سعودی حکومت کے اقدامات کے باعث 40 سالوں میں حج سیزن کے دوران گرمی اور لُو سے ہونے والی اموات میں 47.6 فیصد اور فالج کے واقعات میں 74.6 فیصد کی کمی رپورٹ کی گئی ہے۔
حال ہی میں شہزادہ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام ’مکہ جانے والے عازمین حج کیلئے موسمیاتی صحت سے متعلق خطرات میں اضافے‘ کے عنوان سے ایک تحقیقی رپورٹ جرنل آف ٹریول میڈیسن میں شائع کی گئی۔
شائع کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں40 سالوں میں حج سیزن کے دوران ماحول کے درجہ حرارت میں اضافے اور صحت کی صورتحال کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
مکہ میں ہر 10 سال میں درجہ حرارت میں 0.4 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ریکارڈ
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہر سال 180 سے زائد ممالک سے لاکھوں عازمین حج سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں جبکہ مکہ میں ہر 10 سال کے دوران درجہ حرارت میں 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
درجہ حرارت میں اضافے کے باوجود سعودی حکومت کے اقدامات سود مند ثابت ہوئے اور 40 سال کے حج سیزن کے دوران گرمی اور لو سے ہونے والی اموات میں 47.6 فیصد اور فالج کے واقعات میں 74.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔












