پاکستان کا گوشہ گوشہ جنت ارضی کا امین۔نصرت نسیم۔ایبٹ آباد

0
1644

۔۔۔۔۔۔۔25 جون کی صبح کہ ایبٹ آباد میں بھی دھوپ میں تیزی وگرمی پائی جاتی تھی ہم مری کے لئے دو گاڑیوں میں لد کر روانہ ہوئے عائشہ اور بچے اپنی گاڑی میں اور ہم یعنی بیٹا، بہو بچے اپنی گاڑی میں
ایبٹ آباد سے نکلتے ہی درختوں کے جھنڈ، سر سبزوشاداب بلندوبالا پہاڑ اورنتھیاگلی کا خوبصورت راستہ مگر چمکتی دھوپ میں وہ لطف نہیں آرہا تھا جو ابروباراں میں آتا ہے رب کریم نے ہمارے دل کی آواز سن لی کہ ایک دو موڑ کاٹتے ہی بادل چھا گئے یکدم سارا منظرگویابدل ساگیا

بادل،سبزہ زار، سر سبز کوہسار اورجگہ جگہ بندروں کی ٹولیاں بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا جب بندر ان کے ہاتھ سے ٹافیاں لے کر کھاتے-نتھیاگلی گلی کے بعد ایوبیہ کچھ دیررک کرروانہ ہوے ہماری منزل گھڑیال کیمپ تھی جوبھوربن روڈپر مری اوربھوربن کے درمیاں ہے یہاں Fwo میں ہمارے لیے کمرے بک تھے 1 بجے کے قریب پہنچےتوگیسٹ روم دیکھ کر دل خوش ہو گیا وسیع سبزہ زار، پرآسائش کمرے، بہترین میس اورتمیز دار عملہ، مخملیں لان جہاں بچوں نے وہاں باقی بچوں کے ساتھ مل کر فٹبال اورطرح طرح کے کھیل کھیل کر خوب خوب لطف اندوز ہونے کھانا کھا کچھ آرام کرکے سہ پہر چاے لان میں پی گرما گرم چپس اور پکوڑوں کے ساتھ نیلےنیلےآکاش پر بادلوں کے پرے، خاموشی، جنگل خنک ہوائیں، فطرت کے حسیں نظاروں میں کھوے جانےکیاکیاسوچتے رہے بڑی بیٹی فریحہ کو یاد کیااسکےبچوں کویادکیا (اب کینڈا میں ہے )جو دو سال پہلے ٹرپ میں   ہمارے ساتھ تھے

ہے آدمی بجائے خود محشر خیال بظاہر تو بچوں کے ساتھ خوش موسم و مناظر سے لطف اندوز ہورہی تھی مگر ساتھ ہی ساتھ یادوں کی وادی میں اتر کر یادوں کے روشن جگنوؤں کے پیچھے یہاں تہاں دوڑ رہی تھی وہ ایام جب امی اباجی کے ساتھ آیا کرتے تھے آنکھیں بھیگ گئیں تو احساس ہوا کہ رات بھیگ چلی ہے اور سردی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے تو گرم شال لے لی مگر ابھی ہمیں 12 بجے تک جاگناتھاکہ افشین (بہو )کی کل سالگرہ تھی سب اسکو وش کرنا چاہ رہے تھے

ہاں تو ہمیں 12 بجے تک جاگناتھاکہ افشین کی سالگرہ تھی اور سب اس کو وش کرنا چاہ رہے تھے میس11بجے بند ہوجاتا ہے مگر ہماری درخواست پرساڑھے 11بجے ہمیں گرما گرم کافی دی-آکاش پر بادلوں کے کئ رنگ کئ انگ اوربادلوں سے آنکھ مچولی کھیلتاہواچاند، آس پاس جنگل اورچپ کا راج ایسے ماحول میں کافی نے بہت مزہ دیا کافی مزیدار تھی یااپنوں کی سنگت اورماحول نے مزیدار بنا دیا بہرحال 12 بجتے ہی عائشہ اور بچے سالگرہ کا گیت گاتے ہوئے آے اورجنم دن کی مبارکباد دی دوسری صبح اٹھے تو گھنگور گھٹائیں چھائی ہوئی تھی اوربارش برسنے کو تیار پہلے ہلکی بوندا باندی پھر رم جھم پھوار وموسلادھار بارش بارش تو کہیں بھی ہو تو ایک خاص کیفیت طاری کر دیتی ہے اوریہاں تو ٹیریس پر سےآس پاس کے دل کش مناظر وسبزہ و گل میں اس بارش نے سرشار کر دیا ایسا سرشار کہ سراپا شکر شکران مناظر کو دیکھنے والی آنکھ کا اس دل کا جس میں مناظر فطرت کی محبت اورکائنات کے آئینے میں رب العزت کےجلوے اس کی قربت کا احساس چپکے چپکے رب سے سرگوشیاں اورمناجات

مسلسل برستی بارش اوربڑھتی ہوی سردی دیکھ کر سب نے کہا کہ حلوہ ہونا چاہیے مینیو دیکھا تو حلوہ موجود تھا لہذا شام کی چائے کے ساتھ حلوے کا آڈر دیا بارش کے بعد یخ بستہ ہواؤں میں چاے کے ساتھ حلوہ آیاتوبچوں نے بڑوں نے شوق سے کھا کر اعلان کیا کہ بہت اچھا بنا ہوا ہے ہمارے نصف بہتر کہ حلوہ بنانے کے ماہر کم ہی کسی کے حلوے کی تعریف کرتے ہیں میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا کہ کیسا ہے بولےہاں ٹھیک ہے مگر انڈوں کے زورپربنایا گیاہے

بارش کے بعد کی خنکی وخوشگواری ماحولکا احاطہ کیےہوےتھی ڈھلتاسورج نکھرے ہوے کل بوٹےاوربےفکری سے لان میں بیٹھےنظاروں سے لطف اندوز ہوتے لوگ اورسامنے مختلف کھیل کھلتے بچے بچے آپس میں کتنی جلدی بےتکلف ہوجاتے ہیں جب کہ ان کے والدین اور ہمارے درمیان صرف علیک سلیک ہی ہوسکی

عائشہ اسد ،افشین والد کو لے کر لڈو کھہلنے بیٹھ گئے تو میں اندر سے اپنی کتاب اٹھا لائی کسی ایسے پر فضا جگہ کتاب پڑھنے کا اپنا ہی مزہ ہے اگر کتاب بھی دل چسپ ہو توپھر کیا کہنے زیڈ اے بخاری کی سرگزشت پڑھتے ہوئے میں کن اور کئ زمانوں میں سفر کرنے لگی تقسیم سے پہلے کا وہ دور، اقدار اورکیسے کیسے قد آور لوگ لڈو کھلتے بچوں کاشور زمانہ ءحال میں کھینچ لاتا تو گاہے بگاہے نظر اٹھا کر آسمان پر تیرتے بادلوں، شفق و خوش رنگ فضا پرطائرانہ نگاہ ڈال کر دوبارہ کتاب اور اسکے ماحول میں گم ہو جاتی

چلو بھوربن چلتے ہیں عائشہ نےکہا بچوں کو نانا، دادا کے پاس چھوڑااور ہم چاروں بھوربن گئے ، میں تو نیچے جا کر فوارے کے پاس بیٹھ گئی اور آتے جاتے لوگوں کا مشاہدہ وموازانہ کرنے لگی بچے چاروں اور گھوم پھر کر واپس آگئے واپسی کے سفر میں 13 تاریخ کا پورا چاند وچاندنی اور ہلکی موسیقی چاند ساتھ ساتھ چلنے لگا تو کئی پرانے گیت یادآئے چاند نگر کے انشاء یادآئے گلزار یاد آئے چاند پکھراج کا رات پشمینے کی اورپھر انشاء جی کا ایک شعر یاد آیا

انشا جی دنیا والوں میں بے ساتھی بے دوست رہے
جیسے تاروں کے جھرمٹ میں تنہا چاند، اکیلا چاند

اگلی صبح عائشہ کی میٹینگ تھی وہ صبح سویرے اسلام آباد چلی گئی دوپہر تک ہمیں بھی یہ گیسٹ ہاؤس چھوڑنا تھامزید اگلے دو دن کی یہاں بکنکنگ نہ ہو سکی کہ سیزن تھا لیکن خیر اسکے قریب ہی ملٹری کالج مری میں دو کمرے ہمارے لئے بک تھے
گاڑی میں سامان رکھ کر چند ہی منٹوں میں ہم ملٹری کالج مری پہنچ گئےدرختوں میں گھرا ہوا کالج پتہ چلا گیسٹ روم اوپر ہیں اور جب ہم اوپر اوپر مسلسل بلندی کی طرف چڑھتےجارہے تھےجہاں آس پاس گھنا جنگل تھااوربلندی سے ملکہ کوہسار مری کے دل موہ لینے والے مناظر تو ہم دل ہی دل میں خوش ہو رہے تھے کہ یہ جگ تو اس سے بھی اچھی دکھائی دے رہی ہے اوپر ٹاپ پر پہنچے تو چاروں طرف مختلف ناموں کے گیسٹ روم تھے سامنے ہی بچوں کی دلچسپی کا سامان لئے دکان تھی بچوں نے آئس کریم اورہم نے کافی لی اور ساتھ رکھےبینچ پر بیٹھ کر پینے لگے اتنے میں اسد نے کہا چلیں امی ‘ہمارے کمرے نیچے کشمیر لاجز میں بک ہیں مگر سیڑھیاں دیکھ کر ہی دل بیٹھ گیا خیر ریلنگ کا سہارا لے کر جیسے تیسے سیڑھیاں اتر گئی
یہ الگ سےہٹ بنا ہوا تھا کیا یہ وی آئی پی روم ہیں؟ ہاں باہر لکھا ہوا نہیں کیا
کمرے میں ہرسہولت موجود تھی مگر دل تنگ ہونے لگا وحشت سی ہونے لگی یم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور متفقہ فیصلہ کیا کہ یہاں رہنے سےبہتر ہے کہ واپس چلیں کچھ دیر نتھیاگلی رک کر سیدھا ایبٹ آباد
راستے میں بندروں کی ٹولیوں اورمختلف مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوے گھر پہنچےتو رب العزت کا بہت بہت دل سے شکر ادا کیا کہ لطف اندوز ہوتے ہےاور خوشگوار یادیں لیے بخیریت گھر واپس آئے

نصرت نسیم۔ ایبٹ آباد

SHARE

LEAVE A REPLY