ذہنوں کو بدلنے والے ہیں ہم
کانٹوں کی زباں مسلنے والے ہم
سو بارحریفوں نے ہمیں دیکھ لیا
تلوار کی طرح چلنے والے ہیں ہم
اردو کے نامور شاعر، مرثیہ نگار، نقاد، محقق اور مؤرخ ’ڈاکٹرسید صفدر حسین احوال اور آثار‘ ڈاکٹر زرین حبیب کی کتاب کی ایک پر وقار تعارفی تقریب لاہور کے جم خانہ کلب میں منعقد ہوئی۔
پی ایچ ڈی کے مقالے
’ڈاکٹرصفدر حسین، احوال و آثار‘ کی مصنفہ زرین حبیب نے بتایا کہ ’تحقیق کے اس پر خار دشت میں سفر کے آغاز پر سب سے پہلے میں نے صفدر حسین کی اہلیہ جمیلہ خاتون سے ملاقات کی.
یہ ملاقات کرانے میں میرے مقالے کے نگران ڈاکٹر سعید مرتضے زیدی مرحوم کی بھر پور معاونت حاصل رہی. انھوں نے جمیلہ خاتون سے میرا تعارف کروایا اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ بیگم صفدر حسین کی اہلیہ جمیلہ خاتون نے نہایت شفقت سے اہنے نامورادیب شوہر کے کام کو آگے بڑھانے میں اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا. بلکہ مجھ سے یہ بھی کہا کہ آپ یہ کام ضرور مکمل کیجیے گا کہ میرے شوہر نے اردو ادب میں جتنا کام کیا وہ سامنے نہیں آسکا، اور انھیں وہ پذیرائی نہیں مل سکی جو ان کا حق تھا. کئی لوگوں نے اس کام کا ارداہ کیا مگر اس راہ پر تھوڑی دور چل کر راستہ ہی چھوڑ بیٹھے. انھوں نے یہ بھی کہا کہ میری دعا ہے آپ یہ کام میری زندگی میں مکمل کر لیں.
مجھے از حد افسوس ہے کہ میں ان کی زندگی میں یہ مقالہ مکمل کرنے کی ان کی خواہش پوری نہیں کر سکی مگر میں خود کو سرخرو محسوس کرتی ہوں کہ میں نے ان سے کیا ہوا اپنا وعدہ نبھایا. اور یہ مقالہ کتاب کی شکل میں آپ کے سامنے ہے‘

زرین حبیب کے استاد محترم تاریخی اورینٹل کالج کے سابق پرنسپل اورادب کی دنیا کا ایک بڑا نام خواجہ ذکریا نے کہا کہ زرین کو یہ پی ایچ ڈی بہت پہلے کر لینی چائیے تھی.

متعدد کتابوں کے مصنف ادب نواز معروف شخصیت پروفیسر حسن عسکری نے ڈاکٹر صفدر حسین کے ساتھ گزرے اپنے ذاتی لمحات کا ذکر کیا اور بتایا کہ اعلی عہدے پر ہونے کے باوجود وہ ایک درویش صفت‘ ایماندار اور سادا انسان تھے.

لاہور کالج یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر عظمت رباب نے پی ایچ ڈی مقالے ’ڈاکٹرسید صفدر حسین احوال اور آثار‘ کے بارے میں کہا اسے پڑھ کر اندازہ ہوا کہ زرین حبیب نے بہت گہرائی میں جاکر بہت محنت سے صفدر حسین کے ہر رخ کی تصویر کشی ہے
محقق، مصنف ، مدیر‘ شاعر اور مرثیہ نگار صفدر ہمدانی نے اپنے مقالے میں لکھا کہ
ڈاکٹر صفدر حسین جو اردو کے نامور شاعر، نقاد، محقق اور مؤرخ تھے۔ زرین حبیب نے ڈاکٹر صفدر حسین کا انتخاب کر کے قلم اور قلم کار سے انصاف کیا ہے۔ وہ اس لیئے کہ میری ذاتی رائےمیں ڈاکٹر صفدر حسین کو جو مقام ملنا چاہیئے تھا وہ نہیں ملا اور اس

معاشرے بلکہ ہمارے ادبی معاشرے میں یہی رویہ ڈاکٹر صفدر حسین کے جینون یعنی حقیقی تخلیق کار ہونے کی دلیل ہے.
بیٹی روبینہ ادب کی دنیا کے روشن ستارے اپنے والد محترم صفدر حسین کے بارے میں یہ بتاتے ہوئے جذباتی ہوگئیں کہ باہر وہ کچھ بھی تھے مگر گھر میں وہ ایک بہت سادا سے انسان اور اور محبت کرنے والے باپ تھے

شاعر طارق واسطی نے صفدر حسین پر اپنی نظم سنا کر خوب داد سمیٹی.
خواتین و حضرات کے علاوہ شاعر کرامت بخاری ، معروف افسانہ نگار اور ادبی جریدے تجدید نو کی مدیرہ عذرا اصغر‘ اور ان کی
بیٹی شاعرہ اور مدیرہ شیبا نے بھی شرکت کی۔
ادبی تقریب کی نظامت سابق پرنسپل اور معلم گلناز زیدی نے کی انھوں نے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے ادب نواز شرکا کی آمد کا شکریہ ادا کیا اورکہا اللہ نے انسان کو علم و حکمت اور قوت زبان و بیان سے نوازا ہے اور بندے کا قلم سے یہ رشتہ دراصل قرب الہی کا ہی عکاس ہے

ڈاکٹر زرین حبیب کی مکمل تقریر کا متن
معزز حاضرین مجلس، اسلام علیکم
میرے یہ باعث مسرت و افتخار ہے کہ آج کی اس مجلس میں میرے استاد محترم خواجہ ذکریا صاحب کے ساتھ ڈاکٹر صفدر حسین کی دختر روبینہ مسعود، ان کے شوہر مسعود حیدر زیدی اور ان کے نواسے زین مسعود بھی تشریف فرما ہیں.
پی ایچ ڈی کرنا میری دیرینہ خواہش تھی
اس سلسلے میں لاہور کالج یونیورسٹی کی وائس چانسلر بشرا متین مرحومہ کا مکمل تعاون حاصل رہا، پروردگا انھیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے
اس کٹھن سفر کے آغاز میں میرے لئے موضوع تلاش کرنا سب سے پہلا اور مشکل مرحلہ تھا اس کے لئے میں اپنے استاد گرامی ڈاکٹر خواجہ ذکریا کی بہت شکر گزار ہوں جنھوں نے ڈاکٹر صفدر حسین پر مقالہ لکھنے کی ترغیب دی.اور اس سلسلے میں میری ہر ممکن رہنمائی کی. جس کے بعد اس مقالے کا ابتدائی خاکہ برائے منظوری بورڈ آف سڈیز کے سامنے پیش ہوا.
میں ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار مرحوم کی تہہ دل سے ممنون ہوں جنھوں نے اس وقت بورڈ آف سڈ یز کے سینئیر ممبر کی حیثیت میں میرے مقالے کے موضوع کی بھر پور حمایت کی.
اور صدر شبعہ اردو ڈاکٹر شگفتہ ذکریا کی حوصلہ آفزائی سے میرا خاکہ برائے پی ایچ ڈی منطور ہوگیا. یوں میں نے تحقیق کے پر خار دشت میں قدم رکھا
ڈاکتر صفدر حسین بلاشبہ اردو ادب میں تخلیق، تاریخ اور تنقید کے حوالے سے ایک مستند اور معتبر نام ہیں۔ وہ ایک ہمہ جہد ادیب اور شاعر ہیں. انھوں نے ۱۹۳۲ میں غزل گوئی کا آغاز کیا مگر بعد میں نظم نگاری کی دنیا میں رومانیت کے علم بردار بن کر ابھرے.
وہ مرثیہ نگاری میں بھی ایک منفرد مقام رکھتے تھے.
انھوں نے تحقیق کے سمندر میں ڈوب کر ایسے ایسے عظیم مرثیہ نگاروں کے کام کا کھوج نکالا جن کا فن گرد الواد ہوچکا تھا.
ان کی ریڈیائی تقاریر کا ایک ذخیرہ بھی علمی اور ادبی سرمائے کی زینت ہے.
تاریخ ، تٰحقیق اور تنقید سے انھیں والہہانہ عشق تھا.سادات بارہہ کی تاریخ لکھنا ان کا ایک اہم کارنامہ ہے جو تاریخ کی ایک اہم دستاویز بھی ہے.
تبصرہ نگاری میں بھی انھیں بہت دلچسپی تھی.انھوں نے بہت سے دانشوروں کی کتابوں پر تبصرے کئے
اگرچہ انھوں نے متفرق اصناف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن نثر نگاری میں تاریخ، تحقیق اور تنقید کا کام ان کی ایک بڑی پہچان ہے.
لیکن اس مقالے کی تحقیق کے دوران میں نے شدت سے یہ محسوس کیا کہ ان کی ان تما م نمایاں صفات اور خدمات کے باوجود اردوادب کے نقاد حضرات کی ایک غالب اکثریت نے ڈاکٹر صفدر حسین کے کام کو نظر انداز کیا.مرثیہ نگاری کے سوا کسی بھی اور صنف میں ان کا بہت کم ذکر ملتا ہے. میرے خیال میں اس کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ ملازمت کی وجہ سے ادبی مرکز لاہور سے دور رہے،اور ملازمت میں اعلی عہدوں کے باعث سیاسی مسائل کا شکار بھی رہے. اس کے علا وہ ان کی شخصیت کی صاف گوئی بھی ایک رکاوٹ بنی۔ تاہم انھیں خراج عقیدت پیش کرنے والے دانشوروں کی بھی کمی نہیں. اس سلسلے میں دو کتابیں ’ آواز پا اور نقش قدم‘ اس کا ثبوت ہیں
میں نے اپنے تحقیقی کام کے آغاز میں ڈاکٹر صفدر حسین کے اہل خانہ ، شاگردوں اور ان کی ہم عصر شخصیات ڈاکٹر وحید قریشی، انتظار حسین، ڈاکٹر سلیم اختر اور ڈاکٹر وزیر آغا سے رجوع کیا اور صفدر حسین کے بارے میں ان سے سیر حاصل گفتگو کی.
سب سے پہلے میں نے صفدر حسین کی اہلیہ جمیلہ خاتون سے ملاقات کی. یہ ملاقات کرانے میں میرے مقالے کے نگران ڈاکٹر سعید مرتضے زیدی مرحوم کی بھر پور معاونت حاصل رہی. انھوں نے جمیلہ خاتون سے میرا تعارف کروایا اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ بیگم صفدر حسین کی اہلیہ جمیلہ خاتون نے نہایت شفقت سے اہنے ادیب شوہر کے کام کو آگے بڑھانے میں اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا. بلکہ مجھ سے یہ بھی کہا کہ آپ یہ کام ضرور مکمل کیجیے گا کہ میرے شوہر نے اردو ادب میں جتنا کام کیا وہ سامنے نہیں آسکا، اور انھیں وہ پذیرائی نہیں مل سکی جو ان کا حق تھا. کئی لوگوں نے اس کام کا ارداہ کیا مگر اس راہ پر تھوڑی دور چل کر راستہ ہی چھوڑ بیٹھے. انھوں نے یہ بھی کہا کہ میری دعا ہے آپ یہ کام میری زندگی میں مکمل کر لیں.
مجھے از حد افسوس ہے کہ میں ان کی زندگی میں یہ مقالہ مکمل کرنے کی ان کی خواہش پوری نہیں کر سکی مگر میں خود کو سرخرو محسوس کرتی ہوں کہ میں نے ان سے کیا ہوا اپنا وعدہ نبھایا. اور یہ مقالہ کتاب کی شکل میں آپ کے سامنے ہے
اس کے آٹھ ابواب ہیں
پہلا باب صفدر حسین کے احوال و آثار پر مشتمل ہے جس میں ان کے آباؤ اجداد اور شجرہ نسب کا تذکرہ ہے
جو مختلف کڑیوں سے ملتا ہوا حضرت علی ابن ابی طالب سے جا ملتا ہے
باب دوم منظر نامہ سے منسوب ہے۔
اس میں نہایت اختصار سے صفدر حسین کے عہد کے سیاسی، سماجی اور ادبی حالات کا جائزہ لیا گیا ہے
باب سوئم صفدر حسین کی نظم نگاری سے متعلق ہے. جس میں اردو نظم کے ارتقائی منازل کے ذکر کے ساتھ صفدر حسین کی ان کوششوں کا تعین کیا گیا جو انھوں نے نظم معریٰ کے سلسلے میں انجام دیں.
باب چہارم میں صفدر حسین کی غزل گوئی کا جائزہ لیا گیا ہے. اس ضمن میں غزلوں کے شعری محا سن کے ساتھ ڈاکڑ صفدر حسین کی فنی کاوشوں کا ذکر ہے
باب پنجم ان کی مرثیہ نگاری سے متعلق ہے. جس میں ان کے مقام کا تعین کرنے کے لئے مرثیہ کے عہد بہ عہد مدارج کا ذکر کیا گیا ہے.
باب ششم کا تعلق اصناف شاعری کی متفرقات سے ہے۔ انھوں نے غزل نظم اورمرثیہ کے علاوہ دوسری اصناف میں بھی شاعری کی ہے
باب ہفتم میں میں نے صفدر حسین کی نثری خدمات کا جائزہ لیا ہے یہ باب تین حصوں میں تاریخ، تحقیق اور تنقید پر مشتمل ہے.
صفدر حسین نے اس میں اس قدر ادبی سرمایہ چھوڑا کہ یہ اردو ادب میں ان کی پہچان ہے.
آخری باب میں میں نے صفدر حسین کے مقام و مرتبے اور ان کی ادبی حثیت کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے.
بلاشبہ بیسویں صدی کے ادب میں وہ ایک بلند مقام پر ہیں.
میں نے ان کی شخصیت اور فن کو مکمل طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن تحقیق میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا.
آخر میں چند جملے مقالے کے نگران ڈاکٹر سعید مرتضےٰ زیدی مرحوم اور ان کی اہلیہ عشرت سلطانہ کے لئے ضرور کہنا چاہونگی. میں مرحوم مرتضے زیدی کے لئے ہمیشہ دعا گو رہونگی کہ انھوں نے اپنے ذاتی کتب خانے سے کتابیں مرحمت فرمائیں، میرے کام کو آسان بنایا اور اپنے قیمتی مشوروں سے مقالے کو مکمل کرنے میں مدد دی.
نہ صرف مرتضے زیدی بلکہ ان کہ اہلیہ عشرت سلطانہ نے مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی. یہ ان کی ادب نوازی اور اپنے شوہر کی ادبی خد مات میں بھر پور تعاون کا عکاس ہے میرے لئے الفاظ میں ان دونوں کا شکریہ ادا کرنا ممکن نہیں.یہ جو کتاب آپ کے سامنے ہےاس مقالے کی ا صل کاپی لاہور کالج یونیورسٹی کی لائیبریری میں موجود ہے،

رپورٹ ۔ماہ پارہ صفدر













