ابو الحسن علی بن موسی الرضا

0
920

ابو الحسن علی بن موسی الرضا (148-203ھ)، امام رضا علیہ السلام کے نام سے معروف، شیعوں کے آٹھویں امام ہیں۔ آپؑ 20 سال تک امامت کے عہدے پر فائز رہے۔ آپ کی امامت عباسی حکومت کے تین خلفاء ہارون الرشید (10 سال)، محمد امین (تقریبا 5 سال) اور مأمون (5 سال) کی حکومت پر محیط تھی۔ امام محمد تقی سے منقول ایک حدیث کے مطابق امام رضا علیہ السلام کو “رضا” کا لقب خدا کی طرف سے عطا ہوا ہے۔ اسی طرح آپ عالم آل محمد کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

عباسی خلیفہ مامون آپ کو مدینہ سے زبردستی خراسان لے آیا اور اپنی ولایت عہدی قبول کرنے پر مجبور کیا۔ امامؑ نے مدینہ سے خراسان جاتے ہوئے نیشاپور کے مقام پر ایک حدیث ارشاد فرمائی جو حدیث سلسلۃ الذہب کے نام سے مشہور ہے۔ مامون نے اپنے خاص مقاصد کی خاطر مختلف ادیان و مذاہب کے اکابرین کے ساتھ آپ کے مناظرے کروائے جس کے نتیجے میں یہ سارے اکابرین آپ کی فضیلت کے معترف ہوئے۔

55 سال کی عمر میں مامون کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ آپ کا مرقد مبارک ایران کے شہر مشہد میں موجود ہے جہاں سالانہ لاکھوں مسلمان زیارت کیلئے آتے ہیں۔

نسب، کنیت اور لقب
آپ کا نسب علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی‌ طالب، کنیت ابو الحسن اور سب سے زیادہ مشہور لقب “رضا” ہے۔ بعض منابع میں آیا ہے کہ آپ کو یہ لقب مأمون نے دیا تھا؛لیکن امام محمد تقیؑ سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے کہ آپ کا یہ لقب خداوند عالم کی طرف سے آپ کے والد ماجد حضرت امام کاظمؑ کی طرف الہام ہوا تھا۔ صابر، رضی اور وفی آپ کے دیگر القاب میں سے ہیں۔اسی طرح آپؑ عالم آل محمد کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ امام کاظمؑ اپنے دوسرے بیٹوں سے کہا کرتے تھے: “تمہارا بھائی علی، عالم آل محمد ہیں”۔

انگشتری کا نقش

امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی انگشتری کے لئے ایک نقش منقول ہے: “ما شاءَ اللہُ لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ (ترجمہ: وہی ہوتا ہے جو خدا چاہے، نہیں کوئی قوت سوائے خدائے بلند و برتر کے۔)”

ولادت اور شہادت
آپ کی تاریخ پیدائش جمعرات یا جمعہ 11 ذی القعدہ، ذی‌ الحجہ یا ربیع الاول سنہ 148 ہجری یا سنہ 53 ہجری نقل ہوئی ہے۔کلینی نے آپ کی تاریخ پیدائش سنہ 148 ذکر کی ہے۔ اور اکثر علماء و مورخین اس بات میں شیخ کلینی کے ہم عقیدہ ہیں۔

آپ کی شہادت کے بارے میں بھی مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اسی بنا پر بروز جمعہ یا پیر، ماہ صفر کی آخری تاریخ، یا 17 صفر، 21 رمضان، 18 جمادی‌الاولی، 23 ذی القعدہ، یا ذی القعدہ کی آخری تاریخ سنہ 202، 203 یا 206 نقل ہوئی ہیں کلینی کے مطابق آپ صفر کے مہینے میں سنہ 203 ہجری میں 55 سال کی عمر میں شہادت کے مقام پر فائز ہوئے ہیں۔ اکثر علماء اور مورخین کے مطابق آپؑ کی شہادت سنہ 203 ہجری میں واقع ہوئی ہے۔ طبرسی آپؑ کی شہادت کو ماہ صفر کی آخری تاریخ میں نقل کرتے ہیں۔

ولادت و شہادت کی تاریخ میں اختلاف کی وجہ سے آپ کی عمر مبارک کے بارے میں بھی علماء و مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اسی بنا پر آپ کی عمر 47 سال سے 57 سال تک ذکر کیا گیا ہے۔ اکثر علماء اور مورخین کے مطابق آپ کی عمر شہادت کے وقت 55 سال تھی۔

امام رضاؑ اپنے والد ماجد امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد 20 سال (183 – 203 ہجری) تک امامت کے عہدے پر فائز رہے۔ آپ کی امامت کے ابتدائی دور میں ہارون رشید خلافت پر قابض تھا اس کے بعد اس کے بیٹے امین نے تین سال اور 25 دن حکومت کی جس کے بعد ابراہیم بن مہدی عباسی المعروف ابن شکلہ نے 14 روز حکومت کی جس کے بعد امین عباسی نے ایک بار پھر اقتدار سنبھال کر ایک سال اور سات مہینے حکومت کی۔ آپؑ کی امامت کے آخری 5 سال مامون عباسی کے دور خلافت میں گذرے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY