ساتویں قسط
کربلا کیوں بپا ہوئی
کس نے بساط بچھائی
میرے سوالوں کے جواب کچھ آسان تو نہ تھے
میں لوٹ رہی ہوں
اسی زمان و مکاں میں جہاں میرے جواب رکھے ہیں
اسلامی نظام حکومت کی بنیاد شورائیت پر تھی
کسی شخصی حکومت کے قیام کا کوئی جواز نہ تھا
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفائے راشدین
سب ادوار اس کی بہترین مثال تھے
حضرت امام حسن ابن علی علیہ السلام سے معاویہ نے معاہدہ کیا تھا
کہ ۔۔۔ وہ کسی کو خلیفہ نامزد نہ کریں گے
مگر معاویہ نے
یزید کو اپنا جانشین نامزد کرکےخلاف ورزی کی تھی
اور ۔۔۔ معاویہ کے مرنے کے بعد
یزید کی نامزدگی اور شخصی حکومت کا قیام ہو چکا تھا
ادھر سرزمین حجاز میں
ابھی تک
ایسے کبار صحابہ اور اکابرین موجود تھے
جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دور دیکھا تھا
ان کے لئے معاویہ کی غلط روایت قبول کرنا ممکن نہ تھا
وہ جانتے تھے
یزید کا ذاتی کردار ان تمام اوصاف سے عاری تھا
جو امیر یا خلیفہ کے لیے شریعت اسلامیہ نے مقرر کیے تھے
سیرو شکار و شراب و شباب
اور ۔۔ بندروں سےکھیلنا اس کے پسندیدہ شغل تھے
یزید نے تخت نشین ہونے کے بعد
حاکم مدینہ ولید بن عقبہ کو حکم دیا
اسے حسین ابن علی علیہ السلام کی بیعت چاہیئے
بحکم یزید حاکم مدینہ ولید بن عقبہ نے
امام حسین عليہ السلام اور عبداللہ بن زبیر کو قاصد کے ذریعہ بلایا
ابھی تک معاویہ کی وفات کی خبر مدینہ میں عام نہ ہوئی تھی
تاہم اس بلاوے کا مقصد امام عالی مقام نے سمجھ لیا تھا
ولید بن عقبہ نے
امام حسین عليہ السلام سے بیعت یزید طلب کی
آپ ع نے جواب میں کہا
“ میرے جیسا آدمی خفیہ بیعت نہیں کر سکتا
جب بیعت عام ہوگی اس وقت آ جاؤں گا “
ولید اس پر راضی ہو گیا لیکن مروان ناراض ہو گیا
وہ جانتا تھا یہ ایک سنہری موقع تھا جو ضائع ہو چکا
اور یہ بھی کہ ۔۔۔ امام عالی مقام سے
قیامت تک بیعت نہ لی جا سکے گی
امام حسین عليہ السلام سوچ رہے تھے
اگر وہ مدینہ میں مقیم رہتے ہیں ۔۔ تو
بیعت کے لئے انہیں بار بار مجبور کیا جائے گا
سو وہ27 رجب 60 ہجری میں مع اہل و عیال مکہ روانہ ہو گئے
اور ۔۔۔ شعب ابی طالب میں قیام کیا
مکہ پہنچتے ہی اہل کوفہ نے
امام ع کو سینکڑوں خطوط لکھے ، کوفہ آنے کی دعوت دی
خلافت اسلامیہ کے قیام کی جدوجہد کے آغاز کی باتیں کیں
امام حسین عليہ السلام نے
کوفیوں کے خطوط آنے کے بعد اصل صورت حال جاننے کے لئے
مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا
جاری ہے













