ہی لیا ہے اسے کچھ دینے کو تیار نہیں ۔بس اس مقام پر آکر ہمارا دل دیوانہ ہو جاتا ہے کہ کیا ہم کبھی سمجھ نہیں سکیں گے کہ ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔
اگر ہمارے ملک میں قانون سخت ہوتے نظام پر توجہ دی جاتی تو شاید ہم اتنے کمزور نہ ہوتے ۔اب بھی نہ سنبھلے تو شاید پھر کبھی موقعہ نہیں ملے گا ،اب ہم سب کو متحد ہوکر ان نوازوں اور زرداریوں سے پیچھا چھڑا لینا چاہئے نہ ان کی تقریریں دکھانی چاہئیں نہ انکی بات کو پھیلانا چاہئے نئی پارٹیاں سامنے آنی چاہئیں ۔نون بھی نئی بن سکتی ہے اور پی پی پی بھی فضل کی جگہ بھی کوئی نیا آسکتا ہے اور ان پارٹیوں کی تشکیل نو کی جا سکتی ہے ۔یہ کوئی جائیداد نہیں ہے جو نواز کے بعد مریم کی اور زرداری کے بعد بلاول کی ۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں یہ نہیں پتہ کہ تکلیف کیا ہوتی ہے محنت کیسے کی جاتی ہے جدو جہد کس چڑیا کا نام ہے اور وطن سے محبت کیسی ہوتی ہے ،کیا ہم اپنی تقدیر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں گے ؟ ہمیں تو ان زیرک اور تجربہ کار سیاست دانوں پر رحم آتا ہے جو ان کل کے بچوں کے سامنے سر جھکا کر بات کرتے ہیں ۔کاش ہمت پکڑیں ملک ہے تو سب کچھ ہے اس نعمت کی بے توقیری نہ کریں آزادی کی قیمت پوچھیں ان سے جو آج بھی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں جو خون بہا رہے ہیں تکلیفیں اٹھا رہے ہیں ۔
پاکستانی بنو پاکستان کا ساتھ دو اسے ترقی دو ۔متحد ہو کر اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو زیر کرو تاکہ مستقبل بن سکے ۔
اللہ سب کا حامی و ناصر ہو آمین

SHARE

LEAVE A REPLY