پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ بجٹ میں نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی کیلئے کوئی جامع پروگرام شامل نہیں کیا گیا، ملک میں ترقی کی شرح منفی ہے، ڈھائی فیصد کے حکومتی دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔

ایک بیان میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کر کے ملازمین کی زندگیاں مشکل بنا دی گئیں، افراط زر 10 فیصد تک پہنچ چکا ہے، یہ تنخواہوں میں 10فیصد بھی اضافہ نہ کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو قرضوں کی واپسی میں ریلیف ملا جو عوام تک منتقل نہیں ہوا، امیروں پر ٹیکس نہیں لگائے گئے صرف غریبوں پر بوجھ ڈالا گیا ہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ خسارے کا بجٹ ہے، حکومت کورونا جیسی وبا میں کسی بھی صورت اس خسارے کو کم نہیں کر سکے گی۔

پی پی رہنما نے کہا کہ حکومت لازمی استعمال کی اشیاء پر مزید ٹیکس لگائے گی جس سے مہنگائی اور بڑھے گی، حکمران بینکوں سے قرض لیں گے اور نوٹ چھاپیں گے، جس سے افراط زر مزید بڑھ جائے گا۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے عالمی اقتصادی بحران، دہشت گردی، سیلاب اور زلزلوں کے باوجود عوام کو ریلیف دیا تھا، ہم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 50 فیصد اضافہ کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY