وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ کراچی میں طیارہ حادثے کے بعد حکومت نے سرکاری اور نجی ایئرلائنز کے پائلٹ سمیت تمام دیگر عملے کی تعلیم و قابلیت اور ان کے لائسنس سے متعلق از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت سول ایوی ایشن اتھارٹی کے انتظامی امور میں مسائل کی نشاندہی ہوئی تھی۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ سے متعلق پریس بریفنگ کے دوران سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جائزہ رپورٹ میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے امور میں کچھ مسائل کی نشاندہی ہوئی۔
خیال رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پر رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں طیارے کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔
اس دوران سینیٹر شبلی فراز نے مقامی اور بین الاقوامی کمیونٹی کے لیے اعلامیہ پڑھ کر بھی سنایا۔
شبلی فراز نے کہا کہ ‘فرانزک تحقیقات میں نشاندہی کے بعد تمام مشتبہ پائلٹس کو 25 جون سے گراؤنڈ کردیا گیا، انتظامی سطح پر فرائض انجام دینے والے 5 افسران کو معطل کرکے ان کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی ہے’۔
وفاقی وزیر نے اعلامیہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان کی تمام ایئرلائنز اور سول ایوی ایشن اتھارٹی میں اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘متعلقہ سرکاری اداروں کو ہدایت کی گئی ہیں کہ وہ بین الاقوامی اداروں سے رابطہ بحال کریں اور ان کی صلاحیت سے فائدہ اٹھائیں اور مسافروں کو پریشانی سے بچائیں’۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ‘گراؤنڈ کیے گئے پلائٹس کے علاوہ تمام ایئر لائن بشمول قومی اور سرکاری کے پلائٹس بھرپور قابلیت اور صلاحیت کے حامل ہیں اور وہ اپنے فرائض ادا کررہے ہیں’۔












