احسان دانش اردو کے مقبول مزدور شاعر 41برس قبل ہم سے جُدا ہوئے

0
3898

احسان دانش (1914 کاندھلہ – 1982)، پیدائشی نام احسان الحق، اردو کے مقبول شاعر تھے۔ انہوں نے صرف پانچویں حماعت تک تعلیم حاصل کی تھی، اس کے بعد وہ مزدوری کر کے اپنا گزر بسر کیا کرتے تھے۔ احسان دانش نے لاہور آکر شاعری کا آغاز کیا۔

ان کی شاعری قدرت کی اور اس ماحول کی عکاسی کرتی ہے جس میں انہوں نے مزدوری کی۔ چونکہ وہ خو د مزدور تھے اس وجہ سے مزدور اورکمزور طبقہ کے لوگوں کے درد کو محسوس کرتے تھے

نمونہ شاعری

نظر فریب قضا کھا گئی تو کيا ہوگا
حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہوگا

بزعم ہوش تجلی کی جستجو بے سود
جنوں کی زد پہ خرد آگئی تو کیا ہوگا

نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہيں مگر
نئی سحر بھی جو کجلا گئی تو کیا ہوگا

نہ رہنماؤں کی مجلس ميں لے چلو مجھ کو
ميں بے ادب ہوں ہنسی آگئی تو کیا ہوگا

غم حیات سے بیشک ہے خود کشی آساں
مگر جو موت بھی شرما گئی تو کیا ہوگا

تصانیف

ابلاغ دانش
تشریح غالب
آواز سے الفاظ تک
فصل سلاسل
زنجیر بحران
ابر نیسان
میراث مومن
اردو مترادفات
درد زندگی
حدیث ادب
لغت الاصلاح
نفیر فطرت

خودنوشت

جہان دانش
جہان دیگر

 

 

نامور شاعراحسان دانش کو ہم سے بچھڑے 41برس بیت گئے۔
احسان دانش کا اصل نام احسان الحق تھا۔ وہ 2فروری 1914کو کاندھلہ (بھارت)میں پیداہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ہجرت کرکے لاہور آگئے اور یہاں محنت مزدوری کرتے رہے۔وہ عربی ،فارسی سمیت بہت سی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔

ان کی کتابوں کی تعداد 80سے زیادہ ہے جن میں شاعری، نثر،لسانیات قابل ذکرہیں۔

ان کی خودنوشت ” جہان دانش “ کے نام سے منظرعام پرآئی ۔احسان دانش عمارتوں پر سفیدیاں کرتے تھے۔پنجاب یونیورسٹی کی تعمیرکے دوران انہوں نے اس یونیورسٹی میں بھی سفیدی کی ۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا۔ ان کا انتقال 21مارچ1982کولاہور میں ہوا۔

SHARE

LEAVE A REPLY