پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین نے نقیب اللہ محسود کے قتل میں ملوث اہم ملزم کراچی پولیس کے سابق عہدیدار راؤ انور کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
اتوار کو خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ٹانک میں پولیس کے ایک جعلی مقابلے میں مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کے پہلی برسی کے موقع ریلی کا اہتمام کیا گیا۔
پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختونوں کے خلاف تشدد اور جارجیت میں ملوث ملزمان پر ریاست اور ریاستی ادارے مہربان ہیں۔ان میں بقول ان افراد میں راؤ انور اور قاری احسان اللہ احسان نمایاں ہیں جن پر ریاست مہربان ہیں۔
یاد رہے کہ قاری احسان اللہ احسان پاکستان تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان تھے اور انھوں نے کچھ عرصہ قبل فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے جبکہ نقیب اللہ کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انور مرکزی ملزم ہیں۔
منظور پشتین نے کہا کہ نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے مگر ابھی تک ان کے خاندان کو انصاف نہیں ملا ہے ۔اُنہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نقیب اللہ محسود اور دیگر متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی تک تحریک کی جدوجہد جاری رکھے گا۔
منظور پشتین نے یاد دلایا کہ راؤ انوار 440 بے گناہ افراد کے قتل میں ملوث ہیں لہذا حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اسے جلدازجلد سخت سزا بلکہ برسر عام پھانسی کی سزا دی جائے۔
گذشتہ سال نقیب اللہ کی ہلاکت کے بعد پشتون کے حقوق کی جدوجہد کے لیے پشتون تحفظ تحریک شروع ہوئی تھی۔
پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ نے کہا کہ ابھی تک پختونوں کے خلاف جارجیت اور بربریت کا سلسلہ جاری ہے اور اس جلسے میں ایسے والدین ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں جن کے پیارے ان کے بقول ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے غائب کر دئیے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ لاپتا کرنے کے سلسلے کو بند کرنے اور اس قسم کے واقعات کی روک تھام اور چھان بین کیلئے Truths and Reconciliation commission قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
جلسے سے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
منظور پشتین کے آبائی علاقے جنوبی وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں بارودی سرنگوں میں متاثرہ ہونے والے معذوروں نے بھی جلسے میں شرکت کی۔
پشتون تحفظ تحریک کے جلسے میں خیبر پختونخوا اور بلو چستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔شرکاء میں وہ خواتین اور مرد بھی تھے جن کے بھائی اور دیگر قریبی رشتہ دار لاپتا ہیں اور گذشتہ چند برسوں کے دوران قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر حراست میں لیا ہے۔













