نیر حیات قاسمی کی ایک نظم

0
171

میں ھر روز،
شام کے ناپ کی اِک نظم بُنتا ھُوں
اور کھڑکی کے دریچے میں
ٹانگ دیتا ھُوں
وہ اپنا ایک جھونکا بھیجتی ھے…
جو قیمت کی تختی اُٹھائے
کِواڑ کھٹکھٹاتا ھے
مگر، جواب نہ مِلنے پر،
اُس گرد سے اپنی مُٹھیاں بھر کر
واپس لوٹ جاتا ھے
جو خامشی کی چَکی میں پِستی
مِری گفتار کے ریزوں سے، اُٹھتی ھے!!!

LEAVE A REPLY