گاہے گاہے باز خواں ایں ۔۔نصرت نسیم۔۔ قسط نمبر 29

0
759

یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہونگے
افسوس ہم نہ ہونگے
یہی زندگی کی کہانی ہے. کہ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں. اور کاروبار زندگی چلتا رہتا ہے. یہ اور بات ہے. کہ زندگی سے خوشیوں کے رنگ اڑ جاتے ہیں. زندگی بے کیف ہو کر رہ جاتی ہے. ایسا ہی ڈیڈی کی وفات کے بعد ہوا. سارا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا. گھر پر اداسی کی دبیز چادر سی تن گئ.اوراس اداسی وغم میں مزید اضافہ ہوگیاجب صادق علی (صادقو )بھی گھر چھوڑ کر چلا گیا. انکل اور صادقو کی طبیعت اور مزاج کے ٹکراؤ کایہ نتیجہ نکلا. کہ وہ گھر چھوڑ کر لاہور چلا گیا. اور اتفاق دیکھئے کہ گھر والے جو تلاش بسیار کے باوجود اسے کبھی نہیں ملے. اس دفعہ ڈھونڈنے پر مل گئے.سنگر شوکت علی اس کا بھائ نکلا. اس وقت شوکت علی کو نئ نئ شہرت ملی تھی. اس کے خط میں ساری تفصیل پڑھ کر بجو، پھپھو اماں خوب خوب روئیں. کہ اب اس کے آنے کی امید بھی ختم ہوگئ. میرے لئے رسالے خرید کر لانا ایوب صابر مرحوم ومغفور کی میونسپل لائبریری سے کتابیں لے کر آنا یہ سب کام وہ بھاگ دوڑ کر خوش دلی سے کرتا. سارا گھر اسے ہی آواز دیتا. اور اب سب اس کی کمی محسوس کر رہے تھے.
انہی دنوں شوکت علی کوہاٹ کسی تقریب میں گانے کے لئے آیا. اور صادقو کے کہنے پر ہمارے گھر پھپھو اماں سے ملنے آیا.شکریہ ادا کرنے کہ میرے بھائی کو اتنے اچھے طریقے سے رکھا. پھپھو اماں تو اسے دیکھتے ہی پھٹ پڑیں. یہ کہتے ہوے کہ پرے پرے(دور ہٹو)جس کو ساری عمر اتنے پیار سے پالا .وہ یوں چھوڑ چلاگیا. انکل پھپھو اماں کو سمجھاتے رہے مگر وہ اپنی کہے گییں.یہ وہ دور تھا جب شوکت علی کے یہ گیت بہت مشہور تھا
کیوں دود دور رہیندے ہو حضور میرے کولوں
مینوں دس دیو ہویا کی قصور مرے کولوں –
جب بہار آی تو صحرا کی طرف چل نکلا
مگر پھپھو اماں کو اس سے کیا کہ ان کے سامنے مشہور گانے والا بیٹھا، ان سے محبت وعقیدت کا اظہار کر رہا ہے. وہ تو اپنی دھن میں اس کی سنے بغیر صادقو کا بچپن اپنی محنت اوراسے یاد کرتے ہوے روتے ہوے پرے پرے کرتی رہیں.سردیوں کی طویل شامیں خاصی طویل اوراداسی بھری تھیں کہ ٹی وی ابھی نہیں آیاتھا. ریڈیو کا دم غنیمت تھا. پڑھتے ہوے ریڈیو کے قریب بیٹھ کر پڑھتی رہتی لکھتی رہتی. ڈائری اور اس میں تمام دن کی روداد، بیت بازی کے اشعار کی الگ موٹی سی کاپی تھی. جس میں نئے اشعار لکھتی جاتی.
جنگ اخبار میں بچوں کے صفحے کے انچارج مضطر اکبر آبادی تھے -چھوٹی موٹی چیزیں تو چھپتی رہتی تھیں. یہاں بھی اور بہنوں کی محفل “میں بھی مگر بچوں کی دنیا میں پہلی مرتبہ طویل کہانی “اور میں نے منزل پالی “شائع ہوی تو خوشی سے پھولے نہ سمائے. بار بار اخبار اٹھا کر دیکھتے. خوشی کی اس کیفیت کوبیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں. اس اخبار کو آب تک سنبھال کر رکھا ہواتھا. تو خوشی سے پھولے نہ سمائے. بار بار اخبار اٹھا کر دیکھتے. خوشی کی اس کیفیت کوبیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل سکتے.
پھر اس کہانی کو اپنے کالج میگزین “نثارین “میں شامل کر کے محفوظ کر لیا -ایک اور مشغلہ اخبارات کے اہم صفحات کو سنبھال کر رکھنا تھا. جن میں سے کچھ صفحات اب بھی محفوظ ہیں. ۔۔ کبھی شئر کرونگی
آٹھویں جماعت کا بورڈ کا امتحان ہونا تھا. جو طالبات کے لئے تو ایک نئ بات تھی ہی مگر لگتا تھا کہ ہم سے زیادہ ہماری اساتذہ کے ہاتھ پاوں پھولے ہوے تھے. اور وہ پوری تندہی سے بار بار دہرای کروا رہی تھیں.
اس زمانے میں خلاصوں کا تو نام ونشان نہیں تھا. ٹیوشن پڑھنا بھی ایک معیوب بات سمجھی جاتی تھی. اور جوبچہ ٹیوشن پڑھتا اسے انتہائی نالائق سمجھا جاتا. سکول میں اساتذہ ایسی جانفشانی سے پڑھاتیں کہ کبھی کسی اور سے مدد کی ضرورت نہ پڑتی.اللہ بخشے ا ایک ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر تھے.ماسٹرعبدلمجیدجو خالہ کو انگلش پڑھانے آتے. میں بھی ان کے ساتھ قرآن مجید کی دہرای کر لیتی. امتحان سے کوئی ایک ماہ پیشتر ان کے ساتھ حساب کی مشقیں دہرایں .اور اپنی تیاری سے مطمئن ہو گئے. امتحان بخیر وخوبی ہوگئے(. نقل کرنے کا تو کوئی تصور ہی نہیں تھا. ایک آدھ لڑکی اگر کچھ پوچھنے کی جسارت کرتی تو سب کی نگاہوں سے گر جاتی. )خیر امتحان ہوگئے. اور دوماہ بعد نتیجہ آیا. پاس ہوگئے. فرسٹ ڈویژن میں. ہمارے زمانے میں گریڈ وغیرہ نہیں تھے. ڈویژن ہوا کرتی. فرسٹ. سیکنڈ. تھرڈ تھرڈ ڈویژن کوکہیں داخلہ نہ ملتا. ضمیر جعفری کی مشہور نظم
میں تھرڈ ڈویژنر ہوں مجھے مارڈالئے ” پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے

اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے تو اب ایک نیامسئلہ آن کھڑا ہوا. گھر والوں کا اصرار کہ سائنس لی جاے مگر ہم نے صاف کہہ دیا کہ ہمیں سائنس نہیں لینی .ایک طرف گھر والوں کا اصرار تو دوسری طرف ایڈمیشن کمیٹی کا بھی اصرارکہ آرٹس کی بجاے سائنس کیوں نہیں لیتی جب فرسٹ ڈویژن ہے تو. وہاں بھی اپنی اساتذہ کو مطمئن کرکے آرٹس کے مضامین رکھ لئے. روشی اور کافی ساری دوستوں نے سائنس لے لی. ہمارا سکول اس وقت لڑکیوں کا واحد ہای سکول تھا. قرب و جوار میں مڈل سکول کافی تھے. جہاں سے لڑکیاں مڈل پاس کرکے پھر نہم میں یہاں داخلہ لیتیں. نہم کا سال خاموشی اور تنہای میں گزرا کہ ساری دوستوں نے سائنس لے رکھی تھی. خیر یونہی چلتے چلتے کلاس دہم میں آگئے)اب ہم سکول کی سب سے سینئر کلاس اور باجیاں تھے. کتنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں دامن بھر دیتی تھیں. تعریفی جملے کیسے مسرتوں کے پھول کھلا دیتے.
اب ایک بار پھر بورڈ کا امتحان درپیش تھا. اوراس کے لئے بہترین اساتذہ ہمارے حصے میں آے. مس مریم شینواری ہمیں انگریزی پڑھاتیں. بہت ہی سادہ لباس میں سنجیدہ وحلیم طبع خاتون! ایک مہربان سی مسکراہٹ چہرے پر کھیلتی ہوی.
اس کے برعکس مریم قریشی بہت جلالی طبیعت کی. بوٹا سا قد اور چھوٹے چھوٹے سے ہاتھ مگر جب کسی کو تھپڑ لگاتیں تو دور تک آواز جاتی. پولٹیکل سائنس میں ایم اے کا امتحان دے کر آئیں تھیں. اور معاشرتی علوم پڑھاتی تھیں. میں چونکہ اخبارات کامطالعہ روزانہ باریک بینی سے کیا کرتی تھی. تو خارجہ پالیسی اور آر سی ڈی کے حوالے سے کتاب میں لکھے
مواد کی جگہ تازہ ترین صورتحال لکھتی. جس پر خوش ہوکر وہ ٹسٹ میں میں اچھے نمبر دیتیں -ساتویں آٹھویں میں فارسی بھی ان ہی سے پڑھی. بعد ازاں رزلٹ آنے پر مردان کالج میں لیکچرار بن کر چلی گییں. اور سنا کہ پرنسپل کے عہدے تک پہنچیں. اردو ہمیں مس نسیم پڑھاتی تھیں. جو کراچی میں اردو کالج سے آئیں تھیں. بہت چھوٹے سے قد کی دھان پان سی مس نسیم بھی خوب پڑھاتیں تھیں. اس وقت لکھتے ہوے ہای سکول اورتمام اساتذہ یادوں کے افق پر جگمگائیں. تو میک اپ سے عاری چہرے، اندر کے نور سے جگمگاتے ہوے،سادہ لباس زیب تن اور اپنے مقصد اورکام میں مگن ومحو نظر آئیں. ساتھ ہی ایک بڑے سوالیہ نشان کے ساتھ کہ آخر اکثریت “مس” ہی کیوں تھی؟

SHARE

LEAVE A REPLY