تہذیبِ عزاداری میں نوحہ خوانی کامقام ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔نوحہ کا بنیادی مقصد گریہ و ماتم ہے ۔اِس لئے نوحوں میں حسنِ بیان مضمون آفرینی بجائے فطری انداز میں واقعاتِ شہادت کوقلمبند کرنے اوراس واقعہ کی رثائی پہلوؤں کو اُجاگر کرنے پر زیادہ زور دیاجاتاہے۔لیکن اسکے باوجود موجودہ دور میں نوحوں کا دامن ندرتِ مضامین اورحسن زبان وبیان سے خالی نہیں ہے ۔نوحہ کاتاثر پڑھنے والے کے لحن اور اُس کی آواز کے سُوز وگداز سے اُبھرتا اور نکھرتا ہے ۔نوحہ کی مقبولیت کاراز اُس کی سادگی ،اثر افرینی اور پُر سُوز ادائیگی میں مضمر ہے ۔
سید حُنین رضا زیدی جب کوئی نوحہ یا منقبت پڑھتے ہیں تو اُنکا اپنا مفرد انداز ہوتا ہے۔
سید حُنین رضا زیدی جو نہایت کم عمری سے ہی نوحہ خوانی کے سے جڑ گئے۔سید حُنین رضا زیدی کراچی پاکستان میں پیدا ہوئے۔ابھی اِن کی عمر اٹھارہ سال ہے۔نہایت عاجزی اور احترام کے تقاضوں کے ساتھ نوحہ پڑھتے ہیں۔اُن کے گلے میں بلا کا سُوز ہے۔جب وہ نوحہ پڑھتے ہیں تو حاضرین گریہ و ماتم سے سر پیٹ لیتے ہیں۔اور بہت ہی کم عمر ی میں مولا کے کرم سے نوحہ خوانی و منقبت میں تیزی سے مقام پا رہے ہیں۔ہندوستان،پاکستان کے نامور شعراء کا کلام بڑی عاجزی و انکساری خلوص کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔کراچی کے نشتر پارک کی مجالس ہوں یا کسی گاؤں،گوٹھ کی مجالس و منقبت کی محفل ہو ں حُنین رضا کی شرکت یقعنی ہوتی ہے۔
اپنی انتھک محنت اور لگن سے حُنین رضا ملکی اور بین الاقوامی شہرت کی طرف گامزن ہیں۔مولا سے دعا ہے کہ حُنین رضا اِیسے ہی عاجزی و انکساری سے نوحہ خوانی کرتے رہیں۔
تیرہ رجب کو سید حُنین رضا زیدی کی پہلی ریکارڈنگ منقبت “حضرت حیدر کے باب میں “میں آرہی ہے۔نہایت خوبصورت کلام اور خوبصورت آواز میں حُنین رضا نے پڑھا ہے۔اِس حسین کلام کی ترز اُستاد رضا شاہ صاحب نے بڑے خلوص کے ساتھ بنائی ہے۔اُستاد رضا شاہ صاحب کی توفیقات میں مولا اضافہ فرمائے۔سید زیشان مہدی رضوی صاحب جو فروغ عزاداری کے لئے ہمیشہ آگے ہوتے ہیں۔اُن کی محبتوں کی بدولت سید حُنین رضا زیدی کی ریکارڈنگ ہوئی۔مولا سید زیشان مہدی رضوی صاحب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
تحریر۔۔۔۔ آفتاب احمد
کراچی پاکستان













